نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ این سی ای آر ٹی کی کتابوں کے نصاب میں تبدیلی پر وزیر اعظم نریندر مودی کا غصہ مصنوعی ہے اور اگر ان کا غصہ مصنوعی نہیں ہے تو انہیں نصاب میں تبدیلی سے متعلق پورے معاملے کی تحقیقات کرانی چاہیے۔جمعہ کو ایک بیان میں کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ مسٹر مودی نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی کتابوں کے معاملے پر مصنوعی غصہ ظاہر کر رہے ہیں۔ وہ نصاب میں تبدیلی پر محض اپنی ناراضگی کا دکھاوا کررہے ہیں۔انہوں نے مسٹر مودی کی ناراضگی کو صورت حال پر قابو پانی کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا، "واضح طور پر ایک ڈیمج کنٹرول کوشش کی تحت یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ وہ این سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں میں عدلیہ کے تنقیدی حوالوں سے انتہائی ناخوش ہیں۔ پچھلی دہائی کے دوران، انہوں نے ایسے ماہرین تعلیم اور چھولا چھاپ اکیڈمکس کی قیادت کی ہے، جنہوں نے اپنے نظریاتی وائرس سے نصابی کتابوں کو متاثر کرکے سنگین نقصان پہنچایا ہے۔ یہ کوئی حادثاتی چوک نہیں، بلکہ ایک منصوبہ بند نظریاتی دراندازی کی مہم کا حصہ ہے۔” کانگریس لیڈر نے وزیر اعظم پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ نصاب کا فیصلہ ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹر میں ہوتا ہے جس سے مسٹر مودی خود وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا، "مسٹر مودی خود ناگپور کمیونل ایکو سسٹم فار ری رائٹنگ ٹیکسٹ بک حقیقی این سی ای آرٹی – کو سمت اور تشکیل دیتے رہے ہیں۔مسٹر رمیش نے کہا کہ سپریم کورٹ کو مشتعل کرنے والی نصابی کتابوں سے خود کو دور کرنے کی ان کی کوشش محض ایک دکھاواہے۔ اب سپریم کورٹ کے لیے اگلا منطقی قدم یہ ہونا چاہیے کہ وہ اس بات کی تفصیلی تحقیقات کرائے کہ نصابی کتب کو کیسے دوبارہ لکھا گیا اور وہ کس طرح پولرائزیشن اور سیاسی حساب کتاب چکانے کے اوزار میں تبدیل کی گئی۔












