بہار شریف (پریس ریلیز) شیخ طریقت رئیس التحریر عالم ربانی حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ کے عرس چہلم کے موقع پر مسلم ڈپو لیمنٹ کمیٹی نالندہ ، تنظیم اہلسنت بہار شریف اور آستانہ حضرت مخدوم جہاں کے خدام کی جانب سے حضرت علامہ اصدق علیہ الرحمہ کے مزار پر انوار پر چادر پوشی کی گئی ، اس موقع پر مسلم ڈپو لیمنٹ کمیٹی کے صدر اور آستانہ حضرت مخدوم جہاں کے خادم جمیل اشرف جمالی نے کہا کہ کسی بزرگ عالم کی وفات صرف ایک فرد کا دنیا سے رخصت ہونا نہیں ہوتا بلکہ علم و حکمت کے ایک روشن چراغ کا بجھ جانا بھی ہوتا ہے اور انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ اپنی پوری زندگی علم کی خدمت لوگوں کی رہنمائی اور معاشرے کی اصلاح میں گزار دیتے ہیں جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ان کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے لیکن ان کی علمی خدمات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت کئی مدرسوں کے بانی اور درجنوں کتابوں کے مصنف رہیں ان سے ہمارا گھرانا تعلق رہا ہے ہمارے گھر بارہا حضرت کا آنا ہوا حضرت کے انتقال سے گہرا صدمہ ہوا اللّٰہ رب العزت ان کے درجات کو بلند فرمائے۔ وہیں تنظیم اہلسنت بہار شریف کے سکریٹری سید شہزاد عابدین قادری تیغی نے کہا کہ حضرت شیخ طریقت علیہ الرحمہ نے جو کارنامہ انجام دیا وہ ناقابلِ فراموش ہے ، حضرت علامہ اصدق علیہ الرحمہ دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن ان کی علمی ، دینی اور تصنیفی خدمات ہمیشہ زندہ رہے گی ، حضرت علامہ اصدق علیہ الرحمہ کے کارنامے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں جن سے موجودہ اور آنے والی نسلیں رہنمائی حاصل کرتی رہے گی ۔ اس موقع پر محمد توصیف عالم بہاری اصدقی نے کہا کہ کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جو اپنی خدمات اور قربانیوں کی بدولت عوام وخواص کے حلقوں میں زندہ رہتی ہیں ایسی ہی شخصیات میں ایک نمایاں ہستی شیخ طریقت ، رئیس التحریر حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ کی ذات تھی، آپ کی تحریریں ، تقاریر اور نصیحتیں آج بھی لوگوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے، مولانا موصوف نے کہا کہ حضرت نے شہر بہار شریف میں مدرسہ قائم کرکے دین و سنیت کا بڑا کام کیا ہے ان کی خدمات نے لوگوں کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ اور اہلِ سنّت کا جذبۂ صادق پیدا کیا۔












