لکھنؤ،سماج نیوز سروس: جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظمِ اعلیٰ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے جنرل سکریٹربری (سرکاریہ واہ) دتاتریہ ہوسبالے کے حالیہ بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کو سورج، ندی اور درخت کی پوجا کا مشورہ دینا یا تو اسلامی عقائد سے صریح لاعلمی کا مظہر ہے یا پھر دانستہ طور پر اشتعال انگیزی کی ایک ناکام کوشش۔ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے اس موقع پر واضح کیا کہ جمعیۃ علماء اتر پردیش، جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب کے موقف کی مکمل تائید کرتی ہے اور ان کے بیان کو ملک کی فکری و آئینی فضا کے لیے نہایت بروقت اور رہنما قرار دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلمان صدیوں سے اس ملک میں ساتھ رہتے آئے ہیں، اور اسلام کا بنیادی عقیدۂ توحیدیعنی ایک خدا پر ایمان اور صرف اسی کی عبادت ،کسی بھی صاحبِ فہم انسان سے پوشیدہ نہیں۔ توحید اور عقیدۂ رسالت اسلام کی اساس ہیں، جن سے ادنیٰ انحراف بھی مسلمان ہونے کے دائرے سے خارج کر دیتا ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کو خدا کے سوا کسی مخلوق کی عبادت کی دعوت دینا اسلامی عقائد کی صریح نفی ہے۔مولانا قاسمی نے کہا کہ وطن کی مٹی، فطرت، درخت، ندی اور قدرتی وسائل سے محبت اور ان کا تحفظ ایک الگ معاملہ ہے، جبکہ عبادت ایک خالص اعتقادی مسئلہ ہے۔ ان دونوں کو خلط ملط کرنا نہ صرف فکری انتشار کو جنم دیتا ہے بلکہ باہمی احترام اور مذہبی آزادی جیسے آئینی اصولوں کے بھی منافی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند اور اس کی صوبائی اکائیاں ہمیشہ خیر سگالی، مکالمہ اور باہمی احترام کی داعی رہی ہیں۔ ماضی میں بھی سنگھ کے ذمہ داران سے بات چیت کی کوشش کی گئی، غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے دروازے کھلے رکھے گئے اور آج بھی سنجیدہ مکالمہ کے لیے آمادگی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود بعض ذمہ داران کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ تشویشناک ہے۔ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جمعیۃ علماء کا اصولی موقف یہ ہے کہ بھارت میں قومیت کی بنیاد مشترکہ وطن ہے۔ اس ملک میں رہنے والے تمام باشندے، چاہے ان کا مذہب یا نظریہ کچھ بھی ہو، ایک قوم ہیں۔ قومیت کو کسی ایک مذہب، فرقہ یا مخصوص تہذیبی تصور سے جوڑنا ملک کے تکثیری مزاج کے خلاف ہے۔انہوں نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک کثیر تہذیبی ملک ہے، جہاں صرف ایک تہذیب کو قومیت یا راشٹرواد کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ قومیت کی واحد متفقہ بنیاد وطن اور آئین ہے۔ آخر میں مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے زور دے کر کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی، قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ تمام طبقات آئینی اقدار کا احترام کریں، مذہبی آزادی کو تسلیم کریں اور اشتعال انگیز بیانات کے بجائے سنجیدہ مکالمہ اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کریں۔












