ارریہ، بلقیس خاتون : مسلمان شادی بیاہ میں فضول خرچی بند کرکے اپنے بچوں کو تعلیم کی زیور سے آراستہ کریں۔ مذکورہ باتیں ضلع کے سمراہا تھانہ حلقہ کے تحت مدار گنج گاؤں میں الفاضل ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام البیان انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے سنگ بنیاد اور ایک روزہ عظیم الشان تعلیمی کانفرنس کے موقع پر فقیہ العصر مفتی محمد مطیع الرحمٰن رضوی اپنے خطاب میں کہہ رہے تھے۔ موصوف رضوی نے ایک نہایت جامع، پُراثر اور ولولہ انگیز خطاب فرمایا اور حاضرین کے دلوں میں دینی جذبہ اور علمی شوق کو تازہ کر دیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اس علاقے کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ تقریباً پچاس مرتبہ اس خطے میں تشریف لا چکے ہیں۔ انہوں نے گاؤں گاؤں جا کر دینِ اسلام کی تبلیغ کی۔ لوگوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے روشناس کرایا اور دینی بیداری کے لیے مسلسل جدو جہد کی۔ انہوں نے اپنے ابتدائی ایام کی مشقتوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت نہ کوئی خاص سہولت میسر تھی اور نہ ہی مالی وسائل بلکہ کئی مرتبہ بیل گاڑی کے ذریعے طویل سفر کرنا پڑا۔ بعض مواقع پر تو آنے جانے کا کرایہ بھی نصیب نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا اور کبھی ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس دوران انہوں نے متعدد علمی مناظرے اور فکری مباحثے بھی کیے، جن کا مقصد دین کی صحیح تعلیمات کو واضح کرنا اور باطل شبہات کا ازالہ کرنا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تقریباً پچیس سال تک ان کا اس علاقے میں آنا کم ہو گیا۔ جس کی وجہ سے ایک وقت ایسا آیا کہ امید کمزور پڑنے لگی تھی۔انہوں نے کہا کہ جب مولانا منظر الاسلام نے فراغت حاصل کی تو ایک نئی امید پیدا ہوئی کہ اس علاقے میں دینی خدمات کا سلسلہ دوبارہ مضبوط ہوگا۔ اگرچہ ان کے امریکہ جانے سے وقتی طور پر مایوسی ہوئی۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور وہ مایوسی ختم ہو گئی ہے۔اپنے بیان کے دوران مفتی مطیع الرحمن نے ایک بلیغ جملہ ارشاد فرمایا: "طوفان سے پہلے جو خاموشی ہوتی ہے۔ یہ درمیانی وقفہ اسی خاموشی کا نتیجہ تھا۔”اس جملے کے ذریعے انہوں نے واضح کیا کہ بظاہر خاموشی کے بعد ایک نئی بیداری اور انقلابی تبدیلی جنم لیتی ہے۔آخر میں مفتی مطیع الرحمن نے نہایت مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ یہ دیکھ کر بے حد خوش ہیں کہ اس علاقے میں علمِ نافع کے حصول کے لیے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں اور دینی تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اسے اس خطے کے روشن اور تابناک دینی مستقبل کی خوش آئند علامت قرار دیاالبیان انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ کے بانی و سربراہ ڈاکٹر سید منظر الاسلام نے آئے ہوئے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ میں نے دینی و عصری تعلیم کے زیور سے سیمانچل کا سب سے انتہائی پسماندہ علاقہ میں جو میں نے خواب دیکھا تھا اب مجھے لگ رہا ہیکہ میرا خواب شرمندۂ تعبیر ہو رہا ہے. اسکے لیےء اللہ کا جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہے۔ واضح رہے کہ علماء و مشائخ نے اس تعلیمی کانفرنس میں بہت پر اثر انداز میں دینی اور عصری تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔کانفرنس میں کلیدی خطاب بدایون شریف کے سجادہ نشین مولانا عبد الغنی محمد عطیف قادری، خانقاہ حسینیہ سرکار کلاں کچھوچھہ شریف کے صاحب سجادہ شہزادہ شیخ اعظم محمود اشرف، خانقاہ عمادیہ منگل تالاب پٹنی سیٹی کے سجادہ نشیں رئیس المشائخ، مولانا سید شاہ مصباح الحق عمادی، فقیہ النفس مفتی مطیع الرحمن مضطر رضوی، مولانا مسعود برکاتی، مولانا قمر احمد اشرفی اور ڈاکٹر افضل مصباحی نے کیا اور اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ موقع پر مولانا عبدالغنی محمد عطیف قادری سجادہ نشین خانقاہ قادریہ بدایوں شریف نے اپنے بیان میں فرمایا کہ دور حاضر میں ہمیں اپنے بچوں کو اور خاص طور سے اپنی بچیوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھانے کیلئے متحد ہوکر دینی و عصری تعلیمی ادارے کھولنے ہونگے اور اگر ہمارے پاس تعلیم ہوگی تو ہم کسی سے بھی مقابلہ کر سکتے ہیں۔ موقع پر مفتی قاضی فضل احمد مصباحی نے اپنے بیان میں فرمایا کہ جو لوگ تعلیم کے میدان میں قدم بڑھاتے ہیں وہ قابل مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے خاص طور سے مسلم معاشرے کی لڑکیوں کی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم پر بھی خاص توجہ مبذول کرائی۔ تاکہ بچیاں تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہوسکیں۔رئیسُ المشائخ سید شاہ مصباح الحق عمادی سجادہ نشین خانقاہِ عمادیہ منگل تالاب پٹنہ نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اس عظیم علمی و دینی اقدام کو سراہا۔ آپ نے خصوصاً مولانا منظر الاسلام کی کاوشوں کی تعریف فرمائی اور ان کے عزم و حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔آپ نے فرمایا کہ ہمارے والد ماجد حضرت سید شاہ فرید الحق عمادیؒ (سابق سجادہ نشین) جب اس علاقے میں تبلیغِ دین کے لیے تشریف لائے تو سب سے پہلے مدار گنج کو ہی اپنا مرکز بنایا۔ گویا مدار گنج کو تبلیغ کا مدار قرار دے دیا گیا۔ آج یہی امید کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مقام کو علم و معرفت کا بھی مرکز بنا دے۔لہٰذا تمام حضرات سے گزارش ہے کہ اس علمی ادارے کی ترقی و استحکام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ہر ممکن تعاون فراہم کریں تاکہ مولانا منظر الاسلام نے جس خواب کو دیکھا ہے وہ جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچ سکے۔جلسے کا اختتام رئیسُ المشائخ کی دعا پر ہوا۔ جس میں آپ نے البیان انٹرنیشنل کے لیے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اسے پورے علاقے اور اطراف و اکناف کے لیے باعثِ خیر و برکت بنائے۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے ایم ایم وی کے شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر افضل مصباحی نے کہا کہ تعلیم کامیابی کی کنجی ہے۔ مہذب بننے کے لیے، ترقی کرنے کے لیے اور ایک کامیاب شہری بننے کے لیے تعلیم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے عوام الناس سے اپیل کی کہ تمام مرد و خواتین تعلیم کے میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور دیش کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے سپنے دیکھنا ضروری ہے۔ سپنا وہ نہیں جو ہم سوتے ہوئے دیکھتے ہیں بلکہ حقیقی سپنا وہ ہے جو ہمیں سونے نہ دے۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے اس قول کو کوڈ کرتے ہوئے ڈاکٹر افضل مصباحی نے مرد و خواتین سے درخواست کی کہ وہ یہ خواب دیکھیں کہ اپنے بچے اور بچیوں کو تعلیم کے میدان میں زیادہ سے زیادہ آگے لے جائیں گے اور سماج کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے طالب علموں سے زیادہ سے زیادہ محنت کرنے اور منصوبہ بند طریقے سے تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا اور نیو ایجوکیشن پالیسی ۲۰۲۰ کی اہمیت کو بھی واضح کیا۔ان تمام علما و مشائخ نے عصر حاضر میں دینی اور دنیوی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اور البیان انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور سر پرست اعلی مولانا ڈاکٹر سید منظر الاسلام ازہری کے اقدام کو سراہا اور علاقے کے لوگوں کو ان کا تعاون کرنے کی ترغیب دی اور خود بھی اپنے تعان کی یقین دہانی کرائ۔ ان کے علاوہ مولانا شہر یار رضا قادری، مفتی زبیر عالم صدیقی، مولانا مصور رضا ، اور مفتی صابر رضا نے بھی خطاب کیا۔اس کانفرنس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔واضح رہے کہ موقع پر مشہور شاعر مولانا عسجد رضا خاں مصباحی، شہادت رضا حبیبی، محبوب ظفر دہلوی نے اپنی ترنم آواز سے رسالت مآب نعت پاک کا نذرانہ پیش کرکے لوگوں میں تازگی بخشی۔اخیر میں رئیسُ المشائخ سید شاہ مصباح الحق عمادی کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوا۔












