نئی دہلی :19فروری،پریس ریلیز ہمارا سماج:قومیں افراد سے بنتی ہیں،اگرافراد مخلص ہیں،تو قوم مخلص ہوگی،اگر افراد کامیاب ہے تو قوم کامیاب ہوگی،کوئی بھی انسان؛خواہ مسلمان ہو،یاہندو اگر وہ سچاہے،تو لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ آدمی تو سچاہے،یہ باتیں جمعیۃ علماء بانکا کے زیراہتمام ،آشرم میدان (بانکا) میںمنعقد قومی یکجہتی واصلاح معاشرہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے قائد وصدرمحترم جمعیۃ علماء ہند جناب مولاناسیدمحموداسعد مدنی صاحب کہیں۔نوجوانوں،آنے والی نسلوں کے تئیں بڑی فکرمندی کا اظہارکرتے ہوئے انہوں نے کہا: آج کا نوجوان اپنی ماں ،باپ کو بے عزت کرناشروع کردیاہے،اب تو پوزیشن یہ ہے کہ والدین کو بولنے سے پہلے سوچناپڑرہاہے،اب تو لوگ کہتے ہیں کہ ہم پہلے ماں،باپ سے ڈرتے تھے،اور اب اپنے بچوں سے ڈررہے ہیں،بہت زوردار اندازمیں انہوں نے کہا:ہمیں ایسے نوجوان نہیں چاہئیے،ہمیں ایسے جوان چاہئیے جو سوچنے والے ہوں،وقت پر جلدی سونے والے ہوں،صبح جاگنے والے ہوں،باکردارہوں،قوم وملت کے تئیں ہمدردی،خیرخواہی،اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے ہوں ، سن لیجئے،اگر آپ باکردارہیں، تو آپ زندہ ہیں،ورنہ چلتی،پھرتی لاش ہیں،انہوں نے قوم کے تئیں اپنے مفکرانہ خطاب میں اس بات پر بھی زوردیاکہ :اپنے آپ میں تبدیلی پیداکیجئے،یہ اللہ کا نظام ہے کہ آپ بدلیں گے تو زمانہ بدلے گا،اگرآپ نہیں بدلیں گے تو کچھ نہیں بدلے گا،بلکہ زمانہ روندکرچلاجائے گا،اگرچاہتے ہیں کہ سماج سدھرے تو آپ اپنے کو سدھارئیے،اور سن لیجئے دوسروں کو ٹھییک کرناہماری ذمہ داری نہیں ہے،اپنے آپ کو ٹھیک کرناہماری ذمہ داری ہے،میرے بھائی،بدلاؤ لانا پڑے گا،عمارت اگربوسیدہ ہے توبنیادکر مضبوط کرناپڑے گا،ارادوکرو،عزم کرو،مشکل کچھ بھی نہیں ہے۔طویل مدتی پالیسی پربھی انہوں نے توجہ دلائی،اور کہا:بچے ہمارے لئے سب سے بڑاقیمتی سرمایہ ہیں،بچے ضائع نہ ہو،اس طرف توجہ دیجئے،نسلوں کی حفاظت کیجئے،ان کے دین وایمان کی حفاظت کیجئے،علم،اخلاق،کردارسے انہیں مزین کیجئے،ہم کو ڈاکٹر نہیں آدمی بناناہے،اگر ہمارا بچہ ڈاکٹر بن گیا،لیکن آدمی نہیں بنا،تو وہ کسی کام کا نہیں،اگرآدمی بن گیا،اور ڈاکٹر نہیں بھی بنا،تو کوئی حرج نہیں، علماء،ئمہ،اہل مدارس کی توجہ بھی انہوں نے دلائی،اورکہا:سب سے بڑی ذمہ داری ہماری ہے،علماء کی ہے،ارباب مدارس کی ہے،جماعت کی ہے،جمعیۃ کی ہے،ائمہ کی ہے۔بڑے دردکے ساتھ انہوں نے یہ شعربھی پڑھا:سنے گا کون میری چاک دامنی کا افسانہ،یہاں سب اپنے پیرہن کی بات کرتے ہیں،اخیرمیں انہوں نے پھر ایک بار توجہ دلائی کہ نام کانہیں،کام مسلمان بنئے۔خواتین کے حقوق کی طرف بھی خاص طورسے صدرمحترم نے توجہ دلائی اورکہا:عورتوں کا خیال کیجئے،جس گھرمیں عورتوں کی عزت نہیں ہوتی ،اس گھرمیں نسلوں کی عزت نہیں ہوتی،بیویوں کا خیال کیجئے،انہیں غلام مت سمجھئے،ماہ رمضان المبارک کی آمد پر توجہ دلاتے ہوئے،رمضان کی آمد آمد ہے،اس کی تیاری شروع کیجئے۔قائد جمعیۃ کے مکمل خطاب سے ایسالگ رہاتھاکہ وہ اپنی قوم اور نوجوانوں کے تئیں بڑی فکروتڑپ رکھتے ہیں،نظامت کا فریضۃ جناب مولانا محسن اعظم قاسمی نائب صدرجمعیۃ علماء بانکا نے انجام دیا،جبکہ اجلاس کی صدارت جناب مولانااقبال احمدقاسمی صدرجمعیۃ علماء بانکا نے فرمائی،صدرجمعیۃ علماءہندکے علاوہ جناب مفتی جاویداقبال صاحب قاسمی صدرجمعیۃ علماء بہار،جناب مولاناخالدصاحب گیاوی ناظم دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند،مفتی خالدانورپورنوی المظاہری جنرل سکریٹری رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار،،مولاناعطاء الرحمن صاحب عطاء مفتاحی صدرجمعیۃ علماء بھاگلپور،جناب قاری نجیب الرحمن صاحب صدر جمعیۃ علما ء شہر مرادآباد،جناب مولاناجاویدصدیقی قاسمی کنوینرسدھ بھاؤنا منچ جمعیۃ علماء ہند،مولانایسین رحمانی ،مہیشری بابواڈوکیٹ صدر سدھ بھاؤنا منچ جمعیۃ علما ء بانکا،ویگرموقرعلماء کرام نے خطاب فرمایا،جناب مولاناشاہ بازقاسمی نائب صدرجمعیۃ علماء بانکا،جناب علی امام صاحب جمعیۃ علماء بانکا،جناب مولاناحسن مظاہری خازن جمعیۃ علماء بانکا،جناب انجینئر نعمان احمدصاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء بانکا ودیگر مقامی نوجوانوں،بوڑھے بزرگوں نے اجلاس کو کامیاب بنانے میں اہم کردار پیش کیا،صدرمحترم کی رقت آمیز دعاء پر اجلاس اختتام پذیرہوا۔












