نئی دہلی (یو این آئی) کانگریس نے بدھ کو کہا کہ میڈیکل میں داخلے کے لیے منعقد ہونے والے این ای ای ٹی امتحان میں دھاندلی کی گئی ہے اور پارٹی اس کے خلاف 21 جون کو ملک گیر احتجاج کرے گی۔کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے اس سلسلے میں تمام ریاستی کانگریس صدور، کانگریس لیجسلیٹیو پارٹی کے لیڈروں، کانگریس کے تمام جنرل سکریٹریوں اور انچارج جنرل سکریٹریوں اور پارٹی تنظیموں کے سربراہوں کو ایک خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی این ای ای ٹی میں ہوئی دھاندلی کے خلاف جمعہ کو تمام ریاستی ہیڈکوارٹرز پر مظاہرہ کرے گی۔انہوں نے خط میں کہا کہ اس مظاہرے میں تمام سینئر لیڈروں کے ساتھ ساتھ پارٹی عہدیداروں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے ۔ این ای ای ٹی میں دھاندلی کے خلاف21 جون کو مظاہرہ کیا جائے گا۔کانگریس لیڈر نے خط میں کہاکہ "پارٹی کی ترجیح سب کے ساتھ انصاف کے لیے لڑنا ہے ۔ ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی جنگ ہم سب کی لڑائی ہے ۔ ہم طلباء کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کرتے رہیں گے ۔ جبکہ کانگریس کی اسٹوڈنٹس ونگ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے بدھ کو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے ) پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل داخلہ ٹسٹ (این ای ای ٹی) میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے ۔ ان کی تنظیم اس کے خلاف 24 جون کو پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرے گی۔ این ایس یو آئی کے صدر ورون چودھری نے آج یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد این ای ای ٹی امتحان کی شفافیت ختم ہو گئی ہے اور اس کی وجہ صرف این ٹی اے ہے ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس معاملے میں کئی لوگوں نے اپنے جرائم کا اعتراف کرنے اور گرفتاریوں کے باوجود وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کہہ رہے ہیں کہ کوئی غلط کام نہیں ہوا ہے ۔مسٹر چودھری نے کہا "ہم این ٹی اے پر پابندی لگائے جانے کا مطامطالبہ کرتے ہیں ۔ بی جے پی حکومت 2017 میں جب این ٹی اے لائی تھی تو کہا گیا تھا کہ اس سے امتحانات میں شفافیت بڑھے گی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ مجھے شبہ ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان خود این ٹی اے کے ساتھ پیپر لیک اسکینڈل میں ملوث ہیں۔ کیونکہ وہ 24 لاکھ بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر این ٹی اے کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نیٹ کے امتحان میں دھاندلی کے حوالے سے مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے پیپر لیک ہونے اور دھاندلی کے معاملے سے صاف انکار کیا، وہیں بہار میں کچھ بچوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں امتحان سے پہلے ہی پرچے مل گئے تھے ۔ یعنی یہ گھوٹالہ صرف گریس مارکس تک ہی محدود نہیں ہے ، لیکن پھر بھی دھرمیندر پردھان این ٹی اے کو لگاتار بچا رہے ہیں۔مسٹر چودھری نے کہا ‘‘ہم نے این ٹی اے پر تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ این ٹی اے خود اپنے اوپر لگے الزامات کی جانچ کر رہا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ گجرات پولس نے نیٹ دھاندلی کے معاملے میں جو گرفتاریاں کی ہیں ان کو بھی بلینک چیک ملے ہیں۔ یہ بلینک چیک بچوں سے ان کے نمبر بڑھانے کے نام پر لیے گئے ۔ ہمارے کچھ ساتھی نیٹ کے طلباء وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے گھر پر پر امن احتجاج کر رہے تھے ۔ مظاہرے کے کچھ دیر بعد پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔ درحقیقت این ٹی اے کے خلاف جو ایف آئی آر درج ہونی چاہیے تھی وہ ہمارے ساتھیوں کے خلاف درج کی گئی ہے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ ہم طلباء کی حمایت نہ کریں۔ انہوں نے کہا "ہم نیٹ امتحان میں دھاندلی کے بارے میں مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔ 24 جون کو ‘ ہم اسٹوڈنٹ پارلیمنٹ کے گھیراؤ’ میں جا رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ این ٹی اے پر پابندی لگائی جائے ، نیٹ کا امتحان دوبارہ کرایا جائے ، دھاندلی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ، وزیر اعظم نریندر مودی نیٹ دھاندلی پر خاموش ہیں۔ یہ وہ وزیر اعظم ہیں جو امتحان سے پہلے ‘امتحان پر بحث’ کرتے ہیں۔ اب انہیں پیپر لیک پر بات کرنی چاہیے ۔












