تہران، (یو این آئی) ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ ہمیں دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کسی صورت قبول نہیں۔سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرکے صدرٹرمپ خود فریبی کا شکار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرلیں گے یا نئی جنگ جوئی کا جواز پیدا کرلیں گے۔قالیباف نے واضح کیا کہ مذاکرات کی میز پر دباؤ کے حربہ سے نتائج نہیں ملتے، ایران دھمکیوں کےسائے میں مذاکرات کی پیش کش قبول نہیں کرتا، پچھلے دو ہفتے کے دوران ایران نے میدان جنگ میں نئے پتے دکھانے کیلئے خود کو تیار کرلیا ہے۔ ادھر ایران کے نائب وزیرخارجہ سعید خطیب زادے نے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ حد سے بڑھ کر کیے جانے والے مطالبات ترک کرے اور ایرانی عوام کے حقوق کا مکمل احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جنگ کرکے دیکھ چکا اور ممکن ہے کہ وہ جنگ کے راستے پر رہ کر کچھ حاصل کرنے کی سوچ میں ہو مگر اس بحران کا واحد حل سفارتکاری ہے۔












