نئی دہلی۔ ایم این این۔نیپال اور بھارت نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی دوروں سے قبل مشترکہ ترجیحات طے کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کو نئی سمت دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق، یہ اتفاق رائے ششر کھنال اور ڈاکٹر ایس جئے شنکرکے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آیا، جو ماریشس میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر ہوئی۔ نیپالی وزیر خارجہ کے مطابق، دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ پہلے جاری منصوبوں اور پروگرامز کا جائزہ لیا جائے، انہیں بہتر بنایا جائے اور نئی تعاون کی راہیں تلاش کی جائیں، اس کے بعد ہی وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ کی سطح پر دوروں کا انعقاد کیا جائے گا۔ نیپال اور بھارت کے درمیان تقریباً تین درجن دوطرفہ میکنزم موجود ہیں، جن میں سیکیورٹی، سرحدی امور، پانی کے وسائل، تجارت اور زراعت جیسے شعبے شامل ہیں۔ تاہم ان میں سے کئی فورمز طویل عرصے سے غیر فعال یا سست روی کا شکار ہیں، جنہیں دوبارہ فعال بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، نیپال پہلے اپنی ترجیحات واضح کرے گا، جس کے بعد بھارت اپنے خارجہ سیکریٹری وکرم مشری کی قیادت میں ایک وفد کو کٹھمنڈو بھیجے گا تاکہ تکنیکی سطح پر بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ملاقات میں دونوں فریقین نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا، جن میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ایندھن کی فراہمی اور کھاد کی دستیابی جیسے مسائل شامل تھے، جو خطے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق، یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نیپال اور بھارت اپنے تعلقات کو رسمی بیانات کے بجائے عملی اقدامات اور زمینی نتائج پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں، تاکہ شراکت داری کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔












