غزہ (ہ س)۔حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کی طرف سے اشدود اور عسقلان شہروں پر راکٹوں سے بمباری کے اعلان کے بعد اسرائیل نے فلسطینی تحریک کے خلاف ایک طاقتور حملہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اتوار کو غزہ کی پٹی سے 10 راکٹ فائر کیے جانے کے بعد ’سخت جواب‘ کا حکم دیا۔دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم نے سخت ردعمل کا حکم دیا اور غزہ میں حماس کے خلاف شدید اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ بیان میں اشارہ دیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے واشنگٹن جاتے ہوئے طیارے سے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز سے بات کی۔اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ فوج کو کارروائیوں کو بڑھانے اور حماس کو سخت دھچکا پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم اسرائیل کی طرف میزائل داغے جانے کو قبول نہیں کریں گے‘۔بیان کے جاری ہونے کے چند منٹ بعد اسرائیلی فوج نے وسطی غزہ میں دیر البلح کے متعدد محلوں کے مکینوں کو انخلا کی وارننگ جاری کی۔ اس نے دعویٰ کہا کہ اس علاقے سے راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے غزہ کی پٹی کے تمام رہائشیوں سے الصحابہ، السماح، العودہ، الزوائدہ اور الصلاح کے محلوں میں رہنے والوں سے المواصی کی طرف بڑھنے کی اپیل کی ہے۔اویچائی نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر لکھاکہ "ہم ہر اس علاقے پر بڑی طاقت سے حملہ کریں گے جہاں سے راکٹ داغے جائیں گے”۔اسی دوران العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے شدید بمباری جاری ہے۔اس سے قبل اتوار کو اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ غزہ کی پٹی سے تقریباً 10 راکٹ فائر کیے گئے ہیں، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ان میں سے بیشتر کو روک لیا گیا ہے۔اسرائیل کے چینل 13 نے اطلاع دی ہے کہ عسقلان پر راکٹ حملے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارت صحت نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ سات اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی بمباری سے جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 50,695 ہو گئی ہے اور 115,338 زخمی ہو گئے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت نے اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ایک پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ 18 مارچ سے اب تک ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔












