میلبورن، (یو این آئی) آسٹریلیا کے لیجنڈری لیگ اسپنر شین وارن کی اچانک موت کے چار سال بعد ایک بار پھر ان کے انتقال کی وجوہات پر بحث چھڑ گئی ہے، جس میں ان کے بیٹے کے حالیہ بیان نے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔52 سالہ شین وارن 2022 میں تھائی لینڈ کے ایک ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے، اور اس وقت جاری ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ قرار دی گئی تھی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق تاہم حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کے بیٹے جیکسن وارن نے کہا کہ ان کے خیال میں کووڈ-19 ویکسین ان کی موت کی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے، اگرچہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان کے والد کو پہلے سے کچھ صحت کے مسائل لاحق تھے۔جیکسن کے مطابق جب انہیں اپنے والد کی وفات کی خبر ملی تو انہوں نے فوری طور پر حکومت اور ویکسین کو موردِ الزام ٹھہرایا، تاہم بعد میں انہوں نے ان خیالات کو عوامی سطح پر بیان نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ شین وارن نے متعدد ویکسین ڈوزز لی تھیں، حالانکہ وہ اس کے خواہشمند نہیں تھے بلکہ پیشہ ورانہ تقاضوں کے باعث ایسا کرنا پڑا۔جیکسن وارن کا کہنا تھا کہ وہ اب اس معاملے پر زیادہ غور نہیں کرتے کیونکہ اس سے غصہ بڑھتا ہے اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے اپنے والد کو ایک خوش مزاج اور بہتر حالت میں رہنے والا انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کی کچھ بری عادات تھیں، لیکن مجموعی طور پر وہ اچھی زندگی گزار رہے تھے۔












