نئی دہلی،سماج نیوز وسروس: دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے تحت، میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) نےکل رات دہلی کے رام لیلا میدان کے قریب ترکمان گیٹ واقع مسجد درگاہ فیض الٰہی کے اطراف تجاوز شدہ جگہ پر انہدامی کارروائی انجام دی۔یہ اطلاع آئی پی ایس جوائنٹ کمشنر آف پولیس مدھر ورما نے دی۔مسٹر مدھر ورما کے مطابق انہدامی کارروائی منظم طریقے سے انجام دینے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دہلی پولیس کی جانب سے وسیع تر انتظامات کیے گئے تھے۔ پورے علاقے کو نہایت احتیاط کے ساتھ 9 زونزمیں تقسیم کیا گیا تھا، جن میں سے ہر ایک کی نگرانی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس رینک کے ایک افسر کے سپرد کی گئی تھی۔ تمام حساس مقامات پر مناسب تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ انہدامی کارروائی سے قبل امن و امان کو یقینی بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے امن کمیٹی کے اراکین اور دیگر مقامی متعلقین کے ساتھ متعدد میٹنگیں کی گئیں نیز احتیاطی اور اعتماد سازی کے تمام تراقدامات کیے گئے تھے۔آئی پی ایس ورما کے مطابق انہدام کے دوران چند شرپسند عناصر نے پتھراؤ کر کے بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم صورتِ حال پر فوراً قابو پا لیا گیا، جس کے نتیجے میں بغیر کسی تصادم کے حالات معمول پر آ گئے۔عدالتی احکامات کےم طابق دہلی پولیس امن و امان کو یقینی بنانے کےلئےہر ممکن تدبیر کررہی ہے۔دارالحکومت دہلی کے ترکمان گیٹ میں واقع مسجد اور درگاہ فیض الٰہی احاطے میں واقع ڈسپنسری اور دیگر عمارت کے خلاف رات تقریباً ایک بجے انہدامی کارروائی کی گئی اور تقریباً صبح سات بجے تک دفعہ 144 اور 163 نافذ رہی۔ مسجد فیض الہی انتظامیہ کے خزانچی نے یو این آئی اردو کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً دو تین ماہ قبل نوٹس دیا گیا تھا، اس کے بعد تمام فیصلے جلد بازی میں لیے گئے اور ہمیں اپنا موقف رکھنے کے لیے مہلت بھی نہیں دی گئی۔ 7 جنوری بروز بدھ دہلی ہائی کورٹ میں تاریخ تھی اور آگے کے لائحہ عمل کے حوالے سے فیصلہ آنا تھا، لیکن سنوائی سے قبل ہی انہدامی کارروائی کر دی گئی۔ سماجی کارکن اور مقامی باشندہ شفیع دہلوی نے پوری کارروائی یکطرفہ قرار دیا اور کہا کہ یہ کارروائی سیوا فاؤنڈیشن کے کہنے پر کی گئی ہے۔ علاقائی باشندہ نواب الدین نے کاروائی کے حوالے سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ یکطرفہ کارروائی ہے، مسجد انتظامیہ کو بھی اپنا موقف رکھنے کی اجازت دی جانی چاہئے تھی۔ اس کارروائی کی وجہ سے مقامی لوگوں کو بے حد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور آمد و رفت میں دشواری ہو رہی ہے۔ جہاں یہ کارروائی انجام دی گئی وہیں علاقے کے کچھ لوگوں نے اس کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے درست قرار دیا لیکن کچھ دیگرباشندوں نے اس کارروائی کو جانبدارانہ بتاتے ہوئے اسے ناقابل قبول بھی قراردیا ۔ نوجوان طبقہ کا کہنا ہےکہ یہ کارروائی سراسر درست نہیں ہے تو وہیں علاقے کے بزرگوں نے اس کارروائی کو امن و امان کے تناظر میں دیکھتے ہوئے اسے صحیح قرار دیا۔ یو این آئی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے ایک نوجوان نے کہا کہ یہاں ایک ڈسپنسری بھی تھی جس سے لوگوں کو بہت فائدہ پہنچتا تھا۔ وہاں پر علاج بہت کم قیمت پر ہوتا تھا۔ لیکن اب اس انہدامی کارروائی کے بعد طبی سہولیات کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ انہدامی کارروائی دہلی مونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے ذریعہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کی گئی ہے۔ سخت سکیورٹی کے درمیان یہ کارروائی کی گئی اور اس دوران کچھ شر پسند عناصر نے پتھر بازی بھی کی، جس کے نتیجے میں دہلی پولیس کی کمپنیاں، ریپیڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور سی آر پی ایف نے لوگوں کو بکھیرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی داغے۔جہاں تک مسجد میں پنج وقتہ نمازادا کا مسئلہ ہے،توانتظامیہ نے علاقے کے تمام لوگوں سے کہا گیا ہے جب تک حالات معمول پر نا آجائیں وہ یہاں نماز پڑھنے سے گریزکریں ۔ دہلی کے رام لیلا میدان کے قریب بدھ کو علی الصبح تجاوزات ہٹانے کی مہم کے دوران مقامی لوگوں کی جانب سے پتھراؤ کیے جانے کے سبب پانچ پولیس اہلکار معمولی طور پر زخمی ہو گئے۔ اس سلسلے میں دس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے حراست میں لیے گئے افراد میں سے تین کی شناخت محمد اریب (25)، محمد کیف (23) اور محمد کاشف کے طور پر کی ہے۔دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے قومی دارالحکومت میں رام لیلا میدان کے قریب ترکمان گیٹ پر واقع درگاہ فیض الٰہی مسجد کے اطراف میں موجود غیر قانونی ڈھانچوں کے خلاف انہدامی کارروائی شروع کی تھی، جس کے دوران یہ واقعہ رونما ہوا۔سینئر پولیس افسر ندھین والسَن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 25 تا 30 افراد نے پولیس ٹیموں پر پتھراؤ کیا، جس میں پانچ پولیس اہلکار معمولی طور پر زخمی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے ہمیں آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ وہاں ایک بینکوئٹ ہال اور ایک دواخانہ تھا، جنہیں منہدم کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی دیر رات کی گئی تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ اس سے قبل جاری ایک بیان میں دہلی کی سنٹرل رینج کے جوائنٹ کمشنر مدھُر ورما نے بتایا کہ پورے علاقے کو احتیاط کے ساتھ نو زون میں تقسیم کیا گیا تھا جن میں سے ہر ایک کی نگرانی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس رینک کے ایک افسر کے سپرد کی گئی تھی۔ تمام حساس مقامات پر مناسب تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ انہدامی کارروائی سے قبل امن و امان کو یقینی بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے امن کمیٹی کے اراکین اور دیگر مقامی متعلقین کے ساتھ متعدد میٹنگیں کی گئیں نیز احتیاطی اور اعتماد سازی کے تمام تراقدامات کیے گئے تھے۔ دہلی کے رام لیلا میدان کے قریب بدھ کو علی الصبح تجاوزات ہٹانے کی مہم کے دوران مقامی لوگوں کی جانب سے پتھراؤ کیے جانے کے سبب پانچ پولیس اہلکار معمولی طور پر زخمی ہو گئے۔دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے قومی دارالحکومت میں رام لیلا میدان کے قریب ترکمان گیٹ پر واقع درگاہ فیض الٰہی مسجد کے اطراف موجود غیر قانونی ڈھانچوں کے خلاف انہدامی کارروائی شروع کی تھی، اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا۔












