بہارشریف (ایم ایم عالم) نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی(NIA) اور انسداد دہشت گردی دستہ (ATS) کی ایک مشترکہ ٹیم نے پیر کے روز صبح نالندہ ضلع کے بہارشریف شہر میں لہری تھانہ علاقے واقع لہری محلہ میں کئی مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے۔صبح 4:45 بجے شروع ہونے والے آپریشن میں تقریباً 11 سیکیورٹی گاڑیوں کا قافلہ شامل تھا،جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔اطلاعات کے مطابق ٹیم نے ایک گھر،راوی جیولری کی دکان اور پی کے گن ہاؤس کی مکمل تلاشی لی۔گن ہاؤس لہری محلہ میں واقع ہے۔ تلاشی اس شخص کے گھر پر شروع ہوئی جس کے بعد زیورات اور اسلحہ کی دکان کی تلاشی لی گئی۔اس دوران مقامی لوگوں کی بھیڑ جائے وقوعہ پر جمع ہو گئی۔بتایا جاتا ہے کہ یہ آپریشن ضلع کے 10 مقامات پر ایک ساتھ کیا گیا جس میں اسلام پور اور چکسورہ علاقے شامل ہیں۔ڈی ایس پی شیخ صابر نے بہارشریف میں چھاپے کی قیادت کی۔تحقیقات کے دوران ٹیم نے مشکوک دستاویزات،الیکٹرانک آلات اور دیگر مواد کی اچھی طرح جانچ کی۔ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا تعلق تھانہ لہری کے علاقے سوہن کنواں سے عزیز گھاٹ کے رہائشی محمد پرویز کی حالیہ گرفتاری سے ہے۔ پرویز کے قبضے سے اے کے 47 کارتوس سمیت بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا تھا۔اس سلسلے میں ایجنسیاں اس کے نیٹ ورک اور ممکنہ ساتھیوں کی تلاش کر رہی ہیں۔اس کے علاوہ نالندہ کے آشا نگر کے رہنے والے ابھیجیت کے معاملے میں بھی جانچ ایجنسیاں سرگرم ہیں۔اس کے پاس سے بھاری مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد ہوا،جسے اس آپریشن سے جوڑا جا رہا ہے۔تاہم چھاپے کے دوران قبضے میں لیے گئے مواد کے بارے میں ابھی تک سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔کارروائی کے بعد ضلع بھر میں سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں،مزید چھاپے متوقع ہیں۔ مقامی رہائشی مکیش کمار ورما نے بتایا کہ ٹیم نے موبائل فون،کیمرے کے ہارڈ ڈرائیوز اور ڈائری چھین اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ چھاپے غیر قانونی ہتھیاروں کی فروخت اور بنگال کے انتخابات کے حوالے سے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر مارے گئے لیکن عام لوگوں کو غیر ضروری طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔دریں اثنا،رام پرویش ورما نے کہا کہ انہیں کارروائی پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور ٹیم اپنا کام کر رہی ہے۔فی الحال حکام نے کیمرے پر اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔












