منہاج احمد
نئی دہلی،: وریندر سچدیوا کے دادا پاکستان سے مہاجر بن کر دہلی آئے تھے۔ اس کے بعد ان کا خاندان چاندنی چوک میں رہنے لگا۔ ویریندر سچدیوا کی پرورش وہیں ہوئی۔ بعد میں ان کا خاندان مشرقی دہلی میں رہنے لگا۔ وریندر سچدیوا کا سیاسی کیریئر 1988 میں شروع ہوا۔ منڈل سے لے کر ضلع صدر تک وہ اب دہلی بی جے پی کے ریاستی صدر بن چکے ہیں۔ وریندر سچدیوا کو تنظیم میں کام کرنے کا طویل تجربہ ہے،وہ کسی کارپوریشن کے کونسلر نہیں رہے ہےں، نہ ایم ایل اے اور نہ ایم پی رہے ہیں۔وریندر سچدیوا نے ابتدا میں اپنی تعلیم کے بعد پہلی بار 2 سال تک اخبار میں رپورٹنگ کیا۔ لیکن ان کا جھکاو¿ سیاست میں تھا۔ اسی لیے مقامی سطح پر یعنی چاندنی چوک میں نچلی سطح سے ضلع صدر بنایا گیا۔ اس کے بعد میور وہار کے ضلع صدر کا عہدہ بھی انہیں دیا گیا۔ بی جے پی نے انہیں 2009 میں ریاستی سکریٹری اور 2017 میں ریاستی نائب صدر بھی بنایا تھا۔سیاسی کیریئر کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جب 2008 میں بی جے پی نے وی کے ملہوترا کو دہلی کے وزیر اعلی کے امیدوار کے طور پر اعلان کیا، اس وقت وریندر سچدیوا کو میڈیا انچارج بنایا گیا تھا۔ دہلی میں ملہوترا اور کھرانہ خاندانوں کا پنجابی ووٹروں کے ساتھ طویل تجربہ ہے۔ وریندر سچدیوا کو یہ ذمہ داری پارٹی میں وی کے ملہوترا کے بہت قریب ہونے اور یہاں کی سیاست کے ہر سطح پر کام کرنے کی وجہ سے دی گئی تھی۔بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے دہلی ریاست کے ورکنگ صدر وریندر سچدیوا کو کل وقتی صدر بنا کر یہاں کی سیاست کو ایک نیا موڑ دینے کی کوشش کی ہے۔ وریندر سچدیوا اپنے طالب علمی کے زمانے سے ہی سیاست سے وابستہ ہیں، لیکن دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخاب میں پارٹی کی شکست کے بعد پارٹی نے ان پر احسان کیا۔آدیش گپتا نے پارٹی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ویریندر سچدیوا کا تعلق مشرقی دہلی سے ہے۔ وہ میور وہار ضلع کے ضلع صدر رہ چکے ہیں۔ وہ چاندنی چوک سے پارٹی کے صدر بھی رہے۔ سچدیوا نے کئی سالوں سے تنظیم میں کام کیا ہے۔ لیکن پارٹی نے بڑی ذمہ داری کے ساتھ ان پر اعتماد کیا ہے۔ماضی میں دہلی کے ایم سی ڈی میں میئر کے انتخاب سے لے کر تمام معاملات پر ان کے کام کرنے کے انداز کی تعریف کی گئی تھی۔ اسے ان کی تاجپوشی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سچدیوا پارٹی میں تنظیم کے علاوہ کسی اور الیکشن میں نہیں کھڑے ہوئے ہیں۔ نہ کارپوریٹر بنے، نہ ایم ایل اے، نہ ہی ایم پی۔مشرقی دہلی کے بی جے پی لیڈر سنجیو بھدوریا کا ماننا ہے کہ سچدیوا پارٹی کو زندہ کرنے میں اچھا کام کر رہے ہیں۔ ایم سی ڈی انتخاب میں بھی مشرقی دہلی سے بی جے پی کا ریکارڈ اچھا ہے۔ جب کہ بنیا اور پنجابی ووٹروں نے بی جے پی کی حمایت کی ہے۔پوروانچل کے ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے پارٹی نے منوج تیواری کو صدر بنایا ہے۔ تیواری نے ایم سی ڈی انتخاب میں پارٹی کو جیتایا لیکن اسمبلی میں اچھے نمبر حاصل نہیں کر سکے۔ اس کے بعد ہی بی جے پی نے بنیا برادری کے آدیش گپتا کو پارٹی کا ریاستی صدر بنایا۔ لیکن ایم سی ڈی میں 15 سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد ایم سی ڈی میں بی جے پی کو شکست ہوئی۔آپ کو بتا دیں کہ دہلی کی سیاست میں ان لیڈروں کے نام غائب ہو چکے ہیں۔دہلی کی سیاست کے مرکز میں کئی بڑے لیڈر تھے، لیکن وہ نام آہستہ آہستہ ختم ہوتے گئے۔ ڈاکٹر ہرش وردھن، وجے گوئل، وی کے ملہوترا، سبھاش آریہ سمیت درجنوں لیڈر دہلی کی سیاست سے غائب ہو گئے۔ پارٹی نے نوجوانوں کو موقع دیا، لیکن پہلے کانگریس اور پھر عام آدمی پارٹی اسمبلی میں کچھ خاص نہیں کر سکیں۔ پارٹی پارلیمانی انتخابات میں تمام سات سیٹوں پر مسلسل کامیابی حاصل کر رہی ہے۔حالانکہ دہلی میں بی جے پی پچھلے کئی سالوں سے اقتدار میں نہیں آئی ہے۔ پارٹی نے کئی تجربات کیے ہیں۔ پارٹی کی اصل توجہ بنیا اور پنجابی ووٹروں کے مراکز پر رہی ہے۔ اب پارٹی نے ایک بار پھر پنجابی لیڈر پر اعتماد کیا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ نئے ریاستی صدر وریندر سچدیوا 2024 کے لوک سبھا اور 2025 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو کتنا فائدہ پہنچائیں گے۔ صرف وقت ہی بتائے گا۔












