بالیشور (یو این آئی) اڈیشہ کے بالیشور میں دو برادریوں کے درمیان پرتشدد تصادم کے پیش نظر بالیشور میونسپلٹی علاقہ میں پیر کی آدھی رات سے نافذ غیر معینہ مدت کا کرفیو بدھ کو بھی جاری رہا۔بالیشور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ساگاریکا ناتھ نے کہا کہ اب تک دونوں برادریوں کے 34 افراد کو بڑے پیمانے پر جھڑپوں کے سلسلے میں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا ہے ۔ پولیس نے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر 30 افراد کو حراست میں بھی لیا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ نے امن و امان کے مسائل کو روکنے کے لیے شہر کے حساس علاقوں میں انٹرنیٹ سروس پہلے ہی معطل کر دی ہے اور تمام داخلی راستوں کو سیل کر دیا ہے ۔محترمہ ناتھ نے کہا کہ اوڈیشہ اسٹیٹ آرمڈ پولیس (او ایس اے پی) فورسز کے تقریباً 43 دستے شہر میں تعینات کیے گئے ہیں اور پولیس کے سینئر افسران صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے شہر میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ شہر میں کرفیو کے باوجود بھیڑ نے منگل کی رات دو اسکریپ گوداموں کو آگ لگا دی۔ فائربریگیڈ کو فوری طور پر حرکت میں لایا گیا تاہم دونوں گوداموں میں رکھا زیادہ تر سامان آگ کی زد میں آگیا۔شہر میں بدامنی اس وقت شروع ہوئی جب کچھ لوگوں نے نالے میں خون آلود پانی دیکھا اور پولیس کو اطلاع دی تو یہ واقعہ جلد ہی پرتشدد ہو گیا اور دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ضلعی انتظامیہ نے ابتدائی طور پر شورش زدہ علاقوں میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کیے تھے لیکن بعد میں پیر کی رات دیر گئے ہجوم کی جانب سے ایک دکان کو آگ لگانے ، مکانات کو نقصان پہنچانے اور ایک مذہبی عمارت کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے زبردستی کرفیو نافذ کرنا پڑا۔پولیس سپرنٹنڈنٹ نے شہر کے مکینوں سے گھر کے اندر رہنے کی درخواست کی ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حالات قابو میں ہیں۔ پولیس فورسز نے منگل کو حساس علاقوں میں فلیگ مارچ کیا اور شہر کے متاثرہ علاقوں میں سیکورٹی سخت کردی ہے ۔












