ممبئی ،پریس ریلیز،ہمارا سماج:اسرائیل میں فلسطینیوں کے خلاف مجوزہ سزائے موت کے قانون پر ملک بھر کے علمائے اہلِ سنت نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف ایک “کالا قانون” قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا سنی جمعۃ العلماء اور دیگر دینی و سماجی تنظیموں کے زیرِ اہتمام ایک اہم نشست منعقد ہوئی، جس میں متعدد سرکردہ علمائے کرام نے شرکت کی۔نشست میں علماء نے متفقہ طور پر کہا کہ اسرائیل کی جانب سے اس نوعیت کے قوانین نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ فلسطینی عوام پر جاری ظلم و ستم کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش بھی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں سے فلسطینی عوام پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور اب اس طرح کے قوانین کے ذریعے ان کے قتل کو قانونی شکل دی جا رہی ہے، جو انتہائی قابلِ مذمت ہے۔آل انڈیا سنی جمعۃ العلماء کے صدر حضرت سید معین الدین اشرف صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی برادری کو اس مسئلے پر فوری اور سنجیدہ قدم اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے حکومتِ ہند سمیت دنیا کے تمام انصاف پسند ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس “کالے قانون” کے خلاف آواز بلند کریں اور فلسطینی عوام کو انصاف دلانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔اس موقع پر الحاج محمد سعید نوری (صدر، رضا اکیڈمی)، مولانا فرید الزماں قادری، مولانا اعجاز کشمیری، مولانا خلیل الرحمان نوری، مولانا غلام یسن، حافظ قمر اشرفی اور محمد عارف رضوی سمیت دیگر علمائے کرام و ذمہ داران بھی موجود تھے۔نشست کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں اقوامِ متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے اس قانون کو منسوخ کرانے کے لیے عملی اقدامات کریں اور فلسطینی عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔












