نئی دہلی۔ ایم این این۔آپریشن سندور کی پہلی برسی کے موقع پر سامنے آنے والی تفصیلات میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت نے 35 دنوں پر مشتمل ایک منظم، کثیر جہتی اور انتہائی مربوط فوجی و انٹیلی جنس مہم کے ذریعے پاکستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس، لانچ پیڈز اور مواصلاتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی 22 اپریل 2025 کو پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد شروع کی گئی، جس میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد بھارتی افواج، انٹیلی جنس اداروں اور سائبر یونٹس نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گرد تنظیموں کے مبینہ مراکز کی نگرانی اور نشاندہی شروع کی۔ اطلاعات کے مطابق آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں بھارتی انٹیلی جنس اداروں نے دہشت گرد تنظیموں کے ڈیجیٹل مواصلاتی نیٹ ورکس، سیٹلائٹ فون روابط، ڈرون سرگرمیوں اور سرحد پار لانچ پیڈز کی نگرانی کی، جبکہ سائبر یونٹس نے خاموش انداز میں الیکٹرانک نگرانی اور مواصلاتی مداخلت کے ذریعے مبینہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔ 7 مئی کو بھارتی فوج، فضائیہ اور بحریہ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے پنجاب صوبے اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں واقع نو اہم مقامات کو نشانہ بنایا۔ بھارتی حکام کے مطابق ان اہداف میں جیش محمد اور لشکر طیبہ سے منسلک مبینہ تربیتی مراکز، اسلحہ ڈپو، لاجسٹک مراکز اور لانچ پیڈ شامل تھے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بہاولپور اور مریدکے جیسے مقامات کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا، جنہیں بھارت دہشت گرد تنظیموں کے اہم مراکز قرار دیتا ہے۔ کارروائی میں پریسیژن گائیڈڈ میزائل، ڈرون حملے، آرٹلری فائر اور فضائی حملوں کا استعمال کیا گیا۔ بھارتی فوج نے آپریشن کی برسی سے قبل سات مبینہ دہشت گرد کیمپوں کی سیٹلائٹ تصاویر بھی جاری کیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اس موقع پر بھارتی فوجیوں کی “جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیت” کو سراہا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق آپریشن سندور صرف ایک روایتی فوجی کارروائی نہیں تھا بلکہ اس میں سائبر وارفیئر، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن، ڈرون نگرانی اور الیکٹرانک خاموشی جیسی جدید حکمت عملیوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ ایک تحقیقی مطالعے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس دوران پاکستانی ہیکنگ گروپس کی جانب سے سائبر حملوں اور میلویئر سرگرمیوں کی کوششیں بھی دیکھی گئیں۔ بھارتی حکام کے مطابق یہ کارروائی “دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے” کو ختم کرنے کے لیے کی گئی تھی، جبکہ پاکستان نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے متعدد بھارتی دعوؤں کو مسترد کیا تھا۔ تاہم آپریشن سندور کو بھارت میں حالیہ برسوں کی سب سے بڑی سرحد پار انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔












