سرینگر،24جنوری،اعجاز ڈار ؍ سماج نیوز سروس: بھارت جوڑو یاترا ملک میں نفرت کے بیانے سے لڑنے میں کامیاب قراردیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ہم اخوات اور مساوات میں یقین رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ملک کے لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے میں یقین نہیں رکھتی ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے لیکر کنیا کماری تک ہم مذہبی بھائی چارے کو فروغ دینے کی کوشش میں لگے ہیں اور اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق کانگریس لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ راہل گاندھی نے منگل کو کہا کہ بھارت جوڑو یاترا (بی جے وائی) ملک بھر میں پھیلی نفرت کے بیانیے کے خلاف لڑنے اور لوگوں کو ایک بار پھر ایک ساتھ لانے میں بڑی حد تک کامیاب ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہم بھارت جوڑو یاترا کے ذریعے ملک بھر کے لوگوں کو ایک بار پھر ایک ساتھ لانے میں کامیاب رہے ہیں۔ یاترا میں ہمارے لیے بہت سے اسباق تھے اور ہم نے اپنے سفر کے دوران مختلف رنگوں کے لوگوں سے ملنے کے بعد بہت کچھ سیکھا ہے‘‘۔راہل نے جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ کانگریس محبت کے پیغام کو پھیلانے میں یقین رکھتی ہے۔ہماری کوشش جموں و کشمیر میں محبت کی دکانیں کھولنے کی ہے جسے سیاست کا قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے‘‘۔ بی جے وائی کے ذریعے ہم بڑی حد تک ملک میں بی جے پی کی طرف سے پھیلائی گئی نفرت کے تباہ کن بیانیہ سے لڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’کانگریس کی بنیادی توجہ جموں و کشمیر میں ریاست کا درجہ اور اسمبلی کو بحال کرنا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ اگر بی جے وائی غیر سیاسی تھی، تو وہ مسلسل بی جے پی کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں، راہل نے کہا کہ چونکہ کانگریس عظیم پرانی سیاسی پارٹی ہے، اس لیے یاترا کے دوران ان کی تقریروں میں ضرور تھوڑی سی سیاست ہوگی‘۔
کانگریس لیڈر نے کہاجب کشمیری پنڈت، کسان اور بے روزگار نوجوان یاترا کے دوران مجھ سے ملیں گے اور امید کریں گے کہ میں ان کے مسائل کو ضرور اٹھاؤں گا، اگر میں ان کے بارے میں بات نہیں کروں گا تو ظاہر ہے کہ میرے لئے ایک مسئلہ ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم نریندر مودی سمیت کسی کے لئے نفرت کا ایک رنگ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی سے نہیں ڈرتا تو کسی سے نفرت کیوں کروں؟انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان ڈپریشن اور تکلیف کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا’ہم ان کو سننے اور ان کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے یہاں موجود ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو بھی اس حد تک دبا دیا گیا ہے جیسے یاترا بالکل نہیں ہو رہی ہے۔لال سنگھ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر راہل نے کہا کہ ’سنگھ نے یاترا کی حمایت کی اور کانگریس اس کی تعریف کرتی ہے‘۔ جہاں تک غلام نبی آزاد کا تعلق ہے، ان کے 90 فیصد حامی اور پارٹی کے لوگ ہمارے اسٹیج پر تھے۔ اگر ہم نے آزاد یا لال سنگھ کو تکلیف پہنچائی ہے تو میں معافی مانگنا چاہوں گا‘۔ راہل نے کہاکہ ’ایسی خبروں پر کہ ان کی بی جے وائی کے لیے کروڑوں خرچ کیے جا رہے ہیں، راہل نے کہا کہ ان کی شبیہ کو خراب کرنے کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس نے ہزاروں کروڑ خرچ کیے لیکن ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے‘۔میں بی جے پی کو بتانا چاہتا ہوں کہ پیسہ سچائی کو دفن نہیں کر سکتا جس کے سامنے آنے کی گندی عادت ہے۔ بی جے پی نے اس حقیقت کو آہستہ آہستہ سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ راہل کی قیادت میں بی جے وائی 30 جنوری کو سری نگر میں داخل ہوگی۔












