نئی دہلی۔ خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران، نئی دہلی میں سعدی ایوارڈ کی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ہندستانی دانشوروں، محققین اور فارسی اسکالرس نے بڑی تعداد میں شرکت فرمائی۔ اس علمی و ثقافتی اجلاس کا افتتاح ڈاکٹر علی رضا نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر محمد علی ربانی کلچرل کاؤنسلر اسلامی جمہوریہ ایران نے حاضرین کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر ربانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندوستان میں شیخ سعدی کو ایک خصوصی مقام ومنزلت حاصل ہے گلستان وبوستان سعدی کی پندو نصائح آج بھی ہندوستانی اہل خانہ اپنے بچوں کو اخلاقی تربیت کے لئے سناتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آج بھی ہندوستان میں فارسی آثار بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں گلستان وبوستان سعدی کے مخطوطے بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر سال منعقد ہونے والے اس پروگرام کا مقصد فارسی ادب کی دنیا کے ان مجاہدین کے انتھک زحمات کی قدردانی ہے جنہوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ فارسی ادب اور ایرانی فرہنگ کی خدمت کی نذر کردیا۔ قابل ذکر ہے کہ ہندو ایران کے ثقافتی مشترکات اور باہمی تعلقات ہمیشہ سے عالمی ادب کا علمی موضوع رہے ہیں ۔ اس سال ہندستان میں فارسی زبان و ادب کے نو اساتذہ کو ’’ سعدی ایوارڈ‘‘ پیش کیا جارہا ہے۔ڈاکٹر ربانی نے کہا میں انعام پانے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان اساتذہ نے فارسی زبان و ادب کی ترویج وتحقیق پر ہند اور ایران کے تہذیبی رشتوں کو مزید استوار کرنے میں پُرخلوص خدمات انجام دی ہیں۔نویں ’’سعدی ایوارڈ‘‘ حاصل کرنے والے اساتذہ اور محققین کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ پروفیسر عراق رضا زیدی،۲۔ پروفیسرعابد حسن پٹنہ ،۳۔ پروفیسرشاہد نوخیز اعظمی،۴۔پروفیسرجہانگیر اقبال،۵۔پروفیسر احتشام الدین،۶۔ڈاکٹر قمر عالم ، ۷۔ڈاکٹر سید نقی عباس کیفی،۸۔ ڈاکٹر سید محمد رضا موسوی،۹۔ڈاکٹر محمد عامر۔
اس موقع پر سفیر ایران عزت مآب جناب ڈاکٹر ایرج الٰہی نے بھی سامعین سے خطاب کیا اور سعدی کی شخصیت اور تصنیف پر اظہار خیال فرمایا۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے مدارس میں سعدی کی گلستان بوستان کی بہت اہمیت ہے ہندوستانی مدارس میںان کتابوں کا درس آج بھی دیاجاتاہے۔ آپ نے ’’سعدی ایوارڈ‘‘حاصل کرنے والے ہندوستانی دانشوروں کی خدمت میںمبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان میں صاحب نظر دانشمندوں کے مشورے سے جن دانشوروں کا انتخاب کیا گیاہے وہ قابل تحسین ہیں۔ یہ انعامات اس حقیقت کے ترجمان ہیں کہ ہم فارسی زبان اور ہندستان کے ان اساتذہ کی اہمیت کے قائل ہیں جو اس زبان اور اس کے عظیم ادب کی خدمت میں مشغول ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ انعامات فارسی کے نوجوان اساتذہ اور طلبا کے لئے باعث تشویق ثابت ہوںگے اور وہ زیادہ توجہ اور دلچسپی سے اپنے اپنے کام میں منہمک رہیں گے۔ مزید برآں وہ جلد ہی اپنے اساتذہ کی خالی جگہوں کو پُر کرنے میں کامیاب ہوں گے اور گراں قدر کام اپنی یادگارکے طورپر چھوڑیںگے۔مہمان خصوصی کے طورپر شرکت کرنے والے جناب ڈاکٹر راج کمار آنند وزیر سوشل ویلفئر حکومت دہلی،و ڈاکٹرجے کے بجاج چیئرمین انڈین کونسل فور سوشل سائنس ریسرچ منسٹری آف ایجوکیشنل گورنمنٹ آف انڈیا اور ڈاکٹر تِرلوچن سنگھ چیئرمین انٹرنیشنل سینٹر فور سکھ اسٹڈیز نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ایران سے آئے موسیقی گروپ رستمی نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔سعدی تقریب شرکت کنندگان میں پروفیسر چندر شیکھر،پروفیسر شریف حسین قاسمی،پروفیسر کلیم اصغر، پروفیسر علیم اشرف خاں،پروفیسر آذرمی دخت صفوی ، ایران کے عظیم شاعر ڈاکٹر علی رضا قزوہ، ڈاکٹر خواجہ پیری،ڈاکٹر جمیل الرحمن ، محترمہ شہناز آرا کے علاوہ کثیر تعداد میں فارسی کے طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض مہدی باقر خان نے بحسن خوبی انجام دئے۔
منجانب: روابط عمومی
ایران کلچرہاؤس، نئی دہلی












