جالے: محمد رفیع ساگر : دربھنگہ میں اس وقت سنسنی کی کیفیت پیدا ہو گئی جب پولیس دو دوستوں کے قتل کے معاملے میں ملزمین کی گرفتاری میں مصروف تھی کہ اسی دوران ایک اور قتل کا سنسنی خیز واقعہ سامنے آ گیا۔ لہیریاسرائے تھانہ حلقہ کے سوئٹ ہوم چوک کے قریب پی ایچ ای ڈی محکمہ میں تعینات ایک ملازم کو چاقو مار کر بے رحمی سے قتل کر دیا گیا، جس کی لاش تھانے سے چند قدم کے فاصلے پر خون میں لت پت حالت میں برآمد ہوئی۔مقتول کی شناخت بہیڑی تھانہ علاقہ کے سُساری گاؤں باشندہ آنجہانی اومیش پرساد کے بیٹے پون پرساد کے طور پر ہوئی، جو پی ایچ ای ڈی محکمہ میں چہارم درجے کے ملازم تھے۔ وہ ڈی ایم سی ایچ کیمپس میں واقع سرکاری کوارٹر میں مقیم تھے اور اضافی آمدنی کے لیے جز وقتی طور پر ای رکشا بھی چلاتے تھے۔ جائے واردات کے قریب ای رکشا بھی برآمد ہوا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ واردات علی الصبح انجام دی گئی۔ابتدائی طور پر پولیس نے لاش کو ایک نامعلوم ای رکشا ڈرائیور سمجھ کر قبضے میں لیا تھا، تاہم تقریباً 5 گھنٹے بعد اس کی شناخت پی ایچ ای ڈی ملازم کے طور پر ہو سکی۔ منگل کی رات پون پرساد نے اپنی دوسری اہلیہ جو ایک مسلم خاتون بتائی جارہی ہے کو فون پر بتایا تھا کہ وہ ای رکشا چلانے جا رہے ہیں، جس کے بعد وہ واپس نہیں لوٹے۔واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے، خاص طور پر اس لیے کہ پولیس پہلے ہی دو دوستوں کے قتل کیس میں تفتیش اور گرفتاریوں میں مصروف تھی اور اسی دوران ایک اور قتل کا سامنے آنا پولیس کی چوکسی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے جبکہ ایف ایس ایل کی ٹیم نے جائے واردات سے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ ساتھ ہی آس پاس نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی کھنگالی جا رہی ہے۔ پولیس لوٹ پاٹ اور باہمی رنجش دونوں زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے۔صدر ایس ڈی پی او راجیو کمار نے بتایا کہ قتل کے اسباب فی الحال واضح نہیں ہو سکے ہیں، تاہم تفتیش جاری ہے اور جلد ہی پورے معاملے کا انکشاف کر لیا جائے گا۔ ادھر واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقتول کے اہل خانہ دہلی سے دربھنگہ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ایسا بتایا جارہا ہے کہ مقتول کی پہلی بیوی رنکی دیوی اپنے 2 بچوں 22 سالہ کوشوم کمار اور 19 سالہ پوجا کماری کے ساتھ دہلی میں رہ رہی تھی جبکہ 2017 میں دوسری شادی کے بعد پون کو ایک بچی ہوئی تھی پولیس اس زاوئے پر بھی تفتیش کر رہی ہے۔












