میرٹھ،سماج نیوز سروس: نایابؔ صاحب نے جو کچھ کہا یا سنایا اس کا ایک پس منظر ہے۔ مرحوم سید اطہر الدین اطہرؔ اور نایاب الدین نایابؔ بہت اچھے شاعر ہیں۔لیکن ابھی یہ مٹی میں ہیرے کی مانند ہیں ان کو تراش خراش کر منظر عام پر لانے کا کام شعبہئ اردو کرے گا۔شاعری وہی مقبول ہوتی ہے جو زندگی کے قریب اور حقیقت کی عکاس ہو۔ یہ الفاظ تھے معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری کے جو یہاں شعبہئ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں معروف عالم دین اور شاعر مولانا سید نایاب الدین نایابؔ کے اعزاز میں منعقد ادبی محفل میں اپنے صدارتی خطبے کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوریاں، سہرے، رخصتیاں وغیرہ سبھی ادب کا حصہ ہیں اور ان کو لکھنا ایک مشکل عمل ہے۔مرحوم سید اطہرالدین اطہرؔ بھی ایک بہترین شاعر تھے ان کو بھی پہچان ملنی چاہئے اور ان کا مجمو عہئ کلام بھی منظر عام پر آ نا چاہئے اور یہ ذمہ داری ڈاکٹر شاداب علیم صاحبہ کی ہے کہ وہ جلد سے جلد اس کام کو انجام دیں۔شعبے کی لائبریری میں میرٹھ کے ادبا و شعرا کی کتابیں ہونی چاہئیں۔اس سے قبل پروگرام کا آ غاز سعید احمد سہارنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ ہدیہئ نعت ریسرچ اسکالر سیدہ مریم الٰہی نے پیش کیا۔ بعد ازاں فرحت اختر نے اپنی خوبصورت اور مترنم آ واز میں غزل پیش کر کے سماں باندھ دیا۔ پروگرام کی صدارت کے فرائض صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کے بطور مولانا سید نایاب الدین نایابؔ اور مہمان اعزا زی کے بطور مائنارٹی ایجو کیشنل ایسو سی ایشن کے صدر آفاق احمد خاں نے شرکت فرمائی۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی،نظا مت کے فرائض ڈاکٹر شاداب علیم اور شکریے کی رسم ڈاکٹر الکا وششٹھ نے انجام دی۔ ڈاکٹر شاداب علیم نے سید نایاب الدین نایابؔ کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا تعلق میرٹھ کے قدیم قصبہ پھلاؤدہ کے ایک علمی و ادبی خانوادے سے ہے۔آپ کی ابتدائی تعلیم قصبے میں ہی ہوئی بعد ازاں آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ تشریف لے گئے اور آپ نے وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ساتھ ہی ساتھ شہر یار کی صحبت سے فیض یاب ہوتے ہوئے آپ نے شعرو شاعری بھی شروع کردی اور تقریباً سبھی اصناف میں آپ نے طبع آزمائی کی۔












