نئی دہلی ، سماج نیوز سروس:وزیر اعلی سویندو ادھیکاری کے انتباہ کے باوجود، کولکتہ کے راجہ بازار میں سڑک پر نماز ادا کرنے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ پولیس کے سخت موقف کے بعد سڑک پر نماز پڑھنے کیلئے جمع ہونے والے افراد کو منتشر ہونا پڑا۔ ادھیکاری نے کہا ہے کہ سڑک پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سویندو نے وزیر اعلی بننے کے بعد سے یوگی ماڈل کو اپنایا ہے۔موصولہ تفصیلات کے مطابق مغربی بنگال میں نئی حکومت کے قیام کے بعد پہلی بار سڑک پر نماز پڑھنے کو لے کر تنازع سامنے آیا ہے۔ جمعہ کو سڑک پر نماز پڑھنے پر جھگڑا ہوا۔ اس سے ہنگامہ مچ گیا اور پولیس کو کارروائی کرنی پڑی۔ اطلاعات کے مطابق نمازیوں نے دعویٰ کیا کہ وہ برسوں سے سڑک پر نماز ادا کرنے آتے رہے ہیں۔ تاہم پولیس کے سخت رویہ اختیار کرنے کے بعد نمازیوں نے گلی خالی کر دی۔ یہ واقعہ کولکتہ کے راجہ بازار میں پیش آیا۔کولکتہ میں یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاست کے نئے وزیر اعلی سویندو ادھیکاری نے واضح کر دیا ہے کہ سڑک پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بنگال میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد وزیر اعلیٰ بننے والے سویندو ادھیکاری کی قیادت والی حکومت نے سڑکوں پر مذہبی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ سڑکوں پر کوئی مذہبی تقریب منعقد نہیں کی جائے گی۔ لاؤڈ اسپیکر کہیں بھی اونچی آواز میں نہیں چلیں گے، چاہے وہ مندر ہوں یا مساجد۔ جمعہ کے روز جب لوگ نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے راجہ بازار میں سڑک پر جمع ہوئے تو پولیس کے سخت رویے کے بعد انہیں واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا۔پولیس نے لوگوں کو سڑک پر نماز پڑھنے سے روکا تو انہوں نے احتجاج کیا۔ پولیس کی بڑی موجودگی نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں مذہب سے بالاتر ہوکر سڑکوں پر مذہبی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ جمعہ کو جب پولیس نے اس سے منع کیا تو مسلم کمیونٹی کے ارکان نے نعرے لگائے۔ بنگال میں 9 مئی کو سویندو ادھیکاری کے حلف اٹھانے کے بعد نماز پر گڑبڑ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔












