افسر علی نعیمی ندوی
بیدر۔3؍ فروری، سماج نیوز سروس: مولانا آزادنیشنل اُردو یونیورسٹی (MANUU)حیدرآبادکے سابق ڈین پروفیسر محمد نسیم الدین فریس ؔنے کہا کہ بہمنی حکمران اپنے دور حکومت میں سب کی بھلائی چاہتے تھے۔ مورخہ یکم فروری2026ء بروز اتوارشہر کے مغل گارڈن فنکشن ہال میں جماعت اسلامی ہندشہر بیدرکے زیر اہتمام ایک تاریخی سمینار سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے تمام مذاہب اور طبقات کے لوگوںکو اعتمادد میں لے کر حکومت کی۔پڑوسی ریاستوں سے ان کے اچھے تعلقا ت تھے۔ دیگر مہمانان ، پروفیسرس اور مسٹورینس نے اپنے اپنے تحقیقی مقالے پیش کئے جس میں مشترکہ طور پر انہوں نے یہ پیغام دیا کہ سلاطین بہمنیہ(1347-1527)امن قائم کیا ہے۔ تعلیمی ادارے شروع کئے تھے خصوصاً مشہور یونیورسٹی مدرسہ محمود گاوان بہمنی سلطنت کا دنیا ئے علم کے لیے بڑا تحفہ ہے۔انہوں نے اردو زبان وادب کی حوصلہ افزائی کی۔ وہ ایران، عراق اور شام سے اسلامی اسکالر کو مدعو کرکے روحانی ترقی کو فروغ دینے کی بھی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کاریز/قناعت کانظام نافذ کیا تھا۔ اس سے پانی کو محفوظ کرنا ممکن ہوا۔ بہمنی سلطنت میں علماء مورخ اورفلسفی تھے۔ جماعت اسلامی ہند کے ریاستی سکریٹری لبید شافی نے کہا کہ آج چند فرقہ پرست طاقتیں سماج میں نفرت پھیلانے کے لیے تاریخ کو مٹانے بلکہ اس سے بڑھ کر تاریخ کو مسخ کرنے کا کام کررہے ہیں۔ اس لیے جماعت اسلامی ہند بیدر نے بہمنی بادشاہوں کی تاریخ بیان کرنے کے لیے ایک علمی و تحقیقی سمینارکا انعقاد کیا ہے۔ڈاکٹر محمد فہیم الدین احمد مانو حیدرآباد سے مذہب و تصوف ،ڈاکٹر رئیس فاطمہ سنٹرل یونیورسٹی حیدرآبادنے بہمنی دور حکومت کے دوران معاشی صورتحال ، ڈاکٹر منظور احمد نے بہمنی دور میں اردو ادب کی ابتدااور ترقی،ڈاکٹرمحمدسمیع الدین نے بہمنی دور حکومت کے نظام تعلیم پر ، ڈاکٹر میمونہ بیگم نے بہمنی دورکے سکوں پر، ڈاکٹر محمد مجید نے بہمنی سلطنت کے زوال اوراس کے بعد کے حالات اور رسم الخط ، ڈاکٹر اسماعیل خان نے محمودگاوان کی علمی خدمات اور ڈاکٹر مشتاق احمد نے بہمنی دور کی سیاسی صورتحال پر علی الترتیب اپنے اپنے تحقیقی مقالے پیش کئے۔ڈاکٹر حشمت علی فاتحہ خوانی، ڈاکٹر نشاط احمداور بیدر کی تاریخ پر ماہراور گائیڈ مشہورومعروف عبدالصمدبھارتی مہمانان سے بھر پوراستفادہ کیا، ڈاکٹر محمد شمس الدین سمینار کوآرڈینٹر نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔افتتاحی تقریب کی صدارت جماعت اسلامی ہند کی مقامی یونٹ کے صدر محمدمعظم نے کی ۔ اقبال غازی، ریاستی مشاورتی کونسل کے رکن محمد آصف الدین، ڈاکٹر ارشاد نوید، محمد صلاح الدین،سیّدعتیق اﷲ،محمد اعظم پاشاہ، سیّدعلی،محمدجمیل احمد،ڈاکٹر عبدالقدیر ، ڈاکٹر محمد رفیق، سیّداذہان احمد صدر ، خورشید احمد ،بلقیس فاطمہ ، توحید ہ سندھے، اسماء سلطانہ، ڈاکٹر نورین بلقیس، ڈاکٹر بشریٰ ایمن علم دوست شہریان بیدر ، معززین شہر مرد وخواتین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اپنی نوعیت کا منفرد پہلی مرتبہ بیدر کی تاریخ پر منعقد ہونے والا یہ علمی سمینار تھا۔ تمام مؤرخین کے مقالے جات کو یکجا کرکے ایک تاریخی مجلہ (کتاب) شائع(Print)کرنے کا فیصلہ بھی جماعت اسلامی ہند بیدر نے کیاہے۔ بیدر کی تاریخ صرف بیدر کے شہریان کا سرمایہ و ورثہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے سرمایہ ہے جس کو ماضی سے باہر لاکر نئی نسل کو واقف کرانے کا کام آج وقت کی ضرورت ہے۔ یہ سمینار علمی، ادبی اور تاریخ پر نظر رکھنے والے محققین کے حلقوں میں قدرکی نگاہ سے دیکھاجارہا ہے اور اس سے تاریخ کے تئیں غلط فہمیاں کو دور کرنے فرقہ وارنہ ہم آہنگی محبت و بھائی چارہ کا ذریعہ بنے گا۔ محمد عارف الدین معاون مقامی نے ہدیہ تشکر پیش کیا ۔ محمد آصف الدین میڈیا انچارجJIHبیدر نے آج ایکJIHبیدر کے Officialسے یہ پریس ریلیز جاری کرکے یہ بات بتائی۔












