تہران :ایران کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سربراہ اینتونیو گوتریس کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے حملے کی صورت میں تہران ’فیصلہ کن اور ہولناک‘ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اینتونیو گوتریس کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت میں کہا کہ ’ایران خطے میں امن اور استحکام کے لیے تمام تر کوششیں کر رہا ہے، اسرائیل کی جانب سے کسی بھی مہم جوئی کا فیصلہ کن اور سخت جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہے۔‘اسرائیل کا لبنان سے 50 میزائل فائر کیے جانے کا دعویٰ، جنگ بندی کی تجویز مسترد
منگل کو ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سربراہ کے ساتھ بات چیت میں اپیل کی کہ عالمی تنظیم اپنے تمام وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کے جرائم اور جارحیت کو روکے اور لبنان اور غزہ میں انسانی امداد بھجوائے۔
دریں اثناحزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے کل منگل کے روز اس بات پر زور دیا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست جنگ میں داخل ہو چکی ہے اور اب اسے صرف غزہ کی پٹی کی حمایت کا سامنا نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شمال میں اسرائیلی آباد کاروں کی واپسی جنگ بندی سے قبل نہیں ہو گی۔
نعیم قاسم کے بیان کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے دھمکی آمیزپیغام نے کہا ہے کہ نعیم قاسم نےاپنے پیشرووں کی طرح غلطی کی جو ان سے پہلےحزب اللہ لیڈروں نے کی تھی۔انہوں نے حیفہ میں حزب اللہ کے حملے میں زخمی ہونے والے فوجیوں کی عیادت کے دوران کہا کہ نعیم قاسم کی باری بھی آنے والی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جلد ہی نعیم قاسم اپنے انجام کو پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا کہ قاسم دنیا کو اس حقیقت کو فراموش کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس جماعت اور اس کے دوست (ایران کا حوالہ دیتے ہوئے) لبنان میں تباہی لائے۔












