نئی دہلی،سماج نیوز سروس:ہمارے سیکولر ملک بھارت میں اب کھلے عام نمازیوں پر ایک سب انسپکٹر لات گھونسے برساتا ہے۔جس کا ویڈیو وائرل ہوتا ہے اور دہلی پولس اس ملزم کے خلاف کارروائی کرنے کے نام پر صرف معطل کرتی ہے ۔ قانون سے وابستہ سماجی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ایسے ملزم سب انسپکٹر منوج کمار تومر کے خلاف کم سے کم فوری طور سے ایف آئی آر درج ہونی چاہئے تھی لیکن دہلی پولس کے ڈی سی پی منوج کمار مینا نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے سب انسپکٹر و چوکی انچارج منوج کمار تومر کو معطل کردیا اور تا دیبی کارروائی کرنے کی بات کی ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ آج اندرلوک علاقہ میں نماز پڑھنے والے لوگوں کو لات گھونسےمارنےکا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہ حرکت کسی اور نے نہیں بلکہ دہلی پولیس کے ایک سب انسپکٹر نے کی تھی۔ معاملے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دہلی پولیس نے بھی کارروائی کی ۔ اس ایس آئی کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔ دراصل جمعہ کے روز مسلم کمیونٹی کے لوگ بڑی تعداد میں نماز ادا کرنے کے لیے مسجد پہنچے تھے۔ ہجوم کی وجہ سے یہ لوگ مسجد کے باہر سڑک پر نماز ادا کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر ایس آئی نے نماز پڑھنے والے افراد کو لات مار کر وہاں سے بھگانے کی کوشش کی۔ شمالی دہلی ضلع پولیس نے ایس آئی کی اس کارروائی کے خلاف سخت کارروائی کی۔ موصولہ اطلاع کے مطابق یہ واقعہ سرائے روہیلہ پولیس اسٹیشن کے تحت اندرلوک علاقے میں آج دوپہر پیش آیا جہاں ہر جمعہ کو مسلمانوں کی بڑی تعداد نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچتی ہے۔ ہر ہفتے کی طرح اس جمعہ کو بھی وہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس سلسلے میں یہ ایس آئی کچھ دیگر پولیس والوں کے ساتھ موقع پر پہنچ گیا۔ایس آئی نے نماز پڑھ رہے لوگوں کو لات مار کر ہٹانے کی کوشش کی۔ پولیس اہلکار کی یہ حرکت دیکھ کر وہاں موجود کچھ لوگوں نے ویڈیو بنانا شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر میں یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہونے لگا۔ جس کے بعد معاملہ اعلیٰ حکام تک بھی پہنچا۔سب انسپکٹر کی اوچھی حرکت کو دیکھ کر دہلی پولیس کے اعلیٰ سطحی افسران نے کارروائی کر تے ہوئے اس سب انسپکٹر کو فوری طور پر معطل کر دیا ۔اندرلوک واقعے پر شمالی دہلی کے ڈی سی پی منوج کمار مینا نے کہا، ویڈیو میں نظر آنے والے پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، پوسٹ انچارج کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ضروری تادیبی کارروائی بھی کی گئی ہے۔ ٹریفک اب کھل گئی ہے، صورتحال اب معمول پر ہے۔دراصل واقعہ کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اندرلوک میٹرو اسٹیشن کے نیچے جمع ہو گئے تھے۔ضلع کے اعلیٰ پولیس افسران لوگوں کوسمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس موقع پر اعلیٰ پولس افسران نےپولس اہلکار کے خلاف کارروائی کی اطلاع دی۔خبر کے مطابق اب وہاں حالات معمول پر ہیں، لوگ اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔دہلی کانگریس اقلیتی سیل کے صدر عبدالواحد قریشی نے نمائدہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جوائنٹ پولس کمشنر ساگر سنگھ کلسی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سب انسپکٹر کے خلاف جلد ہی ایف آئی آر بھی درج کی جائے گی اور کل ایک مقامی وفد جوائنٹ سی پی سے ملاقات بھی کریگا۔ جوائنٹ سی پی کے ذریعہ کیا گیا پیس مارچ کافی کامیاب رہا اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں نماز پڑھنا منع نہیں ہے بلکہ نماز پڑھتے ہوئے لوگوں کو مارنا ظلم کی انتہا ہے ۔ ایک پولس والے کی اس حرکت سے پولس کا نظریہ بھی سامنے آیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جو ملک کے حالات ہیں اس سے پولس کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔












