جامعہ امام ابن تیمیہ بہار تعلیم وتربیت کے حوالے سے پوری دنیا میں شہرت رکھتا ہے۔یہاں سے اٹھنے والا ہر ذرہ آفتاب ومہتاب اور اپنے اسلاف کے علم وعمل کا امین ہوتا ہے۔اس کے ہر گوشہ سے قال اللہ اور قال الرسول کی صدائے دلنواز بلند ہوتی ہیں۔جامعہ، امام ابن تیمیہ،امام ابن باز،امام البانی اور امام ابن عثیمین رحمہم اللہ کے فضل وکمال اور تقوی وطہارت کی یاد دلاتا ہے۔یہ ادارہ اپنے بانی کے خلوص ومحبت کے داستان کو بیان کرتا ہے۔علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ جامعہ کے احاطہ میں منعقد ہونے والے ایک عام اجلاس میں سیکڑوں لوگوں کی موجودگی میں کہا تھا کہ اس کی بنیاد تقوی پر ہے اور ان شاء اللہ جامعہ قیامت تک برقرار رہے گا۔علامہ صاحب رحمہ اللہ کی یہ بات مبنی بر حق ثابت ہوئی اور آئندہ بھی ان شاء اللہ ہوگی۔تاسیس سے لیکر اب تک جامعہ کی زندگی میں کئی ایسے مشکل مراحل آئے جس نے ذمہ داران کے لئے عارضی طور پر پریشانی کے سبب ضرور بنے مگر جامعہ کو اس کی مشن سے روک نہ سکے۔جامعہ اپنی آن بان شان کے ساتھ باقی رہا اور سازشی ٹولے کو ہر زمانے میں ذلیل ورسوا ہونا پڑا۔
علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد سے جامعہ کی باگ علامہ موصوف کے نہایت زیرک اور جذبہ خدمتِ خلق سے سرشار فرزند ارجمند رئیسِ جامعہ ڈاکٹر عبد اللہ السلفی حفظہ اللہ کے شانے پر ہے جس کو وہ پوری خوش اسلوبی سے ادا کررہے ہیں۔
اپنے والد ماجد رحمہ اللہ کی طرح وہ بھی سال میں جامعہ تشریف لاتے اور جامعہ کے کاز سے واقفیت حاصل کرتے اور ضروری ہدایات اور نسشتیں کرتے ہیں۔اس بار بھی رئیسِ جامعہ اپنے روٹین کے اعتبار سے ایک ہفتہ کے لئے جامعہ تشریف لائے اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہمہ تن مصروف ہورہے۔جامعہ میں رہنے کے باوجود کوئی ایسا دن نہ تھا جس میں انہوں نے بارہ گھنٹہ کام نہ کیا ہو۔سوائے نماز اور رات میں چند ساعات آرام کرنے کے آپ کے تمام تر اوقات جامعہ سے متعلق امور کی انجام دہی میں گزرتے رہے۔جامعہ کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہو جس سے وابستہ افراد کے ساتھ آپ کی خصوصی میٹنگ نہ ہوئی ہو۔ایک درجن سے زائد ہونے والی میٹنگوں میں ادارتی ،تعلیمی،مالی،تعمیراتی امور سے متعلق میٹنگیں اہم ہیں۔
رئیس جامعہ کو اللہ تعالی نے غیر معمولی حکمت ودانائی سے نوازہ ہے۔ان کا خواب ہیکہ جامعہ ہر قسم کی ظاہری اور باطنی خوبیوں سے آراستہ ہو۔جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جائے۔وہ اپنے عزائم کے حصول کے لئے سنجیدہ اور کامیاب بھی ہیں۔ مستقل قریب ڈھیر ساری سہولیات سے جامعہ مسلح ہوگا۔
آپ نے اپنی زیارت کے آخری دن فجر کی نماز کے بعد جامعہ کی مسجد میں طلبہ کو مختصر خطاب کیا۔آپ نے اپنے خطاب کا آغاز صحیحیں کی مشہور حدیث”انما الأعمال بالنیات” سے کیا۔اس حدیث کے تناظر میں آپ نے طلبہ کو حصول علم کی راہ میں اخلاص کی اہمیت کو اجاگر کیا۔آپ نے کہا کہ طالب شرعی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی نیت کو تمام دنیاوی اغراض ومقاصد سے پاک رکھے۔اخلاص طالب علم کے اہم ترین اوصاف میں سے ایک ہے جس کا طلبہ میں پایا جانا ضروری ہے۔اس وصف سے عاری ہونے کی وجہ سے طلبہ میں کچھ ایسی غیر اخلاقی چیزیں در آتی ہیں جو قطعی طور پر طلبہ کے اندر نہیں ہونی چاہیے۔
طلبہ جامعہ امام ابن تیمیہ اپنے تعلیمی اور تربیتی تفوق کی وجہ سے ہمیشہ دوسروں کے لئے نمونہ رہے ہیں۔طلبہ کو اپنے اخلاق وکرادر کا محاسبہ کرتے رہنے چاہئے۔کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جس سے جامعہ کی شبیہ اور اس کی شہرت وناموری پر حرف آئے۔اگر کبھی طلبہ سے متعلقمجھے ایسی کوئی چیز پہنچتی ہیں جو طلبہ کے اوصاف یا جامعہ کی شہرت کے خلاف ہو تو اس سے مجھے حد درجہ دلی تکلیف پہنچتی ہے اور میں کبیدہ خاطر ہوتا ہوں۔اس لئے آپ سب اخلاق عالیہ کا مظہر بنیں اور غیر اخلاقی اعمال وکردار سے مکمل گریز کریں۔
رئیسِ جامعہ حفظہ اللہ نے اپنے خطاب کے اخیر میں اسلامی تربیت کی اہمیت کو بیان کیا اور کہا کہ تعلیم سے کہیں زیادہ اہم معاملہ تربیت کا ہے۔اگر تعلیم سے ہماری زندگی میں بدلاو نہیں آتا۔زندگی گزارنے کی سلیقہ مندی پیدا نہیں ہوئی تو پھر اس تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں۔
طلبہ کو اپنی تعلیم کے ساتھ تربیت کا خاص خیال رکھنا چاہئے آپ چاہیں ہاسٹل میں ہوں یا کلاس روم میں یا کسی عام جگہ میں آپ کے ایک ایک حرکت و عمل سے شرعی علم کی ترجمانی ہونی چاہئے۔آپ علم وعمل کے میدان میں جامعہ کی نیکی نامی کے باعث بنیں بدنامی کے لئے۔جامعہ ہم سب کے ہاتھ میں اللہ تعالی کی امانت ہے اور کل قیامت کے دن اللہ تعالى ہم سے اپنی اس امانت کے بارے میں پوچھے گا اس لئے اپنی تعلیمی اور تربیتی ذمہ داریوں میں کوئی کوتاہی نہ کریں اور پوری محنت سے تعلیم حاصل کریں۔
اخیر میں دعائیہ کلمات پر رئیس جامعہ حفظہ اللہ نے اپنی باتوں کو ختم کیا۔
آصف تنویر تیمی












