نئی دہلی، (یواین آئی) لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران پیر کو اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی کے چین سے متعلق بیان پر شدید ہنگامہ ہوا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی تین بار ملتوی کرنی پڑی۔ پہلے دو بار کے بعد کارروائی تیسرے وقت پورے دن کے لیے روک دی گئی۔مسٹر راہل گاندھی نے بحث کے دوران ایک سابق فوجی سربراہ کی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے ہند-چین سرحد کی صورتحال پر کچھ کہنے کی کوشش کی۔ اس پر وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کسی میگزین کے حوالے سے ایوان میں بات کرنا قواعد کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دے کر اپوزیشن لیڈر ایوان کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس پر حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کے درمیان نوک جھونک شروع ہو گئی۔ اس دوران لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ایوان کے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت دی کہ ایوان میں کسی اخبار کی کٹنگ، رسالہ یا کسی کتاب میں شائع شدہ باتوں کی بنیاد پر کوئی رکن اپنی بات نہیں رکھ سکتا۔وزیرِ داخلہ امت شاہ اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بھی مسٹر سنگھ کے اعتراض کی حمایت کی اور کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو کسی رسالے کی بنیاد پر اپنی بات ایوان میں رکھنے کا حق نہیں ہے۔ دونوں طرف کے اراکین نے قواعد کا حوالہ دیا، جس پر مسٹر برلا نے کہا کہ وہ جو وضاحت دے رہے ہیں وہ قواعد کی بنیاد پر ہے اور تمام اراکین کو اس کی پابندی کرنی چاہیے۔مسٹر شاہ نے کہا کہ وزیرِ دفاع صرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ جس کتاب کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ چھپی ہی نہیں ہے، تو اس کا ذکر کہاں سے کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خود اپوزیشن لیڈر کہہ رہے ہیں کہ کتاب شائع نہیں ہوئی ہے۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو بولنے کا حق ہے لیکن جب اسپیکر نے وضاحت دے دی ہے تو اس کی پابندی ہونی چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر کسی اور کی لکھی باتوں کو نہیں دہرا سکتے، وہ قواعد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔مسٹر رجیجو نے کہا کہ جب اسپیکر وضاحت دے چکے ہیں تو اپوزیشن لیڈر کو اس کی پابندی کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خود وزیرِاعظم نریندر مودی اپوزیشن لیڈر کی بات سننے کے لیے ایوان میں بیٹھے ہیں، اس لیے انہیں قواعد کے تحت بولنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان قواعد سے چلتا ہے اور اگر اپوزیشن لیڈر وضاحت کو نہیں مانتے ہیں اور اسپیکر بار بار وضاحت دے چکے ہیں اور اپوزیشن لیڈر پھر بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں تو اس پر غور کیا جانا چاہیے۔وزیرِ دفاع کے دوبارہ اعتراض کرنے کے باوجود جب مسٹر راہل گاندھی بار بار اسی بات کا ذکر کرنے کی کوشش کرتے رہے تو ایوان میں ہنگامہ تیز ہو گیا۔ اسپیکر نے مسٹر گاندھی کو روکا اور کہا کہ کسی بھی رکن کو کرسی کا عدم احترام کرنے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو خبردار کیا کہ وہ وضاحت کی پابندی کرتے ہوئے اپنی بات رکھیں۔سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو نے کہا کہ چین کا مسئلہ بہت حساس ہے اور اس پر بولنے کی مسٹر گاندھی کو اجازت دی جانی چاہیے۔ہنگامے کے دوران بی جے پی کے ڈاکٹر نِشیکانت دوبے نے بھی قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اخبار کی کٹنگ یا کتاب یا غیر مصدقہ موضوع کا حوالہ نہیں دیا جانا چاہیے۔مسٹر برلا نے دوبارہ سخت لہجے میں کہا کہ جب اسپیکر نے وضاحت دے دی ہے تو اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اپوزیشن لیڈر کو اپنی بات میں کتاب یا کسی اخبار کی کٹنگ کا ذکر نہیں کرنا چاہیے۔مسٹرگاندھی نے کہا کہ وہ صرف بی جے پی رہنما تیجسوی سوریہ کے سوالوں کا جواب دے رہے ہیں، اگر وہ سوال نہ اٹھاتے تو وہ بھی ذکر نہ کرتے۔ لیکن اسپیکر نے کہا کہ بی جے پی رکن نے جو سوال اٹھائے ہیں وہ سب پہلے سے ہی ایوان کی کارروائی میں ہیں۔کانگریس کے کے۔ سی۔ وینوگوپال نے کہا کہ قواعد 349 کے تحت حساس مسائل پر کسی رسالے میں چھپے مضمون کو حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے قواعد صرف اپوزیشن کے لیے ہیں ایسا لگتا ہے۔مسٹر گاندھی نے کہا کہ وہ ہندوستان اور چین کے تعلقات پر بولنا چاہتے ہیں لیکن اس پر بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے کردار پر تبصرہ کرتی ہے تو انہیں بولنے دیا جاتا ہے، لیکن انہیں روکا جا رہا ہے۔بعد میں کارروائی تین بجے تک ملتوی کر دی گئی۔












