احمدآباد، 12 مارچ (یو این آئی ) وزیراعظم نریندر مودی نے یہاں مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح کرتے ہوئے آج کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے جو اختراع کی جا رہی ہے وہ مسلسل پھیل رہی ہے ۔ ملک کے کونے کونے میں پراجیکٹس کا افتتاح ہو رہا ہے ، نئی ا سکیمیں شروع ہو رہی ہیں۔ اگر وہ صرف سال 2024 کی بات کریں تو اس کا مطلب ہے کہ 2024 شروع ہونے کے بعد بمشکل 75 دن گزرے ہیں، ان تقریباً 75 دنوں میں 11 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے ۔ اور اگر وہ گزشتہ 10-12 دنوں کی بات کریں تو صرف گزشتہ 10-12 دنوں میں 7 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ملک نے ترقی کی طرف بہت بڑا قدم اٹھایا ہے ۔ اس پروگرام میں اب ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ آج ملک کو 85 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے صرف ریلوے پروجیکٹ ملے ہیں اور اس کے بعد ان کے پاس وقت کی کمی رہ جاتی ہے ۔ وہ ترقی کی رفتار کو کم نہیں کرنا چاہتے اور یوں آج ریلوے کے پروگرام میں پٹرولیم عوام کا ایک اور پروگرام شامل ہو گیا ہے اور گجرات کے تحفے میں 20 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے اور یہ منصوبہ ہائیڈروجن کی پیداوار کے ساتھ ساتھ ملک میں پولی پروپیلین کی مانگ کو پورا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ آج ہی گجرات اور مہاراشٹر میں ایکتا مالز کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے ۔ یہ ایکتا مالز ہندوستان کی بھرپور کاٹیج انڈسٹریز، ہماری دستکاری، ہمارے ووکل فار لوکل کے مشن کو ملک کے کونے کونے تک لے جانے میں مددگار ثابت ہوں گے اور اس میں ہم ‘ایک بھارت شریشٹھ بھارت’ کی بنیاد کو مضبوط ہوتے دیکھیں گے ۔مسٹر مودی نے کہا کہ وہ ان منصوبوں کے لیے ہم وطنوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور وہ اپنے نوجوان دوستوں سے کہنا چاہتا ہیں کہ ہندوستان ایک نوجوان ملک ہے ، ملک میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے ، وہ خاص طور پر اپنے نوجوان دوستوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ آج کا آغاز آپ کے حال کے لیے ہے اور آج جو سنگ بنیاد رکھا گیا ہے وہ آپ کے روشن مستقبل کی ضمانت لے کر آیا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ آزادی کے بعد کی حکومتوں نے جس طرح سیاسی مفادات کو ترجیح دی، ہندوستانی ریلوے اس کا بڑا شکار رہی ہے ۔ پہلے 2014 سے پہلے کے 25-30 ریلوے بجٹ دیکھیں۔ وزیر ریلوے نے ملک کی پارلیمنٹ میں کیا کہا؟ ہماری فلاں ٹرین کو وہاں ا سٹاپ دے گا، وہاں ہمارے پاس 6 خانے ہیں لہذا ہم 8 بنائیں گے ۔ یعنی میں نے دیکھا کہ ریلوے اور پارلیمنٹ میں بھی وقفے وقفے سے تالیاں بج رہی تھیں۔ یعنی وہ سوچ رہی تھی کہ اسے اسٹاپج ملا یا نہیں؟ میرے اسٹیشن تک ٹرین آتی ہے ، آگے بڑھی یا نہیں؟ دیکھیں، اگر وہ 21ویں صدی میں اس طرح سوچ رہی ہوتی تو ملک کا کیا حال ہوتا؟ اس لئے انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ ریلوے کو الگ بجٹ سے نکال کر حکومت ہند کے بجٹ میں ڈالا اور اس کی وجہ سے آج حکومت ہند کے بجٹ سے پیسہ ریلوے کی ترقی کے لیے استعمال ہونے لگا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ آپ نے ان دہائیوں میں وقت کی پابندی دیکھی ہے ، یہاں کے حالات دیکھے ہیں۔ ٹرین کا مین لاک یہ دیکھنے نہیں گیا کہ اس پلیٹ فارم پر کون سی ٹرین ہے ۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ کتنی دیر ہوتی ہے ۔ اس وقت گھر میں موبائل نہیں تھا، اسٹیشن جا کر دیکھو کتنی دیر ہو جاتی ہے ۔ وہ اپنے رشتہ داروں سے کہتا تھا کہ انتظار کرو، وہ نہیں جانتے کہ ٹرین کب آئے گی، ورنہ انہیں دوبارہ گھر جانا پڑے گا۔ صفائی کا مسئلہ، سیکورٹی ، سہولت، سب کچھ مسافر کی قسمت پر چھوڑ دیا گیا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ 10 سال پہلے 2014 میں ملک کی 6 شمال مشرقی ریاستیں تھیں جن کا دارالحکومت ہمارے ملک کے ریلوے سے منسلک نہیں تھا۔ 2014 میں ملک میں 10 ہزار سے زائد ایسے ریلوے کراسنگ تھے ، تھے جہاں کوئی چوکیدار نہیں ہوتا تھا، حادثات مسلسل ہوتے رہے اور اس کی وجہ سے ہمیں اپنے ہونہار بچوں اور نوجوانوں سے محروم ہونا پڑا۔ 2014 تک ملک میں صرف 35 فیصد ریلوے لائنوں کو برقی کیا گیا تھا۔ ریلوے لائنوں کی ڈبلنگ بھی سابقہ [؟][؟]حکومتوں کی ترجیح نہیں تھی۔ اس صورتحال میں ہر لمحہ پریشانیوں کا سامنا کون کر رہا تھا؟ کون مصیبت میں تھا…؟ ہمارے ملک کا عام آدمی، متوسط [؟][؟]طبقے کا خاندان، ہندوستان کا چھوٹا کسان، ہندوستان کا چھوٹا کاروباری۔
مسٹر مودی نے کہا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ ریلوے ریزرویشن کی کیا حالت تھی۔ لمبی لائنیں، دلالی، کمیشن اور گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا ۔ لوگوں نے بھی سوچ لیا تھا کہ اب تو یہ حال ہے کوئی مسئلہ نہیں ہے ، دو چار گھنٹے کا سفر کرتے ہیں، کر لیں گے ۔ چیخیں مت، یہی زندگی بن گئی ہے اور انہوں نے (وزیراعظم نے ) اپنی زندگی ریلوے کی پٹریوں پر شروع کی ہے ۔ اس لیے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ریلوے کی حالت کیا تھی۔مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ ہماری حکومت نے ہندوستانی ریلوے کو اس جہنم جیسی صورتحال سے نکالنے کے لیے مطلوبہ قوت ارادی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اب ریلوے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔گجرات کے گورنر آچاریہ دیوورت ، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر بھائی پٹیل ، وزیر ریلوے اشونی وشنو ، رکن پارلیمنٹ اور گجرات پردیش بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر سی آر پاٹل اور ملک کے تمام کونے کونے سے جڑے افراد اس موقع پر تقریب میں موجود تھے ۔












