واشنگٹن، 24 جون : وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر جو بائیڈن نے دونوں ملکوں کے درمیان دفاع، اہم ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹرز اور اہم معدنیات کے شعبوں میں تعاون کے لیے کئی معاہدوں کا اعلان کیا ہے ۔ ان میں ہندوستان میں جنگی طیاروں کے انجنوں کی مشترکہ پیداوار، سی گارڈین مسلح ڈرون کی خریداری، کوانٹم کے شعبوں میں تعاون، جدید کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور خلائی تحقیق شامل ہیں۔ مسٹر مودی کے دورہ امریکہ کے دوران دونوں سرکردہ لیڈروں کی بات چیت کے بعد جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں مسٹر بائیڈن اور وزیر اعظم مسٹر مودی نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دنیا کی سب سے قریبی پارٹنرشپ میں سے ایک کے وژن کی توثیق کی جو دو ایسے سب بڑے جمہوری ممالک کے بیچ کی شراکت داری جو 21ویں صدی کو امید، آرزو اور اعتماد کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کو مضبوط بنانے میں تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں، امریکی مائیکرو چپ بنانے والی کمپنی مائیکرون ٹیکنالوجی ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر مشن پروگرام کے تعاون سے ہندوستان میں 2.75 ارب ڈالر کے سیمی کنڈکٹر اسمبلی اور ٹیسٹ کمپلیکس کی ترقی میں 80 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ ایک اور امریکی کمپنی اپلائیڈ میٹریلز نے
ہندوستان میں ایک سیمی کنڈکٹر سنٹر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے ، جس سے ہندوستان میں متعلقہ ٹیکنالوجیز کی
کمرشلائزیشن اور اختراع کو فروغ ملے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کو متنوع بنانے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔ یہی لیم ریسرچ ہندوستان میں 60,000 انجینئروں کو سمیلیٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے تربیت دے گی۔ اس سے ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ ملے گا۔ دونوں ممالک نے اہم مواد کے شعبے میں شراکت داری پر رضامندی ظاہر کی ہے ۔ امریکہ نے معدنی سلامتی پارٹنرشپ (ایم ایس پی) کے نئے رکن کے طور پر ہندوستان کا خیرمقدم کیا ہے ۔ ایم ایس پی کا قیام توانائی کے شعبے میں استعمال ہونے والے اہم معدنیات کے مضبوط اور متنوع ذرائع پر مبنی سپلائی چین کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے ۔ اس کے تحت رکن ممالک ضابطوں سے متعلق رکاوٹوں کے حل، ٹیکنالوجی اور مالی تعاون کے ساتھ اہم منصوبوں کے لیے سفارتی تعاون بھی فراہم کریں گے ۔ ہندوستان سمیت 13 مزید یورپی یونین اس شراکت داری میں شامل ہیں۔ ہندوستانی کمپنی ایپسیلن کاربن لمیٹڈ گاڑیوں کی بیٹریاں بنانے کے لئے نئے کارخانے کے لئے 65 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی اور پانچ سال میں اس میں 500 کارکن بھرتی کئے جائیں گے۔ اس میں مصنوعی گریفائٹ اینوڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا اور یہ الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹری کی صنعت میں امریکہ میں ہندوستان کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔ہندوستان کا بھارت 6 جی اور امریکہ کا نیکسٹ جی الائنس مشترکہ طور پر نجی سرکاری شراکت داری کی قیادت کریں گے ۔ اس سے ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کی لاگت کو کم کرنے اور سیکورٹی اور مضبوطی کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک نے خلاء میں ریسرچ کے نئے محاذوں پر تعاون پر بھی اتفاق ظاہر کیا ہے ۔ ہندوستان نے آرٹیمس معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور معاہدے میں شامل 26 دیگر ممالک کے ساتھ خلائی تحقیق کے شعبے میں پرامن، مضبوط اور شفاف تعاون کا عہد کیا ہے ۔ اس سے چاند، مریخ اور اس سے آگے کے سیاروں اور مصنوعی سیاروں کی تلاش میں مدد ملے گی۔معاہدے کے مطابق انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے خلاباز امریکی ایجنسی ناسا میں جدید تربیت حاصل کر سکیں گے ۔ اس پروگرام کا مقصد 2024 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے مشترکہ لانچنگ مشن ہے ۔ ناسا اور اسرو ایک ساتھ مل کر اس سال کے آخر تک انسانوں کو خلا میں بھیجنے کے لیے باہمی تعاون کے لیے ایک اسٹریٹجک بندوبست بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہندوستان نے اپنے یہاں ریزر انٹرفیرو میٹر گریویٹیشنل آبزرویٹری کی تعمیر پر 31.8 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کو منظوری دی ہے ۔ یہ آبزرویٹری امریکہ، یورپ اور جاپان میں اسی طرح کی رصد گاہوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی جس سے خلا سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جاسکے گی۔ ناسا اسرو سینتھٹک اپرچر ریڈار (این آئی ایس اے آر) سیٹلائٹ پر نصب کی جانے والی سائنسی اشیاء ہندوستان کو فراہم کر دی گئی ہے ۔ اسے اگلے سال لانچ کیا جائے گا۔ یہ سیٹلائٹ زمین کے ماحولیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کی پیمائش کرے گا۔
کوانٹم ایڈوانس کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کے معاہدوں کے تحت دونوں فریقوں نے مشترکہ کوانٹم کوآرڈینیشن سسٹم کو تشکیل دیا ہے ۔ اس کے تحت دونوں ممالک کے نجی اور سرکاری شعبے کی اکائیوں کی مشترکہ تحقیق میں مدد فراہم کی جائے گی۔ امریکہ نے کوانٹم ایٹینگل ایکسچینج اور کوانٹم اکنامک ڈیولپمنٹ کنسورشیم میں ہندوستان کی شرکت کا خیرمقدم کیا ہے ۔
گوگل بنگلورو میں اپنے اے آئی ریسرچ سینٹر کے ذریعے ہندوستان کی 100 سے زیادہ زبانوں کی مدد کے لئے ماڈل تیار کیا جارہا ہے ۔ کمپنی اے آئی ماڈل کے لئے اسپیچ ڈیٹا کی اوپن سورسنگ کے لیے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلورو کے ساتھ تعاون کر رہی ہے ۔ گوگل آئی آئی ٹی مدراس کے ساتھ مل کر اے آئی کے لیے ایک کثیر الشعبہ مرکز کے قیام میں تعاون کر رہا ہے ۔جدید سائنسی تحقیق کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ، امریکہ کی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن نے حکومت ہند کے محکمہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر 35 تحقیقی پروجیکٹوں میں تعاون کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا ہے ۔فاؤنڈیشن نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں تعاون کے لیے ہندوستان کی الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے ساتھ معاہدہ کیا ہے ۔دونوں فریقوں کے درمیان ایٹمی توانائی کے شعبے میں تحقیق کے منصوبے میں تعاون کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔ مشترکہ بیان میں امریکی کمپنی جی ای کے ذریعہ ہندوستان میں ایف-414 جیٹ انجن کو مشترکہ طور پر تیار کرنے کی تجویز کا خیر مقدم کیا گیا ہے ۔ جی ای نے اس کے لیے ہندوستانی کمپنی ہندوستان ایروناٹکس کے ساتھ معاہدہ کیا ہے ۔ یہ امریکی کمپنی کی طرف سے ہندوستان کو جدید جیٹ ٹیکنالوجی کی منتقلی کا معاہدہ ہے ۔ہندوستان نے امریکی کمپنی جنرل ایٹمکس سے مسلح ایم کیو 9 بی سی گارجیئن ڈرون خریدنے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔ یہ جدید تکنیکی ڈرون ہندوستانی مسلح افواج کی نگرانی کی صلاحیت کو وسعت دے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان بحری جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ جس کے تحت امریکی بحریہ کے جہازوں کو ایل این ٹی، مژگاوں ڈاک، گوا شپ یارڈ میں مرمت کی سہولت ملے گی۔ہندوستان اور امریکہ نے دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے کچھ نئے اقدامات شروع کرنے کی جانب قدم بڑھایا ہے ۔ دونوں ممالک سمندر کے اندر کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے تعاون کے انتظامات کو مضبوط کریں گے ۔ ہندوستان امریکہ کی کچھ فوجی کمان میں تین رابطہ افسر رکھے گا۔ اس سے دونوں ممالک میں اہم معلومات کے تبادلے میں تعاون بڑھے گا۔ اس طرح کا انتظام پہلی بار کیا جا رہا ہے ۔دونوں ممالک نے سیکیورٹی آف سپلائی کے معاہدے اور باہمی دفاعی خریداری کے انتظامات کے معاہدے کے لیے بھی بات چیت شروع کی ہے ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی صنعت تعاون پلان کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔ جو اس شعبے میں تعاون کے لیے پالیسی سمت فراہم کرے گا۔امریکہ میں رہنے والے ہندوستانیوں کے ویزوں کی تجدید کے لیے نیا انتظام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ جس کے تحت مخصوص کیٹیگری کے لوگوں کو ویزا کی تجدید کے لیے امریکہ چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ امریکہ کے ایچ 1 بی اور ایل و دیگر زمرے کے ویزا رکھنے والے اگلے سال سے اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ امریکہ نے بنگلور اور احمد آباد میں نئے قونصل خانے کھولنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور ہندوستان اس سال سیٹل شہر میں نیا قونصل خانہ کھولنے کے لیے تیار ہے اور امریکہ میں مزید دو سفارت خانے کھولنے کا اعلان کیا ہے ۔ امریکہ نے اسٹوڈنٹ ایکسچینج اینڈ اسکالرشپ اسکیم کے تحت گزشتہ سال ہندوستانی طلباء کو 1.25 لاکھ ویزے جاری کئے جو کہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے ۔ دونوں ممالک ثقافتی املاک کی غیر قانونی لین دین یا اسمگلنگ سے متعلق ایک معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ دونوں فریقوں نے باہمی اعتماد کے ساتھ تجارت سے متعلقہ مسائل حل کرنے کا عزم کیا۔ہندوستان اور امریکہ نے بحر ہند کے خطے میں علاقائی تعاون کو بڑھانے کے لیے دو طرفہ مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے ہندوستان کے دعوے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور صدر بائیڈن نے وزیر اعظم مودی کو 2023 میں سان فرانسسکو میں ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن (ایپک) سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے ۔ دونوں ممالک ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ترقیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے گلوبل ڈیجیٹل ڈیولپمنٹ پارٹنرشپ قائم کریں گے ۔ ہندوستان نے امریکی کمپنیوں کو صاف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے ۔امریکی ایجنسی یو ایس ایڈ نے انڈین ریل کو 2030 تک کاربن اخراج کے معاملے میں خالص صفر ترقی کے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے مدد کرنے کا وزارت ریلوے کے ساتھ معاہدہ کیا ہے ۔ دونوں ممالک ادائیگیوں، سیکورٹی کے نظام کی ترقی میں تعاون کریں گے ۔ امریکہ ہندوستان میں تیار ہونے والی 10 ہزار الیکٹرک بسوں کو چلانے میں مدد کرے گا۔ دونوں ممالک منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے باہمی تعاون کے موجودہ انتظامات کو مزید مستحکم کریں گے ۔












