نئی دہلی ، جنسی ہراسانی کے معاملے میں خواتین پہلوان گذشتہ ایک ہفتہ سے جنتر منتر پر سراپا احتجاج ہیں اور ڈبلیو ایف آئی کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جارہا ہے مگر حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔سیاسی ،سیاسی و دیگر شعبہ جات سے منسلک شخصیات بھی پہلوانوں کی حمایت میں اپنے رد عمل کا اظہار کررہے ہیں۔آل انڈیا مسلم ایکتا کمیٹی کے چیئر مین حاجی اکرام حسن نے خواتین پہلوانو ں کی حمایت میں رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج ان کو بھی سڑک پر اتر کر مظاہرہ کرنا پڑرہا ہے جنہوں نے نہ صرف ملک کے لئے عظیم قربانی پیش کی بلکہ پوری دنیا میں ملک کا نام روشن کیا۔جنہیں پلکوں پر بٹھانا چاہئے تھا وہ ایک خاص سیاست کی نذر ہیں یہی وجہ ہے کہ ہفتوں سے احتجاج کررہے ہیں مگر حکومت کانوں میں تیل ڈال کرسوئی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ مودی سرکار ’ناری سمان‘اور ’بیٹی بچاؤ ‘جیسے اچھے نعرے دے رہی ہے مگر انہیں کے پارٹی سے وابستہ لوگ اس نعرے کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور خواتین پہلوانوں نے ڈ بلیو ایف آئی کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی استحصال کا الزام لگایا ہے اور کاروائی کے مطالبے کی بابت ۷،۸ روز سے جنتر منتر پر احتجاج کررہے ہیں مگر ابھی تک مطالبہ پورا نہیں ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی نامور پہلوانوں کے ساتھ جنسی استحصال کا معاملہ در پیش آئے کا تو کون اپنی بچیوں کو اس میدان میں بھیجے گا اور جو لڑکیاں اس میدان میں ہیں ان کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی اس لئے وزیر اعظم نریندر مودی سے میری گزارش ہے کہ وہ اس معالے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواتین پہلوانوں کے درد کو سنیں اور جو ملزم ہے اسے کیفرکردار تک پہنچا نے کی راہ ہموار کریں تاکہ جہاں ان پہلوانوں کو حوصلہ ملے وہیں کشتی سے شغف رکھنے والی لڑکیوں کو بھی تقویت ملے اور اپنی کامیابی سے دنیا بھر میں ملک و ملت کانام روشن کریں۔












