نئی دہلی اللہ رب العالمین نے ماہ رمضان میںقرآن مجید جیسی مقدس کتاب کونازل فرمایا ، یہ عظیم کتاب دنیا کے عظیم ترین فرشتہ کے ذریعہ عظیم ترین نبی کے عظیم دل پر نازل ہوئی، اس کے نزول کے لیے دنیا کا مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ منتخب کیا گیا اورسب سے پاکیزہ زبان میںاس کا نزول وجود میں آیا ، اس ماہ مبارک کی تما م تر فضیلتوں میںیہ ایک فضیلت ہی کافی ہے کہ قرآن مجید جیسی مقدس کتاب کے نزول کے لیے رب کائنات نے اس مبارک ماہ کا انتخاب فرمایا ۔ یہ قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اوراس میں دین کے احکامات کے ساتھ دنیا کی ترقی کے بہت سارے راز بھی موجود ہیں ۔ ماہ رمضان سے اس مقدس کتاب کا رشتہ اس طرح بھی بہت گہرا ، مضبوط اور پاکیز ہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہرسال جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اورز ندگی کے آخری رمضان میں آپ نے دوبار دور کیا ۔ اس ماہ مبارک میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اورسرکش شیاطین کوجکڑ دیا جاتا ہے ، نیز اللہ رب العالمین نے فرمایا کہ بنی آدم کے سارے اعمال اس کے لیے ہیں سوائے روزہ کے ، روزہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کا بدلہ دوںگا اورروزہ دار کے خالی معدہ کی وجہ سے اس کے منہ میں پیدا ہونے والی مہک اللہ رب العالمین کومشک عنبر سے زیادہ محبوب ہے ۔
ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر ، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی ، مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکرصدیق ، جوگابائی ، نئی دہلی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا ۔ مولانا ماہ مبارک کے فضائل اور اس میںکی جانے والی بعض غفلتوں کا تذکرہ فرمارہے تھے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہمیں اس ماہ مبارک میں یہ سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم ایک ماہ کے رمضانی مسلمان تو نہیں بن گئے۔ ہمیںاپنے معاملات کو ہرناحیہ سے بہتر کرنا ہوگا، اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد کوپورا کرکے توحید کے تقاضوں کی تکمیل کرنی ہوگی ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے تقاضوں کی تکمیل اورصحابہ کرام کے حقوق اوراس کے تقاضوں پر عمل پیرا ہونے پر بھی غور وتدبر کرکے اپنا احتساب کرنا چاہیے۔
خطیب محترم نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہیںچھوڑا اورجہالت کی باتیں ترک نہیںکیں تو اللہ کو اس کے بھوکا اورپیاسہ رہنے کی ضرورت نہیںہے اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزیدفرمایا کہ بہت سے افراد روزہ رکھتے ہیںاور قیام وتہجد کا اہتمام کرتے ہیںلیکن ان کا روزہ بھوک و پیاس اورقیام وبیداری کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ گویا انہیں اپنی عبادات میں اخلاص پیدا کرنا چاہیے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزیدفرمایا کہ یہ روزہ برائیوںسے بچنے کے لیے ڈھال ہے اگرتم سے کوئی گالی گلوچ اورلڑائی جھگڑا کرے تو اس کو کہہ دو کہ میںروزہ سے ہوں۔ نیز ایک حدیث میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ اس شخص کی ناک خاک آلود ہوجسے رمضان ملے اور وہ اپنی مغفرت نہ کراسکے اس جیسی دیگر احادیث سے بھی اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ روزہ محض بھوک ا ور پیاس کا نام نہیںہے بلکہ ظاہری اورباطنی پاکیزگی اختیار کرنے کا اہم ذریعہ ہے اورماہ رمضان محض عبادات کا مہینہ نہیں بلکہ آگے کی زندگی کے لیے بھی اس عزم کا نام ہے کہ ہم ساری عمر ایک پاکیزہ زندگی گزاریںگے اورسچے مسلمان بن کر ز ندگی کے آخری مرحلہ تک تقویٰ اختیار کریںگے، رمضان کے روزہ کا مقصد تقویٰ کوبتایا گیا ہے اگرایک مسلمان تقوی اختیار کرلے تووہ زندگی کے تمام معاملات چاہے وہ عقائد سے متعلق ہوں، عبادات سے متعلق ہوں، واجبات ، نوافل، فضائل ، تجارت، لین دین یاز ندگی کے کسی بھی گوشہ سے متعلق ہوں یہ تقویٰ تمام امور میں نکھار پیدا کردیتا ہے ۔












