نئی دہلی 14مئی، سماج نیوز سروس:مغربی بنگال اور بہار کی نو منتخب حکومتوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس سے لاکھوں خاندانوں کے سروں پر معاشی اور سماجی بائیکاٹ کی تلوار لٹک گئی ہے۔ ریاستی حکومتوں نے اعلان کیا ہے کہ جن افراد کے نام اسٹیٹ انویسٹی گیشن رپورٹ (ایس آئی آر) میں شامل نہیں ہیں، وہ اب کسی بھی قسم کی سرکاری فلاحی اسکیم، راشن کارڈ اور بینکنگ سہولیات کے حقدار نہیں ہوں گے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لاکھوں افراد پہلے ہی شہریت ثابت کرنے کیلئے ٹربیونلز کے چکر کاٹ رہے ہیں اور ذہنی کرب کا شکار ہیں۔مغربی بنگال کی نئی تشکیل شدہ بی جے پی حکومت نے اپنی پہلی کابینہ میٹنگ میں واضح کر دیا ہے کہ سابقہ حکومت کی تمام سماجی اسکیمیں جاری رہیں گی، لیکن ان کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ملے گا جنہیں حکومت ‘ہندوستانی شہری’ تسلیم کرتی ہے۔ وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مردہ افراد، غیر قانونی دراندازوں اور غیر ملکیوں کو بنگال کے شہریوں کیلئے مختص وسائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگرچہ انہوں نے ان لوگوں کو عارضی راحت دینے کی بات کی ہے جن کے کیسز ٹربیونلز میں زیر سماعت ہیں، لیکن ‘غیر قانونی درانداز’ کی اصطلاح کے استعمال نے اقلیتی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔دوسری جانب بہار میں صورتحال مزید سنگین دکھائی دے رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سمرت چودھری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیے گئے ہیں، وہ کسی بھی سرکاری فائدے کے حقدار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مناسب وقت پر ایسے افراد کی بینک پاس بکس بھی منسوخ کر دی جائیں گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ متاثرہ افراد اپنی جمع پونجی تک رسائی سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔ بہار کے وزیر خوراک اشوک چودھری نے تصدیق کی ہے کہ ایس آئی آر کی بنیاد پر اب تک ریاست میں تقریباً 5 لاکھ راشن کارڈ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔بنگال کے وزیر خوراک و رسد اشوک کرتانیا نے اس پالیسی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جن کے نام ایس آئی آر سے کٹ گئے ہیں انہیں’غیر بھارتی‘ تصور کیا جائے گا۔












