انتخابی سیاست پر تبصرہ کرنے والوں کی سانسیں اب ایک بار پھر تیز ہو رہی ہیں کیونکہ ہماچل اور گجرات کے انتخاب کے بعد اب 2023میں کم وبیش دس اسمبلی حلقوں میں انتخاب ہونے ہیں۔حالانکہ سال گذشتہ کی طرح ساری میڈیا اور اس سے منسلک لوگ اپنے اپنے طور پر انتخابات اور اس کے نتائج سے قبل ہی سب کچھ واضح کر دینا چاہتے ہیں۔
ان دنوں ساری خبروں اور نیوز چینل پر ہونے والے مباحثوں میں گجرات، مودی کا مستقبل، کانگریس، عاپ کے مستقبل اور ملک میں آئندہ ہونے والی سیاست پر جم کر گفتگو ہوگی۔ پتہ نہیں لوگوں کو یہ کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ ان ریاستوں میں مودی اینڈ کمپنی کی شکست و فتح کے بعد راتوں رات ملک کا ماحول تبدیل ہو جائے گا اور ہر چہار جانب امن و امان کی ہوائیں چلنے لگیںگی۔ روزگار کا طوفان آ جائے گا، مہنگائی کی مار سے ملک کے عام لوگوں کو یکایک نجات مل جائے گی۔عدالتوں میں انصاف کی آواز گونجنے لگے گی۔ رشوت خوری کی وباءکا خاتمہ ہو جائے گا اور تمام سیاسی لیڈروں کا کیریکٹر تبدیل ہو جائے گا۔پورا ملک مذہبی منافرت کی آگ سے نکل کر محبت کی چھاؤں میں پناہ گزیں ہو جائے گا، اور 2024 کے عام انتخاب میں بی جے پی اقتدار سے باہر ہو جائیگی۔
میرے قارئین جانتے ہیں کہ گجرات انتخاب کے دوران بھی میں نے لکھا تھا کہ سب سے بڑا سوال تو یہی ہے کہ گجرات جیسی ریاست سے جسے آر ایس ایس نے ایک طویل عرصے کی مشقت کے بعد ہندوتوا کی لیباریٹری بنایا ہے اور اسی ماڈل کو ملک کے سامنے رکھ کر مرکزی حکومت پر آٹھ سال سے قابض ہے، اس ریاست سے اسے بے دخل کیونکر کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ اپوزیشن کے پاس بی جے پی کے خلاف سوائے مہنگائی اور بیروزگاری کے کوئی ایسا مدعا نہیں ہے جس سے عوام کو اپنے حق میں کیا جا سکے۔ باقی رہا کرپشن اور انفراسٹرکچر کا معاملہ تو اس سے تو ایک عرصہ سے پورا ملک جوجھ رہا ہے لیکن ملک کی اکثریتی آبادی کے لئے مودی اس لئے ہیرو ہے کہ وہ ملک کے مسلم شہریوں کے خلاف ایک عذاب کا فرشتہ ہے۔
ٹی وی چینلوں، اخبارات اور سوشل میڈیا پر ملک کے موجودہ حالات اور خاص طور پر گجرات کے عوام کی حقیقی صورتحال کا جو جائزہ پیش کیا جا رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے تو ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کی سرکار گجرات میں غیر قانونی طور پر عوام کے حقوق کی لاش پر چڑھ کر بیٹھی ہے اور جیسے ہی انتخاب کا دن آئے گا لوگ جوق در جوق گھروں سے نکل کر ووٹنگ بوتھ پر یلغار کر دیںگے اور اپنے کندھوں سے بی جے پی کے ظلم و جبر کا جوا اتار پھینکیںگے“۔
اور ہم نے گجرات انتخاب کے نتائج میں دیکھا کہ عام لوگ یا اکثریتی طبقہ ان ستائیس برسوں کے بعد بھی بی جے پی کے جھوٹ، فریب، نفرت اور استحصال کے ساتھ کھڑا ہے۔آج بھی گجرات کا رول ماڈل نریندر مودی ہے اور گجرات حکومت کو دل بھر کر برا کہنے والے لوگ بھی مودی کو ہی ملک کا سربراہ دیکھنا چاہتے ہیں۔موربی میں ہوئے حادثے سے بھی گجرات میں مودی مخالف لہر نہیں چلی۔پوری کی پوری سرکار کو بدل دینے کے بعد بھی عوام کو بی جے پی کی ناکام سیاست کی سمجھ نہیں آئی۔ سورت کی ہیرا منڈی کے مزدور آج بھی ڈر ڈر کر گفتگو کرتے ہیں، وہاں کے کپڑا کاروباری کیمرے کے سامنے اپنے دکھ کا اظہار کرنے سے ڈرتے ہیں۔ گجرات میں بی جے پی سرکار کے سارے وزراءکو انتخاب لڑنے سے منع کر دیا گیا اور نئے چہروں کو ٹکٹ اس لئے دیا گیا کہ عوام ان سے سابقہ کارکردگی پر سوال نہ کر سکے لیکن کسی نے بغاوت نہیں کی اور سر جھکا کر اس بھیڑ کا حصہ ہو گئے جو انتخابی موسم میں پرچار کا کام کرتے ہیں۔
پھر بھی میڈیا کبھی عاپ کی سرکار بنواتی رہی تو کبھی کانگریس کی، اور یہ بھی قیاس آرائی جاری رہی کہ گجرات ہارتے ہی مودی اینڈ کمپنی کی الٹی گنتی شروع ہو جائیگی۔ آر ایس ایس اور مودی اینڈ کمپنی کے درمیان سرد جنگ کی اطلاع ایسے دی جاتی تھی جیسے موہن بھاگوت نے ان تبصرہ نگاروں کو اپنے دل کی بات بتا دی ہو۔گڈ کری کو دوسرا باجپائی ثابت کرنے کی بھی شدو مد سے کوشش کی جاتی رہی، اور راج ناتھ کو بلی کا بکرہ بنا کر ایسے پیش کیا جاتا رہا جیسے مودی اینڈ کمپنی کی کارستانیوں سے راج ناتھ کا کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہ سب محض قیاس آرائیاں ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں نفرت کی جو فصل بوئی گئی ہے ابھی وہ فصل پوری طرح پک کر تیار ہی نہیں ہوئی ہے،اور جب وہ فصل تیار ہوگی اس وقت رونے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔آر ایس ایس ابھی اپنی منزل تک نہیں پہنچی ہے اور اس کا مشن ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔
ملک کے نام نہاد سوشلسٹوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آر ایس ایس نے تقریباً سو سال تک اقتدار تک پہنچنے کا انتظار کیا ہے،اور اب جب اس کا ہدف اس کے سامنے ہے تو وہ یوٹرن لینے والی نہیں چاہے اس کی راہ میں آئین آئے یا ملک کا اتحاد اسے اس سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔
رہا سوال حزب اختلاف کے اتحاد کا تو اس کا دور دور تک کہیں سراغ نہیں۔ اپنی اپنی ریاستوں میں اپنی اپنی سرکار بنا کر بیٹھی یہ علاقائی پارٹیاں بیک وقت کانگریس اور بی جے پی دونوں سے لڑنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں اور اس سے فائدہ بی جی پی کو ہورہا ہے اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔












