محمد زاہد امینی
نوح،میوات،سماج نیوز سروس: میوات کے تعلیم یافتہ صلاحیت مند نوجوان و ضلع پلول ریڈکراس سوسائٹی کے سکریٹری واجد علی کی وفات پر علاقہ میں غم و اندوہ کا ماحول پایا جاتا ہے۔ علاقہ کی تعلیمی ، سماجی، مذہبی و دیگر سرکردہ شخصیات کی طرف سے اظہار تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں جامعہ المنائی میوات گروپ کی جانب سے بھی واجد علی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت و اہل خانہ کو صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ گروپ کے سینئر ممبر ایچ سی ایس وکیل احمد منیجنگ ڈائریکٹر کوآپریٹیو شوگر میل کیتھل نے کہا کہ حالانکہ میری بھائی واجد سے زیادہ ملاقاتیں نہیں تھی ،صرف دو مرتبہ میری اس سے ملاقات ہوئی ۔ ملاقات کے دوران میں نے دیکھا کہ وہ اپنی زندگی کو لیکر بالکل کلیئر سیٹ انسان تھے۔ سب کے کام آنا اور اپنی ڈیوٹی کو بحسن خوبی انجام دینا ان کی خاص عادت تھی۔ ان کا دنیا سے جانا میوات کے لیے بڑا خسارہ ہے ۔ میوات کے پہلے ایچ سی ایس ڈاکٹر محمد شفیق ڈپٹی ایکسائسز اینڈ ٹیکسیشن کمشنر نے کہا کہ ان کی موت میؤ سماج کا ایک بہت بڑا لوس ہے ۔واجد علی ایک اچھے اورسوشل انسان تھے اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔ سوشل ویلفیئر آفیسر ہریانہ وقف بورڈ مولانا محمد مبارک مدنی نے اسے افسوس ناک خبر بتاتے ہوئے کہا کہ مرحوم کافی فعال و سمجھدار انسان تھے ۔ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان و ضلع سطح کے آفیسر کا چلا جانا میوات کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ محکمہ صحت میں ضلع کوآرڈینٹر ارشد ایوب چوکھہ نے ان کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے پروڈیکٹ واجد علی ایک ملنسار ، خاموش مزاج و دانشمند انسان تھے ۔ علاوہ ازیں اظہار تعزیت کرنے والوں میں نجم الثاقب سیرولی، پروفیسر مشتاق احمد ، پروفیسر ذاکر حسین بابو شوبھا رام گورنمنٹ آرٹ کالج الور ، پرنسپل جان محمد گھاسیڑہ ، پروفیسر عمران نظام پور، مبارک حسن روپڑاکا، لائبریرئن ساجد حسین گھاسیڑہ، صحافی زبیر راولکی ، ماسٹر ماجد ملائی، جاوید آکیڑہ، اظہرالدین، حاجی منشریف شکراوہ، وسیم اکرم و خالد میواتی گھاسیڑہ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔












