امریکہ: اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کے حوالے سے حماس پر نئے الزامات عائد کیے جانے کے بعد امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تحریک کو دھمکی دی ہے۔انہوں نے منگل کے روز فلوریڈا کے پام بیچ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ’’اگر میرے صدارت سنبھالنے تک یرغمالی رہا نہیں کیے جاتے تو مشرق وسطیٰ میں جہنم کے دروازے کھل جائیں گے ۔ یہ حماس اور کسی کے لیے بھی اچھا نہیں ہوگا۔
ٹرمپ صاف لفظوں میں اسرائیل پر سات اکتوبر 2023ء کے حملے کے بعد سے حماس کے زیر حراست اسرائیلیوں کی طرف اشارہ کررہےتھے۔دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ کے ایلچی نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ 20 جنوری کو ٹرمپ کی حلف برداری کے وقت تک غزہ میں حماس کے زیر حراست اسرائیلیوں کے حوالے سے اچھے نتائج حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔
سٹیو وٹ کوف نے پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ "میں واقعی امید کرتا ہوں کہ ہمارے پاس صدر کی جانب سے ان کی حلف برادر کے وقت تک اعلان کرنے کے لیے اچھی خبر ہوگی۔”قابل ذکر ہے کہ قطری وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات تکنیکی سطح پر جاری ہیں اور وفود قاہرہ اور دوحہ میں ملاقات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے حماس پر فلسطینیوں میں جنگ بندی کے معاہدے کو ناکام بنانے کے نئے الزامات عائد کیے ہیں۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک سینیر اہلکار نے حماس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایڈن بار تال نے کہا کہ معاہدے پر پہنچنے کا واحد طریقہ تحریک پر دباؤ ڈالنا ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل قیدیوں کے حوالے سے ایک معاہدہ طے کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ان کی رہائی میں واحد رکاوٹ حماس ہے۔
یہ الزامات حماس کے ایک عہدیدار کی جانب سے گزشتہ اتوار کو اس انکشاف کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے پیش کی گئی 34 قیدیوں کی فہرست سے اتفاق کیا ہے جو تباہ شدہ فلسطینی پٹی میں ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے تحت تبادلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ کوئی بھی معاہدہ غزہ سے اسرائیلی انخلاء اور مستقل جنگ بندی سے مشروط ہے۔دوسری جانب حماس نے نومنتخب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی دھمکی کے بعد انہیں کہا ہے کہ ٹرمپ دھمکیوں کے بجائے جنگ بند کرائیں۔
خیال رہے کہ کل منگل کوایک بار پھر امریکی صدر نے حماس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے ورنہ پورے مشرق وسطیٰ کو جھنم میں تبدل کردیا جائے گا۔الجزائر میں پریس کانفرنس کے دوران حماس کے ایک عہدیدار اسامہ حمدان نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد بازی میں نہ آئیں اور غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ دیں۔
ٹرمپ کی دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے حمدان نے کہا کہ انہیں زیادہ نظم و ضبط اور سفارتی ہونا چاہیے اور دھمکیاں دینے کے بجائے جنگ کو روکنے کے لیے کام کرنا چاہیے”۔












