کانپور،سماج نیوز سروس : امت پر سب سے بڑی ذمہ داری ہر دور میں ایسے افراد تیار کرنا ہے جو دین کو زندہ رکھ سکیں اور اسے آگے لے کر چلیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف مفسر قرآن مولانا یحیٰی نعمانی ناظم المعہد العالی للدراسات الاسلامیہ لکھنؤ نے آج جامعہ محمودیہ اشرف العلوم، کانپور میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر اساتذہ کرام کے ساتھ منعقدہ ایک خصوصی اور فکر انگیز نشست میں کیا۔ مولانا جامعہ کے ناظم مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی خصوصی دعوت پر یہاں تشریف لائے تھے۔ مولانا نے تاریخ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد دین کی اشاعت اور تحفظ کی یہ عظیم ذمہ داری خلفائے راشدین اور کبار صحابہ کرامؓ پر آئی، جنہوں نے علمائے صحابہ اور تابعین کو دنیا کے ہر شہر میں بھیج کر علم کی شمع روشن کی۔ آج اپنی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود یہ علمائے دین اور طلبۂ علم ہی ہیں جن کے دم سے دین زندہ ہے۔ امت کے دیگر طبقات (حکام، امراء، ڈاکٹرز، انجینئرز) اگر خدانخواستہ ختم بھی ہو جائیں تو دین باقی رہے گا، لیکن اگر ایک یا دو نسلیں بھی ایسی گزر جائیں جن میں علماء اور طلبہ نہ ہوں تو دین کا ڈھانچہ بکھر جائے گا۔ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا عظیم فضل ہے کہ اس نے ہم کمزوروں اور ناتوانوں کو انبیائے کرام کی اس عظیم وراثت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ مولانا نے واضح کیا کہ مدارس کے اس پورے نظام میں نہ عمارت اصل مقصود ہے، نہ ناظم و مہتمم اور نہ ہی اساتذہ، بلکہ اصل مقصود طالبِ علم ہے۔ طالب علم کو ہی اپنا سرمایہ اور اپنی آخرت و دنیا سمجھ کر اس پر بھرپور محنت کرنی چاہیے۔ حضرت مولانا منظور نعمانی ؒ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’دنیا میں سب سے قیمتی چیز بااستعداد مولوی ہے اور سب سے بے قیمت چیز بے استعداد مولوی ہے‘‘۔ طلبہ کی بظاہر کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے انتہائی دردمندانہ لہجے میں کہا کہ ہمارے پاس عموماً غریب طبقے اور معمولی استعداد کے بچے آتے ہیں، لیکن یہی ہماری اصل متاع اور دین کا حقیقی سہارا ہیں۔ ہمیں اس ٹوٹی پھوٹی متاع کو ہی عزیز رکھنا چاہیے اور ان پر دن رات محنت کرنی چاہیے۔ اکابرین کے طرزِ عمل کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا نعمانی نے تبلیغی جماعت کے سرکردہ رہنما ڈاکٹر نادر علی خان مرحوم کا واقعہ سنایا، جو روزانہ دو رکعت صلاۃ التوبہ (کہ کام کا حق ادا نہ ہو سکا) اور دو رکعت صلاۃ الشکر (کہ اللہ نے اس عظیم خدمت کے لیے چنا) ادا کرتے تھے۔ تعلیمی نظام کے حوالے سے اساتذہ کو تلقین کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی درجات میں نحو و صرف پر خصوصی محنت ہونی چاہیے تاکہ بچوں میں براہ راست عربی سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ ہر عبارت کا ترجمہ کرنے کے بجائے طلبہ کو خود ترجمہ کرنے کا عادی بنایا جائے، کیونکہ جس طالب علم کی عربی فہمی مضبوط ہو گئی، اس کے لیے بخاری تک علم حاصل کرنا انتہائی آسان ہو جاتا ہے۔












