سماج نیوز سروس: شدید ترین گرمی کی لہر کے بیچ جموں کے کٹھوعہ اور راجوری اضلاع کے جنگلاتی علاقے آگ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں، جس سے سر سبز سونے کا کافی نقصان پہنچا ہے۔ ادھر شدید گرمی کی لہر کے بیچ محکمہ جنگلات نے سخت ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ جنگلاتی علاقوں میں جانے سے گریز کریں اور کسی بھی طرح کی آگ بھڑکانے کی کوشش نہ کریں۔ اس احتیاطی اقدام کا مقصد جنگل میں لگنے والی آگ کو روکنا اور خطے کے اہم سبز احاطہ کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنا ہے۔تفصیلات کے مطابق ٹنل کے آر پار شدید گرمی کی لہر کے بیچ جنگلات میں آگ بھڑکنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور جموں کے کھٹوعہ اور راجوری ضلع میں جنگلات کے وسیع حصہ میں آگ لگنے سے کافی نقصان ہو گیا ہے ۔ حکام نے بتایا کہ آگ کٹھوعہ ضلع کے باشولی پٹی کے علاقے دھارا ڈوگانو سے شروع ہوئی اور جلد ہی آس پاس کے علاقوں میں پھیل گئی۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ جنگلات کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے آگ بجھانے کیلئے آپریشن شروع کیا، جس سے آج کئی گھنٹوں کے بعد آگ پر کامیابی سے قابو پالیا گیا۔حکام نے بتایا کہ راجوری ضلع کے ساونی سسلکوٹ علاقے میں آگ لگی اور تیز ہواؤں کی وجہ سے ملحقہ علاقوں میں پھیل گئی۔ محکمہ جنگلات اور فاریسٹ پروٹیکشن فورس نے بڑے پیمانے پر آگ بجھانے کا آپریشن شروع کیا ہے، جو کہ ابھی تک جاری ہے کیونکہ آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔عہدیداروں نے بتایا کہ راجوری کے کچھ علاقوں میں پچھلے تین دنوں سے جنگل کی آگ لگی ہوئی ہے، جس پر قابو پانے کی مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ آگ کی شدت کے باوجود کوئی انسانی جانی نقصان نہیں ہوا۔ادھر شدید گرمی کی لہر کے چلتے جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلات نے سخت ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ جنگلاتی علاقوں میں جانے سے گریز کریں ۔اس احتیاطی اقدام کا مقصد جنگل میں لگنے والی آگ کو روکنا اور خطے کے اہم سبز احاطہ کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنا ہے۔مقامی ذرائع کی اطلاع ہے کہ لوگ بعض اوقات جنگلاتی علاقوں میں آگ لگاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کبھی کبھار آگ لگتی ہے جو اس علاقے کے ’سبز سونے ‘یعنی اس کے درختوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔گاندربل میں سندھ رینج کے ڈویڑنل فارسٹ آفیسر (ڈی ایف او) دانش خان نے بتایا کہ کوئلے اور لکڑی کو جمع کرنا، خاص طور پر اگر غیر قانونی طور پر کیا جائے تو ہمیشہ ممنوع ہے۔ گرمی کی موجودہ لہر کے پیش نظر، ہر ایک کیلئے جنگلات میں داخل ہونے اور کسی بھی قسم کی آگ بھڑکانے سے گریز کرنا بہت ضروری ہے۔ جو بھی ان علاقوں میں آگ لگاتا ہوا پایا گیا اسے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔خان نے جنگلات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا جنگل ہمارے قدرتی وسائل ہیں، اور یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ انہیں کسی بھی قسم کے نقصان سے محفوظ رکھا جائے۔ایڈوائزری شدید گرمی کے اس دور میں جنگلات کے تحفظ کے لیے عوامی تعاون کی اہم ضرورت پر زور دیتی ہے، جو خطے کی ماحولیاتی صحت اور حفاظت کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔












