نئی دہلی ، وطن عزیز بھارت کو کورونا کے خطرناک جان لیوا وائرس سے ابھی بمشکل ہی نجات ملی تھی کہ اب ملک کی کچھ ریاستوں پر پھیلے موسمی انفلوائنزا H3N2نے لوگوں کی فکر بڑھا دی ہے۔یہ وائرس اب جان لیوا بھی ثابت ہو رہا ہے۔ شما لی اور جنوبی ریاست ہریانہ اور کرناٹک میںH3N2انفلوائنزا سے اموات کے دو معاملے سامنے آئے ہیں جبکہ غیر سرکاری طور پر اموات یا متاثرین کی تعداد مختلف ہو سکتی ہے۔H3N2 انفلوائنزا سے متاثر دو افراد کی ہرےانہ اور کرناٹک میں ہوئی اموت نے سنسنی پیدا کردی ہے ۔ جمعہ کو سرکاری طور پر یہ اطلاع دی گئی ہے ۔ ایک موت کرناٹک میں ریکارڈ کی گئی، جبکہ دوسری H3N2انفلوئنزا کی وجہ سے ہریانہ میں ہوئی۔اس خبر کے بعد وزارت صحت الرٹ ہوگئی ہے۔ملک میںبڑھتے معاملوں کے درمیان آج جمعہ کو یونین وزیر صحت مانسکھ مانڈویا نے سبھی ریاستوں سے مستعد اور چوکنا رہنے اور حالات پر قریب سے نظر رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔انہوں نے اپنے ٹوئیٹ کے ذریعہ اس کی اطلاع دی ۔ادھر ہریانہ کے وزیر صحت انل وج نے کہا ہے کہ ” اب تک H3N2وائرس کے 10کیس رپورٹ ہوئے ہیں،احتیاط ضروری ہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ H1N1 کی طرح ہے، یہاں تک کہ ہلکا۔ ہم نمٹنے کی پوری تیاری کر رہے ہیں۔انہوں نے آج یہ اطلاع ایک ٹوئیٹ کر کے دی ہے ۔واضح رہے کہ کچھ دن پہلے ہی کرناٹک کے وزیر صحت کے سدھاکر نے کہا تھا کہ ریاست میں انفلوئنزا H3N2 ویرینٹ وائرس کے انفیکشن سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ لوگوں کو احتیاط کرنے کے لیے جلد رہنما خطوط جاری کیے جائیں گے اور تمام اسپتالوں کے ہیلتھ ورکرز کو لازمی طور پر چہرے کے ماسک پہننے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم جاری کیا جائے گا۔نیز یہ کہ ریاست میں 26 لوگوں نے H3N2 پازیٹو کا تجربہ کیا ہے اور ان میں سے دو کیس بنگلورو کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 15 سال سے کم عمر کے بچوں کو H3N2 ویریئنٹ سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور یہ قسم 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ملک میں اب تک H3N2 انفلوئنزا کے کل 90 اور H1N1 کے آٹھ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے فی الحال آبادی میں گردش کرنے والے ان دو قسم کے انفلوئنزا وائرس کا پتہ لگایا ہے۔مارچ کے آغاز میں ہی انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ماہرین نے کہا تھا کہ ہندوستان میں پچھلے دو تین مہینوں سے مسلسل کھانسی اور بعض صورتوں میں بخار کے ساتھ کھانسی کی وجہ ‘H3N2’ ذیلی قسم ہے انفلوئنزا اے۔ادھر دوسری جانب ICMR کے سائنسدانوں نے کہا H3N2، جو پچھلے دو تین مہینوں سے بڑے پیمانے پر لوگوں میں پھیل رہا ہے، دیگر ذیلی اقسام کے مقابلے میں مریضوں کے ہسپتال میں داخل ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔دوسری طرف، انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) نے ملک بھر میں کھانسی، نزلہ اور متلی کے بڑھتے ہوئے کیسوں کے درمیان اینٹی بائیوٹکس کے زیادہ استعمال کے خلاف خبردار کیا ہے۔ آئی ایم اے نے کہا کہ موسمی بخار پانچ سے سات دن تک رہے گا۔
آئی ایم اے کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے مطابق بخار تین دن میں ختم ہو جائے گا، لیکن کھانسی تین ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔انفلوانزا کے پاؤں پسارنے کی خبروں نے لوگوں میں ایک بار پھر بے چینی پیدا کردی ہے ،حکومت اس کے خلاف کیا قدم اٹھا رہی ہے ےا رہنما خطوط جاری کرنے والی ہے ،لوگ اس کا بے صبری سے انتظار کررہے ہیں۔ان کا مطالبہ ہے کہ قبل اس کے کہ وائر س سے مزید جانی اتلاف کا آغاز ہو ےا یہ سنگین صورتحال اختےار کرے ،رےاستی حکومتوں کی جانب سے احتیاطیقدم اٹھا لئے جانے چاہئیں۔












