دیوبند:سماج نیوز سروس: رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف ایک عظیم سنت ہے جس کے ذریعہ سے روزہ دار تمام دنیاوی مصروفیات کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مسجد میں گوشہ نشیں ہو جاتا ہے ۔معتکف کے اس عمل میں شب قدر کی تلاش ،گناہوں اور لغزشوں سے توبہ اورمعافی ،جہنم سے آزادی کے ساتھ حج وعمرہ کے بقد ر ثواب حاصل کرنا ہوتا ہے ،جو روحانی تربیت کا بہترین عمل اور ذریعہ ہے ۔اعتکاف کی فضیلت اور اس کی روحانیت بیان کرتے ہوئے معروف روحانی معالج حافظ فہیم عثمانی نے کہا کہ جناب رسول مقبول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ہمیشہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا ۔انہوں نے بتایا کہ جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دنوں کا اعتکاف کیا اس کو دو حج اور عمرہ کے برابر ثواب ملتا ہے ۔حافظ فہیم عثمانی نے کہا کہ احادیث میں ہے کہ اعتکاف کرنے والا تمام صغیرہ وکبیرہ گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کو مسلسل ان نیکیوں کا اجرملتا رہتا ہے جو وہ عام طور پر نہیں کرپاتا ۔نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک دن کے لئے بھی اعتکاف کیا ،اللہ تعالیٰ معتکف اور دوزخ کے درمیان مشرق سے مغرب تک کے فاصلہ کی دوری پیدا فرمادیتا ہے ،انہوں نے کہا کہ اعتکاف کا اہم ترین مقصد اس ماہ مقدس کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کرنا ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔انہوں نے کہا کہ اعتکاف کی خاص فضیلت یہ ہے کہ بندہ کی نفس کی اصلاح ہوتی ہے ،دل ودماغ کو دنیا سے فارغ رکھ کر اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہونے کا بھر پور موقع ملتا ہے اور خاص طور پر یہ کہ شب قدر کے فضائل کے حصول کے لئے اعتکاف بہترین ذریعہ ہوتا ہے ،اس لئے وہ لوگ بڑے خوش قسمت ہیں جو رمضان المبارک کی ان بابرکات ساعتوں میں اعتکاف کرکے اللہ جل شانہ کی رحمتوں اور بخششوں کے حقدار بنتے ہیں انہوں نے کہ ماہ رمضان المبارک کے آخری دس دن کا اعتکاف سنت کفایہ ہے ۔












