موتیہاری: پورے ضلع میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ شب برأت منائی گئی۔ قبرستانوں کی صاف صفائی کا بہتر انتظام کیا گیا تھا اور روشنی و قمقموں سے سجایا گیا تھا۔ خانقاہ و مساجد میں محفلوں کا اہتمام کیا گیا۔ پوری رات عقیدت مند عبادت و ریاضت، ذکر و اذکار میں مشغول رہے اور قبرستان پہنچ کر فاتحہ خوانی کی اور اپنے آباء و اجداد کی مغفرت و نجات اور ترقی درجات کی دعاء مانگی اور پوری دنیا اور بالخصوص بھارت کی امن و امان ترقی و خوشحالی کی دعاء مانگی گئی۔اس موقع سے خانقاہ جنابیہ حسینی شریف کے سجادہ نشیں پیر طریقت حضرت علامہ الحاج ضیاء المجتبی کامل نے کہا کہ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس قیمتی رات کی قدر کرتے ہوئے صدق دلی سے اپنے والدین، رشتے دار، اعزا و اقربا سمیت تمام مؤمنین و مؤمنات کے حق میں دعائیں مانگی اور اپنے گناہوں پر اشک ندامت بہاتے ہوئے سچی توبہ کی۔ یہ رات امت مسلمہ کی بخشش و نجات کی رات ہے۔ مدرسہ قادریہ رضاء العلوم لالہ چھپرہ کے سربراہ اعلیٰ مولانا سراج الحق اشرفی نے کہا کہ سرکار مدینہ راحت قلب و سینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پندرہ شعبان کی عظمت کو بیان فرمایا ہے۔ آپ خود بھی قبرستان تشریف لے گئے۔ حالانکہ سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم رجب المرجب کا چاند دیکھ کر امن و امان کے ساتھ رمضان تک پہونچنے کی دعاء فرماتے۔ شعبان المعظم میں کثرت سے روزے کا اہتمام فرماتے۔ مولانا سید اکرم نوری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اشک ندامت بہاتے والے افراد کے توبہ کو قبول فرماتا ہے اور اس کی خطاؤں کو بخش دیتا ہے اس لیے ہم اپنے رب کی رحمت و عنایت پر مکمل یقین کرتے ہوئے خلوص و للہیت کے ساتھ طلب کریں۔ پوری رات اس کی عنایتوں کا دروازہ کھلا رہتا ہے اس لیے شب بیداری، ذکر و اذکار تسبیحات پڑھ کر اپنے رب کی بارگاہ سے معافی و تلافی کریں اور دن میں روزہ رکھیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس رات میں بنو کلب کی بکریوں کے بال کے برابر گناہ گاروں کی بخشش فرماتا ہے۔ جوہر گرلس اکیڈمی کے ناظم مفتی رضاء اللہ نقشبندی نے کہا کہ یہ تو ہماری خوش بختی ہے کہ یہ پاکیزہ رات ہم کو ملی ہے اور ہم اس کو بھی غفلت میں گذار دیں تو ہم سے بڑا کم نصیب کون ہوگا۔ کچھ خاص مواقع ہیں جہاں رب کی عطا عام ہوتی ہے اور بڑے بڑے گناہ گار کی بخشش ہوجاتی ہے۔ مولانا لطیف الرحمن مصباحی کلیان پوری نے کہا کہ شب برأت میں ہم اپنے آباء و اجداد کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں اور ان کی مغفرت و نجات کی دعاء کرتے ہیں یہ طریقہ انبیاء و رسل علیہم السلام کا ہے۔ آج کی شب ہم اپنے ایمان و عقائد و نظریات کی تحفظ و بقا کی ہرممکن کوشش کرنے کا عہد و پیمان کریں۔ اپنی عزت و آبرو کی تحفظ و بقا کے تئیں بھی نہایت مثبت اقدام کی ضرورت ہے۔ اس موقع سے حافظ عبید رضا، قاری سراج الدین سراجی، مولانا نعمت اللہ جامعی، حافظ محمد عالم، محمد الطاف، اشرف عالم، محمد ادریس، مولانا طیب علی، مولانا حسنین رضا، مولانا مطیع الرحمن رضوی، محمد نظام الدین خان، توقیر احمد خان، محب اللہ عرف منا مکھیا، امجد علی خان عرف گڈو خان، مولانا نوشاد عالم امجدی، قاری عبد الغنی، محمد جمیل اختر، ارشد خان، توقیر رضا، ساجد حسن، ساحل خان، مہتاب خان، محمد ارمان قریشی، نور الحسن، رحیم الدین، مولانا حسنین رضا، فیضان مصطفیٰ مکھیا، مولانا رحمت اللہ، مولانا محبوب عالم رضوی، مولانا غلام سرور کلیان پوری، مولانا اطہر شمسی، مولانا محبوب شبنم، قاری صدر عالم، مولانا عادل حسین مصباحی، مولانا شکیل احمد رضوی، مولانا شوکت علی قادری، قاری اشتیاق احمد اصدقی، حافظ عبد المبین رضوی، مولانا اختر علی ناز قادری، مولانا رضاء الرحمن حیدری، مفتی نعمان حیدری، مولانا علی رضا، حافظ مخدوم علی احمد، مولانا غلام غوث نظامی، مولانا جاوید عالم نظامی سمیت متعدد علماء و مشائخ کی قیادت میں دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔












