کیرالہ کے اکتالیس سالہ تاجر جو سف شائنی (جو ان دنوں اٹلی میں قیام پذیرہے) نے دسمبر2017ءمیں عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) میں مفاد عامہ کے حوالہ سے ایک عرضی داخل کیا تھا ، جس میں دفعہ497 کو صنفی بنیاد پر تفریق قرار دے کر رد کرنے کی مانگ کی تھی ، اس دفعہ کی رو سے شادی شدہ مرد اگر کسی دوسرے کی بیوی سے اس کے شوہر کی رضا مندی سے تعلق قائم کرتا ہے تو یہ جرم کے زمرے میں نہیں آتا ہے ، البتہ بلا اجازت اگرکسی نے جنسی تعلق قائم کیا تو یہ جرم کے دائرے میں آتا تھا اور زنا کا ر مرد کو پانچ سال تک کی سزا ہو سکتی تھی ، ایسے معاملات میں اس دفعہ کی رو سے عورت کو متاثرہ مان کر چھوڑ دیا جاتا تھا ، اس پر کوئی داروگیر نہیں کی جاتی، اسی طرح اگر زنا کار کی بیوی نے اس مسئلہ پر خود کشی کر لیا تو اس شکل میں بھی شوہر خود کشی پر ابھارنے والا قرار دے کر مجرم گردانا جاتا تھا ، اس بنیاد پر طلاق کے لیے مقدمہ بھی قائم کیاجا سکتاتھا اور یہ تفریق کی بنیاد ہو سکتی تھی ۔
یہ قانون ایک سو انٹھاون سال پرانا تھا، 1837ءمیں تھا مس بائیگٹن میکالے (لارڈ میکالے) نے تعزیرات ہند کے پہلے مسودے میں اسے شامل نہیں کیا تھا، لیکن1847 ءمیں قانون ساز کمیٹی نے اس پر زور دیا کہ زنا کاری کو آزاد اور بے لگام چھوڑ دینا قطعا مناسب نہیں ہے ، لیکن اس بار بھی یہ دفعہ داخل نہیں کی جا سکی، البتہ 1860ءمیں اسے آئی پی اس کی دفعہ497 کے طور پر لاگو کیا گیا ، تب سے یہ قانون ہندوستان میں نافذ تھا، اس درمیان اس قسم کی عرضیاں1945، 1985ء، 1988ءاور2001ءمیں بھی سپریم کورٹ میں داخل کی گئیں؛ لیکن عدالت نے اسے صنفی بنیاد پر تفریق والا نہیں مانا تھا، قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ 1985ءمیں جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کے والد جسٹس وائی وی چندر چوڑ (جو ہندوستان کے چیف جسٹس بھی رہے) نے تیس سال پہلے اس قانون کو باقی رکھا تھا۔
ان دنوںہندوستان میں مغربی افکار واقدار کو اپنانے ، قبول کرنے اور اسے عدالت سے منظور کرانے کی جو منصوبہ بند کوشش ہو رہی ہے اس کے نتیجے میں اس دفعہ کو نکال باہر کیا گیا ، چیف جسٹس دیپک مشرا کی سر براہی میں جسٹس اے ایم کھانو لکر، جسٹس آر اف نریمن، جسٹس ڈی وائی چند چوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا کی پانچ رکنی بینچ نے 2018ءمیں نہ صرف آئی پی سی کی دفعہ497 کو کالعدم قرار دیا ، بلکہ سی آر سی کی دفعہ 198کے ایک حصہ کو بھی منسوخ کر دیا، فیصلے الگ الگ سنائے گئے ، لیکن سب اس بات پر متفق تھے کہ بیوی شوہر کی ملکیت نہیں ہے ، اسے دوسرے سے بھی جنسی تعلق قائم کرنے کا اختیار ہے ، البتہ اگر شوہر کو اعتراض ہو تو وہ طلاق کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے ، جسٹس نریمن کی رائے تھی کہ شوہر اپنی بیوی کو کچھ کرنے یا کچھ نہیں کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتا ، جسٹس چند ر چوڑ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ دفعہ عورت کو اس کی خواہش اور پسند کے مطابق جنسی تعلقات قائم کرنے سے روکتی ہے ، اس لیے غیر آئینی ہے ۔ فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عورت کے جسم پر صرف اس کا حق ہے ، وہ شوہر کی جاگیر نہیں ہے ، شادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیوی اپنی جنسی خواہش شوہر کو سونپ دے ۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ زنا کی وجہ سے شادی خراب نہیں ہوتی ، بلکہ خراب شادی کی وجہ سے عورتیں غیر مرد کی طرف راغب ہوتی ہیں، ایسے میں اسے جرم مان کر سزا دینے کا مطلب ہے کہ دکھی لوگوں کے دکھ میں مزیداضافہ کیا جائے۔جوسف شائنی کی عرضی پینتالیس صفحات کی تھی ، عدالت عظمیٰ کے معزز حج صاحبان نے الگ الگ چار فیصلوں کے لیے 234 صفحات کا لے کیے، اس معاملہ میں حکومت نے جو حلف نامہ داخل کیا تھا ، اس میں یہ واضح کر دیا تھا کہ آئی پی اس کی دفعہ497 اور سی پی سی کی دفعہ (2)198 کو ختم کرنے کا سیدھا اثر ہندوستانی تہذیب وثقافت پر پڑے گا، چوں کہ یہ دفعات شادی کو مقدس رشتے کے طور پر دیکھتا ہے اس لیے اس کو باقی رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔
لیکن عدالت نے کسی کی نہیں سنی ، اور شائنی کی عرضی میں جو دلائل دیے گیے تھے اس کو مان کر میاں بیوی کو بے لگام جنسی تعلق بالفاظ دیگر قانون اور عدالتی جواز فراہم کر دیا ہے ، لطیفہ یہ ہے کہ جائز چار شادیوں پر یہاں واویلا مچایا جا تا ہے اورنا جائز رشتوں کو قانونی جواز فراہم کیا جاتا ہے ، یہاں بیوی کی مرضی کے بغیر شوہر کا جنسی تعلق قائم کرنا زنا کے زمرے میں آتا ہے ، بیوی شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کی جا سکتی ہے اور اٹھارہ ، اکیس سال سے کم عمر لڑکے لڑکیوں کی شادی پر سزا دی جا سکتی ہے ، لیکن لیو ان ریلیشن شپ چاہے وہ کم عمری میں ہی ہو، کی اجازت ہے ، یہ عدالت ہی کے مختلف فیصلے ہیں ، جس کی تلخیص یہاں ذکر کی گئی ہے ، ان فیصلوں کے نتیجے میں خاندانی نظام بر باد ہو رہا ہے ، اور جس طرح مغرب میں بن باپ کے بچوں کی باڑ ھ سی آئی ہوئی ہے اور باپ کا پتہ نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری کاغذات میں ماں کے نام درج کرنے پر زور دیا جاتا ہے ، اس کی شروعات یہاں بھی ہو گئی ہے ،مستقبل کے ہندوستان میں حرام جنسی تعلق سے پیدا ہونے والے بچوں کی ذمہ داری لینے کو کوئی تیار نہیں ہوگا، ایسے میں یا تو وہ گھٹ گھٹ کر مرجائیں گے یا آوارہ اوباش ، ناکندہ تراش ایک ایسی نسل پروان چڑھے گی ، جس سے سارا سماج پریشان ہو کر رہ جائے گا۔
معزز جج صاحبان نے اس فیصلہ میں ان ملکوں کا بھی حوالہ دیا ، جہاں اس قسم کے تعلق کو جرم نہیں مانا جاتا ، پتہ نہیں کیوں ہمارے جج صاحبان کو وہی ملک نظر آتے ہیں جہاں اس قسم کی نازیبا اور غیر اخلاقی حرکتوں کو قانونی جواز فراہم ہے ، دنیا کے بہت سارے ملک وہ بھی تو ہیں ، جہاں اس قسم کے جنسی تعلقات غیر قانونی ہیں، امریکہ کو ہی لے لیجئے ، یہاں کی اکیس ریاست میں یہ عمل غیر قانونی ہے ، اور مجرم کو عمر قید کی بھی سزا ہو سکتی ہے ، فلپاین میں چار مہینے سے لے کر چھ سال کی سزا بیاہی عورت کے دوسرے مرد سے جنسی تعلق قائم کرنے کی دی جاتی ہے ، ایران میں ایسی عورتوں کو قتل کر دیا جاتا ہے ، سعودی عرب میں رجم یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جاتا ہے ۔اس سے پہلے عدالت نے طلاق کے مسئلے پر بھی ملکوں کا حوالہ دیا تھا تو کیا اس طرح غیر ملکی حوالہ دے کر جسم فروشی کو بھی یہاں قانونی جواز ملے گا، وہاں بھی تو عورت اپنی رضا مندی سے جنسی تعلق قائم کرتی ہے اور دنیا کے کئی ملکوں میں یہ ایک پیشہ کے طور پر رائج ہے، ہمارے ہندوستان میں اب طوائفوں کو سیکس ورکر کہا جانے لگا ہے ، اگر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا یہی انداز رہا تو سارے کوٹھے کی گندگی گاؤں اور محلوں تک آجائے گی جو اب بھی تعزیرات ہند کی دفعہ کے تحت جرم ہونے کے باوجود کم نہیں ہے ۔












