علی گڑھ، سماج نیوز سروس: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (ایم آئی ایل) کے شعبہ جدید ہندوستانی السنہ کے پنجابی سیکشن کی انچارج پروفیسر کرانتی پال نے اپنی والدہ شوبھا پاٹل-آنکھی کی برسی کے موقع پر ان کی یاد میں مراٹھی ادب کی 104 کتابیں شعبہ کے مراٹھی سیکشن کو عطیہ کی ہیں۔اس تقریب کی نظامت اتر پردیش پنجابی اکیڈمی کے رابطہ عامہ افسر مسٹر اروند نارائن مشرا نے کی جو مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے، جب کہ پروگرام کی صدارت شعبہ کے چیئرپرسن پروفیسر ٹی این ستھیسن نے کی۔پروفیسر کرانتی پال نے اس موقع پر کہا’’میری والدہ کا تعلق ناگپور سے تھا اور شادی کے بعد وہ اپنے ساتھ مہاراشٹر کی ثقافت، زبان اور پکوان کی روایات لے کر پنجاب آئیں۔ انھیں پڑھنے کا گہرا شوق تھا چنانچہ بے شمار مراٹھی کہانیاں، ناول اور ڈرامے خریدتی تھیں، آج مجھے ان کی یاد میں یہ کتابیں مراٹھی سیکشن کو عطیہ کرنے کا اعزاز حاصل ہورہا ہے‘‘۔مراٹھی سیکشن کے انچارج ڈاکٹر طاہر ایچ پٹھان نے کہاکہ کتابیں انسانی زندگی میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ یہ شعور کو بالیدگی عطا کرتی ہیں، تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرتی ہیں اور ذہن و دماغ کو آسودہ کرتی ہیں۔ انھوں نے پروفیسر کرانتی پال کے عطیہ کو سراہا۔ مسٹر اروند نارائن مشرا نے کتابوں کی لازوال قدر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کتابیں ہماری بہترین ساتھی ہیں۔ یہ زندگی کے چیلنجوں میں ہماری رہنمائی کرتی ہیں، صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔ پڑھنے سے شخصیت میں نکھار آتا ہے اور تناؤ دور ہوتا ہے۔ آج کی مصروف زندگی میں پروفیسر کرانتی پال اس عطیہ کے ذریعے اپنی ماں کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں جو ادب کی پائیدار میراث کا ثبوت ہے۔پروفیسر ٹی این ستھیسن نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ کتابیں طالب علمی کی زندگی کی جدوجہد کے دوران ہر مرحلے پر رہنمائی اور مدد کرتی ہیں۔ پڑھنے کی عادت پیدا کرنا سبھی طلباء کے لیے ضروری ہے۔ پروفیسر کرانتی پال کی عطیہ کردہ کتابیں درس و تدریس اور تحقیق کے لیے انمول ثابت ہوں گی۔اس موقع پر پروفیسر اے نجم، ڈاکٹر قاسم پٹھان، ڈاکٹر تمل سیلون اور مسٹر رفسل بابو سمیت دیگر افراد موجود تھے۔












