راہل گاندھی نے کرناٹک کے کولار میں "جتنی آبادی اتنا حق” کی مانگ کر ذات پر مبنی مردم شماری کو مدا بنایا ہے ۔ اس سے قبل ڈاکٹر لوہیا آبادی کے تناسب سے حصہ داری اور کانسی رام جس کی جتنی بھاگیداری اس کی اتنی حصہ داری کی وکالت کر چکے ہیں ۔ اس معاملہ میں کانسی رام کو بی جے پی کی حمایت بھی حاصل تھی ۔ راہل گاندھی نے ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پسماندہ طبقات کے فائدے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا اثر حکومت کی اعلیٰ سطحوں پر نظر نہیں آ رہا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں صرف سات فیصد سکریٹریز پسماندہ طبقات سے ہیں ۔ راہل گاندھی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ یو پی اے حکومت کے ذریعہ 2011 میں کرائی گئی ذات پر مبنی مردم شماری کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے ۔ ‘صرف اعداد و شمار سے ہی معلوم ہوگا کہ کیا او بی سی، دلتوں اور آدیواسیوں کو انکی آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی گئی ہے یا نہیں’ ۔ راہل گاندھی کی مانگ صرف او بی سی کے حق میں نہیں بلکہ اس سے سب کا فائدہ ہے ۔ کیونکہ اعداد ہی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کس طبقہ کی سماجی، معاشی، تعلیمی، سیاسی اور روزگار کی صورتحال کیا ہے ۔ اسی کی بنیاد پر سب کی ترقی کے لئے منصوبہ سازی ہو سکے گی ۔
بی جے پی اس مسئلے سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ 2021 میں حکومت سپریم کورٹ میں کہہ چکی ہے کہ ‘ذات پر مبنی مردم شماری کرانا ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اس لئے مردم شماری میں ایسی معلومات کو شامل نہ کرنا سوچا سمجھا پالیسی فیصلہ ہے’۔ جبکہ اسی پارٹی کی حکومت آسام میں لوگوں کے لئے NRC (نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز) کی کے لئے مشکل، پیچیدہ اور المناک قدم اٹھا چکی ہے ۔ ذات کی مردم شماری کے حامی پسماندہ طبقات کو حکومت کی پالیسیوں سے جوڑنے کے لئے ضروری بتاتے ہیں ۔ وہیں مخالفین اس سے سماج کا تانا بانا بگڑنے اور ریزرویشن کی مانگ کے زور پکڑنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں ۔ جب بھی کمزور طبقات کے حق میں دور رس فیصلے لینے کا وقت آتا ہے، تو سماجی انصاف کے تئیں بی جے پی کا حقیقی موقف کھل کر سامنے آ جاتا ہے ۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مردم شماری میں محض آبادی کی گنتی نہیں ہوتی بلکہ اس میں دیکھا جاتا ہے کہ مرد عورت کتنے ہیں ۔ ان کا تعلیمی معیار کیا ہے ۔ عورتوں کی صورتحال کیا ہے ۔ کتنی خواتین میٹرک اور کتنی گریجویٹ ہیں ۔ ان کی زندگی، صحت کیسی ہے ۔ خاندان میں کتنی جائیداد ہے ۔ مادری زبان کیا ہے، مذہب کیا ہے ۔ ایس سی، ایس ٹی، او بی سی یا اعلیٰ طبقہ سے ہیں تو کس ذات سے تعلق ہے ۔ مثلاً ایس سی، ایس ٹی ہیں تو اس میں بالمیکی، جاٹوو، مہار، مشودر وغیره کیا ہیں ۔ یہ سب 1951 سے ہر Census میں ریکارڈ کیا جاتا ہے ۔ یہ کہنا کہ 1931 کے بعد ذاتوں کو شمار نہیں کیا گیا غلط مفروضہ ہے ۔ دراصل معلومات تو ہر شخص سے لی جاتی ہے لیکن اعداد وشمار صرف ایس سی، ایس ٹی کے شائع کئے جاتے ہیں ۔ ذاتوں کے اعداد وشمار کو شائع کرنے کی تجویز کو 1951 میں اس وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے یہ کہہ کر خارج کر دیا تھا کہ اس سے سماجی تانا بانا بگڑ سکتا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے مخالف آج بھی یہی دلیل دیتے ہیں ۔
دراصل ذات پر مبنی مردم شماری اعلیٰ ذات کا وہ طبقہ نہیں چاہتا جس کی سماج اور سرکار پر بالا دستی ہے ۔ تعداد کے لحاظ سے یہ صرف 19-20 فیصد ہے لیکن 80 فیصد حصہ پر اس کا قبضہ ہے ۔ کئی شعبوں میں تو وہ 90 فیصد جگہوں پر قابض ہے ۔ اسے اس بات کا ڈر ہے کہ اگر یہ اعداد سامنے آگئے تو اسے پریشانی ہوگی ۔ حالانکہ موجودہ حکومت نے اس طبقہ کو فائدہ پہنچانے کے لئے 8 لاکھ روپے سالانہ سے کم آمدنی والے خاندانوں کو اقتصادی طور پر کمزور طبقہ (EWS) مان کر ریزرویشن کا اہل قرار دیا ہے ۔ جبکہ پہلے 5 لاکھ اور اب 7 لاکھ روپے کمانے والا انکم ٹیکس کے دائرے میں ہے ۔ مدھیہ پردیش حکومت نے پرسورام جینتی پر برہمن کلیان بورڈ بنا کر برہمنوں کو فائدہ پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بابا صاحب کے بنائے ہوئے آئین میں معاشی کے بجائے سماجی و تعلیمی پسماندگی کو ریزرویشن کی بنیاد مانا گیا ہے ۔ حکومت کے اس فیصلے نے ریزرویشن کے اصل مقاصد کو سبوتاژ کر دیا ہے ۔ ریزرویشن کا تصور ذات پات کی پسماندگی سے جڑا ہوا ہے کیونکہ بہت سے طبقات کو ان کی ذات کی وجہ سے ہی مساوی مواقع نہیں ملے ہیں ۔
بی جے پی حکومت اگر برہمنوں کا بھلا بھی کرنا چاہتی ہے ۔ تب بھی اسے ذات پر مبنی مردم شماری کرانی چاہئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ حکومت کی اسکیموں کا کس طبقہ کو کتنا فائدہ ملا ۔ کس کو نوکری ملی کتنوں کی نوکری چلی گئی ۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ چوہان نے پال، گڈریا، دھن گر بورڈ قائم کرنے کی بات بھی کی ہے ۔ کل راجپوت، بنیا، ٹھاکروں کی بہبود کے لئے بورڈ بنانے کی بات بھی ہو سکتی ہے ۔ اس کے لئے بھی اعداد و شمار کی ضرورت ہے ۔ جب تعلیم، نوکری، روزگار، ثقافت، تہذیب سب ختم ہو رہا ہے تو جھوٹی انا کو بڑھایا جا رہا ہے ۔ جب ذات پر فخر کیا جائے گا تو سماج میں تناؤ پیدا ہوگا ۔ اسے قابو میں رکھنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے ۔ وہ ہے سب کی ترقی جسے راہل گاندھی نے "جتنی آبادی اتناحق” کہا ہے ۔ کرناٹک میں ذاتیں اور ان کا ریزرویشن کافی پیچیدہ ہے ۔ اسے سمجھ کر سب کی حصہ داری کو یقینی بنانے کے لئے ہی راہل گاندھی نے یہ مردم شماری کے اعداد جاری کرنے کی مانگ کی ہے ۔ بہار نے ریاستی سطح پر ذات پر مبنی مردم شماری کرائی ہے ۔ اس کے اعداد جلد منظر عام پر آنے والے ہیں ۔ پھر ملک کے باقی اعداد و شمار چھپا کر رکھنے کا کیا فائدہ ۔
جنوبی ہند میں اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اسٹالن نے اس سلسلہ میں بڑی پہل کی ہے ۔ انہوں نے وسیع نظریاتی بنیاد پر آل انڈیا فیڈریشن آف سوشل جسٹس قائم کیا ہے ۔ اس مسئلہ پر تمام ہم خیال جماعتوں کو ایک منچ پر لے آئے ہیں ۔ اب وقت آ گیا ہے جب سماجی انصاف کے ذریعہ جنرل کیٹگری کے لوگوں کو بھی ان کا حصہ مل سکے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کونسی پارٹی اس کے خلاف کھڑی ہوتی ہے ۔ راہل گاندھی نے مذہب کی سیاست کے سامنے سماجی انصاف کو کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اگر اپوزیشن نے سماجی انصاف کی لڑائی کو بڑا مدا بنا لیا تو مذہب کی سیاست ختم ہو جائے گی ۔ سماجی انصاف کا ماحول بن جائے گا ۔ وہ تمام لوگ جو تعلیم، روزگار، نوکری اور روزی روٹی کو لے کر پریشان ہیں ۔ اپوزیشن ان تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتی ہے ۔ ذات اگر بھارت کے سماج کی سچائی ہے تو یہی 2024 میں حزب اختلاف کا ہتھیار بن سکتی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مذہب کی سیاست کے مقابلے اپوزیشن سماجی انصاف کی لڑائی کتنے دم سے لڑتی ہے ۔












