دیوبند،سماج نیوز سروس: جمعیۃ علماء ہند کی ایماء پر اور جمعیۃ علما اتر پردیش کی زیر نگرانی آج قصبہ کھتولی میں ایس آئی آر (SIR) سے متعلق ایک اہم ورکشاپ منعقد کی گئی۔پروگرام میں ۱۱ اضلاع کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ورکشاپ کی صدارت مفتی بن یامین قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش) نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا موسیٰ قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء اتر پردیش نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ورکشاپ میںجمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی بطور مہمانِ خصوصی شریک رہے، جبکہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے اویس سلطان نے مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی۔اس موقع پر مہمانانِ کرام نے ایس آئی آر کے عمل سے متعلق عوام میں پائے جانے والے مختلف اشکالات کا تفصیلی اور مدلل انداز میں جواب دیا اور شرکاء کو عملی تربیت فراہم کی کہ جن افراد کے ووٹ ایس آئی آر کے دوران حذف ہو گئے ہوں، انہیں کس طرح دوبارہ ووٹر فہرست میں شامل کرایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی جمعیتہ علماءہند کی دینی، سماجی اور قومی خدمات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا حکیم الدین قاسمی نے اپنے خطاب میں ووٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ صرف ایک حق نہیں بلکہ ایک قومی امانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے سیاسی و سماجی مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمعیۃ کے پاس موجود ڈیٹا کے مطابق ایس آئی آر کے سلسلے میں ہر ودھان سبھا اور ہر بوتھ کی سطح پر کارکنان سرگرمی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ورکشاپ میں موجود تمام ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ اپنی اپنی ودھان سبھاؤں اور بوتھوں پر مکمل نگرانی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔مہمانِ اعزازی اویس سلطان نے کہا کہ ایس آئی آر کے ذریعے ووٹر لسٹ کی اصلاح ممکن ہے، لیکن لاپروائی کی صورت میں اہل ووٹروں کا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر بوتھ اور ہر محلے کی سطح پر عوام کو ایس آئی آر کے طریقہ? کار سے آگاہ کیا جائے تاکہ کسی کا ووٹ ضائع نہ ہو۔صدر اجلاس مفتی بن یامین قاسمی نے کہا کہ ایس آئی آر کا براہِ راست تعلق ہمارے جمہوری حق سے ہے، اس لیے اس عمل کو سمجھنا اور اس میں فعال کردار ادا کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔حافظ محمد فرقان اسعدی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایس آئی آر کے عمل پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو بہت سے اہل ووٹروں کے نام فہرست سے خارج ہو سکتے ہیں، اس لیے عوام میں بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ورکشاپ میں مولانا سید محمد سعد قاسمی، مولانا ارشد قاسمی میرانپور، مولانا عمران چھتیلا، مفتی اقبال قاسمی تیوڑہ، مولانا محمد ہاشم کھتولی، مفتی مجیب، کلیم تیاگی، مولانا محمد اسجد (غازی آباد)، مفتی قربان، مفتی ذکاء الرحمن شانِ اعظم میرٹھ، قاری شاہ ویز، قاری صابر باغپت، مولانا حفظ الرحمان، مولانا یوسف ہاپوڑ، مولانا سلمان، قاری نوشاد، مولانا عبدالقادر بجنور، مولانا سلیم، شمشیر علی سہارنپور، مولانا مظہر جنگ شاملی، مفتی عبدالقادر قاسمی، مولانا احسان قاسمی، قاری جاوید، قاری رضوان، قاری ذاکر اور مولانا حاتم سمیت بڑی تعداد میں علماء ، کارکنان اور ذمہ داران نے شرکت کی۔












