• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, اپریل 17, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

سوشل میڈیا کا فکری طوفان اور علما کی ذمہ داری

Hamara Samaj by Hamara Samaj
اپریل 17, 2026
0 0
A A
سوشل میڈیا کا فکری طوفان اور علما کی ذمہ داری
Share on FacebookShare on Twitter

یہ دور جسے ہم ترقی، تیزرفتاری اور معلومات کے سیلاب کا زمانہ کہتے ہیں، درحقیقت ایک ایسے فکری انتشار، ذہنی اضطراب اور روحانی بے سمتی کا مظہر بن چکا ہے جس میں روشنی بھی ہے اور دھند بھی، آواز بھی ہے اور گونج بھی، علم کا دعویٰ بھی ہے اور جہالت کا غلبہ بھی۔ سوشل میڈیا نے جہاں فاصلے سمیٹ دیے، وہیں فاصلۂ فہم کو بھی مٹا دیا، اور ہر شخص کو یہ احساس ہونے لگا کہ وہ نہ صرف قاری ہے بلکہ مفسر بھی، نہ صرف سامع ہے بلکہ مقرر بھی، نہ صرف طالب علم ہے بلکہ معلم بھی۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ایک نیا بحران جنم لیتا ہے—ایسا بحران جو صرف معلومات کی کثرت نہیں بلکہ معانی کی کمی کا نتیجہ ہے، صرف اظہار کی آزادی نہیں بلکہ ذمہ داری کی فراموشی کا عکس ہے۔ آج سوشل میڈیا پر ایسے نئے “اسکالرز” کی ایک کھیپ سامنے آئی ہے جو نہ علمی روایت سے جڑے ہوئے ہیں، نہ کسی استاد کے فیض یافتہ ہیں، اور نہ ہی دینی علوم کی اس گہرائی سے واقف ہیں جو کسی مسئلے کو اس کے سیاق و سباق میں سمجھنے کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔
ان کی گفتگو میں روانی تو ہے مگر رسوخ نہیں، ان کے الفاظ میں چمک تو ہے مگر وزن نہیں، ان کے انداز میں کشش تو ہے مگر حقیقت نہیں۔ وہ ایسے مسائل کو چھیڑتے ہیں جو بظاہر فکر انگیز ہوتے ہیں، مگر درحقیقت ذہنوں میں ایک ایسا شکوک و شبہات کا جال بُن دیتے ہیں جس سے نکلنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ یہ شبہات کسی طوفان کی طرح نہیں آتے کہ سب کچھ تہس نہس کر دیں، بلکہ یہ ایک زہر کی مانند ہوتے ہیں جو خاموشی سے رگوں میں اترتا ہے، دل میں جگہ بناتا ہے، اور پھر یقین کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے لگتا ہے۔
یہاں ’’زہر‘‘ ایک استعارہ بھی ہے اور ایک حقیقت بھی۔ کیونکہ شبہ جب دل میں داخل ہوتا ہے تو وہ فوری طور پر اثر نہیں دکھاتا بلکہ آہستہ آہستہ اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔ پہلے وہ سوال بنتا ہے، پھر الجھن، پھر اضطراب، اور آخرکار ایک ایسی کیفیت پیدا کرتا ہے جہاں انسان حق کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے۔سوشل میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں علم اور رائے کے درمیان حد فاصل مٹ چکی ہے۔ ہر شخص اپنی بات کو دلیل بنا کر پیش کرتا ہے، اور سامعین اسے بغیر تحقیق کے قبول کر لیتے ہیں۔ دین، جو صدیوں کی تحقیق، اجتہاد، اور اجماع کا نتیجہ ہے، اسے چند منٹ کی ویڈیوز اور مختصر پوسٹس میں سمیٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس اختصار نے مفہوم کو بھی مختصر کر دیا ہے اور حقیقت کو بھی۔
آج کا نوجوان سوال کرتا ہے، اور یہ ایک مثبت بات ہے۔ مگر اس کے سوالات کا منبع اکثر تحقیق نہیں بلکہ تاثر ہوتا ہے۔ وہ جو دیکھتا ہے، وہی مان لیتا ہے؛ جو سنتا ہے، وہی دہرا دیتا ہے۔ اس کے پاس وقت کم ہے، مگر معلومات زیادہ ہیں۔ یہی تضاد اسے ایک ایسے فکری بھنور میں لے جاتا ہے جہاں اسے راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے میں سنجیدہ علما کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ وہ علما جو علم کو امانت سمجھتے ہیں، جو دین کو ذمہ داری سمجھتے ہیں، اور جو سوال کو خطرہ نہیں بلکہ موقع سمجھتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ علما میدان میں آئیں، اس فکری طوفان کا مقابلہ کریں، اور لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کا مدلل، متوازن اور حکیمانہ جواب دیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سوال کرنا جرم نہیں بلکہ فطرت ہے۔ مگر سوال کا جواب نہ دینا ایک بڑی کوتاہی ہے۔ جب ایک نوجوان سوال کرتا ہے تو وہ درحقیقت اپنے یقین کو مضبوط کرنا چاہتا ہے، مگر جب اسے جواب نہیں ملتا تو وہ کسی اور دروازے کی طرف رجوع کرتا ہے، اور اکثر وہ دروازہ گمراہی کی طرف کھلتا ہے۔یہاں “دروازہ” بھی ایک علامت ہے—علم کا دروازہ، شبہ کا دروازہ، یا گمراہی کا دروازہ۔ اگر علما علم کا دروازہ کھلا رکھیں گے تو لوگ وہیں آئیں گے، مگر اگر وہ دروازہ بند رہا تو لوگ خود راستے تلاش کریں گے، اور وہ راستے ہمیشہ درست نہیں ہوتے۔ سنجیدہ علما کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ سوال کو برداشت کرتے ہیں، اعتراض کو سنتے ہیں، اور جواب دیتے وقت نہ صرف علم بلکہ حکمت کا بھی مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر سوال کے پیچھے ایک ذہن ہے، ایک دل ہے، اور ایک تلاش ہے۔ اس لیے وہ جواب دیتے وقت صرف الفاظ نہیں بلکہ یقین بھی منتقل کرتے ہیں۔
آج کے دور میں علما کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو نظرانداز نہ کریں۔ یہ وہ میدان ہے جہاں جنگ لڑی جا رہی ہے—الفاظ کی جنگ، بیانیے کی جنگ، اور ذہنوں کی جنگ۔ اگر علما اس میدان سے دور رہیں گے تو یہ خلا ایسے لوگوں سے بھر جائے گا جو علم کے بغیر دین کی تشریح کر رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر بات کا جواب دینا آسان نہیں ہوتا۔ کچھ سوالات پیچیدہ ہوتے ہیں، کچھ حساس، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے جواب میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ خاموشی اختیار کر لی جائے۔ خاموشی بعض اوقات مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید بڑھا دیتی ہے۔یہاں ’’خاموشی‘‘ بھی ایک معنی رکھتی ہے—وقار کی خاموشی اور کمزوری کی خاموشی۔ علما کو یہ فرق سمجھنا ہوگا۔ اگر خاموشی حکمت کے تحت ہو تو وہ قابلِ قدر ہے، مگر اگر وہ خوف یا لاپرواہی کی وجہ سے ہو تو وہ نقصان دہ ہے۔
آج کا نوجوان صرف حکم نہیں مانتا، وہ دلیل بھی چاہتا ہے۔ وہ صرف روایت پر نہیں چلتا بلکہ سوال بھی کرتا ہے۔ اس لیے علما کو اپنے اندازِ بیان میں بھی تبدیلی لانی ہوگی۔ انہیں ایسے الفاظ استعمال کرنے ہوں گے جو دل کو بھی چھوئیں اور عقل کو بھی مطمئن کریں۔
مزید یہ کہ علما کو صرف ردعمل نہیں بلکہ پیش بندی بھی کرنی ہوگی۔ ایسے موضوعات پر خود آگے بڑھ کر گفتگو کرنی ہوگی جو سوشل میڈیا پر غلط انداز میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ اگر علما خود بیانیہ تشکیل دیں گے تو گمراہ کن بیانیے کی گنجائش کم ہو جائے گی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ علما آپس میں اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کریں۔ اگر وہ خود ہی اختلافات کو اس انداز میں پیش کریں گے جو عوام میں کنفیوژن پیدا کرے، تو پھر سوشل میڈیا کے یہ نام نہاد اسکالرز مزید مضبوط ہو جائیں گے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ درست ہے، مگر اس کا انداز ایسا ہونا چاہیے جو رہنمائی دے، نہ کہ الجھن پیدا کرے۔ سوشل میڈیا ایک تلوار کی مانند ہے—یہ حفاظت بھی کر سکتی ہے اور نقصان بھی۔ اگر اسے علم، حکمت اور اخلاص کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ دین کی خدمت کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ مگر اگر اسے غیر ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ گمراہی کا ایک بڑا سبب بن سکتی ہے۔
آخر میں جب ہم اس پورے منظرنامے کو سنجیدگی، بصیرت اور دیانت کے ساتھ دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ سوشل میڈیا نے محض ایک ذریعۂ اظہار کا کردار ادا نہیں کیا، بلکہ وہ ایک ایسا فکری میدان بن چکا ہے جہاں حق و باطل، علم و جہل، تحقیق و تاثر، اور حکمت و جذبات کی مسلسل کشمکش جاری ہے۔ یہ کشمکش بظاہر الفاظ کی ہے، مگر درحقیقت یہ ذہنوں کی تشکیل، ایمان کی حفاظت اور فکر کی سمت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ یہ کہنا کہ سوشل میڈیا صرف ایک مسئلہ ہے، شاید مکمل انصاف نہیں ہوگا؛ اصل مسئلہ اس کا بے لگام اور غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ ہر دور کے اپنے چیلنج ہوتے ہیں، اور ہر چیلنج اپنے اندر ایک آزمائش کے ساتھ ایک موقع بھی رکھتا ہے۔ آج کا یہ فکری بحران بھی اسی نوعیت کا ہے—ایک ایسا امتحان جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم نے علم کو کس حد تک محفوظ رکھا، اور دین کو کس حد تک صحیح انداز میں منتقل کیا۔
یہاں ایک عالم کی حیثیت سے یہ سوال میرے اپنے دل میں بھی بارہا ابھرتا رہا کہ کیا ہم نے اپنی ذمہ داری ادا کی؟ کیا ہم نے وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھا؟ یا ہم محض اپنی روایتی دائروں میں محدود ہو کر اس فکری یلغار کو نظر انداز کرتے رہے؟ یہی وہ احساس ہے جس نے مجھے یہ تحریر لکھنے پر مجبور کیا۔ یہ محض ایک مضمون نہیں، بلکہ ایک داخلی اضطراب کا اظہار ہے، ایک علمی درد کی آواز ہے، اور ایک ذمہ داری کا اعتراف بھی۔
مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب مکہ مکرمہ کی مقدس فضاؤں میں واقع جامعہ ام القریٰ کی ایک کلاس میں ایک استادِ محترم نے نہایت سنجیدہ لہجے میں ہم طلبہ سے کہا تھا: “اگر تم نے سوال کو نظر انداز کیا تو تم جواب دینے کا حق بھی کھو دو گے، اور اگر تم نے زمانے کے بدلتے ہوئے شبہات کو نہ سمجھا تو تمہارا علم صرف کتابوں میں قید ہو کر رہ جائے گا۔” اس جملے نے اس وقت شاید ایک نصیحت کا درجہ رکھا، مگر آج وہی جملہ ایک حقیقت بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ اسی کلاس میں ایک واقعہ پیش آیا جو آج کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔
ایک طالب علم نے ایک ایسا سوال کیا جو بظاہر سادہ تھا مگر اس کے پیچھے ایک گہرا شبہ چھپا ہوا تھا۔ استاد نے اس سوال کو نہ تو نظر انداز کیا، نہ اس پر ناراضگی کا اظہار کیا، بلکہ بڑے سکون، تحمل اور حکمت کے ساتھ اس کا جواب دیا۔ جواب صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا فکری سفر تھا جس نے نہ صرف سوال کو ختم کیا بلکہ اس طالب علم کے دل میں علم کی عظمت کو بھی بٹھا دیا۔ اس واقعے نے مجھے یہ سبق دیا کہ سوال کبھی دشمن نہیں ہوتا، بلکہ وہ دراصل علم کی طرف ایک دروازہ ہوتا ہے۔ دشمن وہ خاموشی ہے جو سوال کو جواب سے محروم کر دیتی ہے، اور وہ لاپرواہی ہے جو شبہ کو یقین میں بدلنے نہیں دیتی۔

آج جب میں سوشل میڈیا پر پھیلتے ہوئے ان سوالات، اعتراضات اور بعض اوقات بے بنیاد باتوں کو دیکھتا ہوں تو وہی کلاس، وہی استاد، اور وہی واقعہ میرے ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر اس وقت ہمارے اساتذہ نے ہمیں سوال سے ڈرنا سکھایا ہوتا تو شاید ہم بھی آج خاموش تماشائی بنے رہتے۔ مگر انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ سوال کا سامنا کرو، اسے سمجھو، اور پھر اس کا جواب دو—علم کے ساتھ، حکمت کے ساتھ، اور اخلاص کے ساتھ۔اسی احساس نے مجھے مجبور کیا کہ میں یہ تحریر لکھوں۔ کیونکہ اگر ایک عالم ہونے کے باوجود میں اس فکری انتشار پر خاموش رہوں تو یہ صرف کوتاہی نہیں بلکہ ایک طرح کی خیانت ہوگی—علم کے ساتھ بھی اور امت کے ساتھ بھی۔

دانشورانہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو آج کا بحران دراصل “مرکزیتِ علم” کے ٹوٹنے کا نتیجہ ہے۔ علم اب ایک منظم روایت کے بجائے منتشر آراء کا مجموعہ بن چکا ہے، اور یہی انتشار ذہنی الجھنوں کو جنم دے رہا ہے۔ ایسے میں علما کا کردار صرف درس دینے کا نہیں بلکہ رہنمائی کرنے کا ہے، صرف بیان کرنے کا نہیں بلکہ سمجھانے کا ہے، اور صرف رد کرنے کا نہیں بلکہ متبادل پیش کرنے کا ہے۔

آخرکار، یہ ایک فکری معرکہ ہے جس میں ہتھیار الفاظ ہیں، میدان ذہن ہیں، اور ہدف دل ہیں۔ اس معرکے میں کامیابی اسی کو ملے گی جو علم کو اخلاص کے ساتھ، اور حکمت کو جرات کے ساتھ پیش کرے گا۔ لہٰذا، آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم علم کو اس کی اصل وقار کے ساتھ زندہ کریں، سوال کو اس کی اصل اہمیت کے ساتھ قبول کریں، اور جواب کو اس کی اصل ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف اس فکری بحران کو کم کر سکتا ہے بلکہ ایک متوازن، باشعور اور فکری طور پر مستحکم معاشرے کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقصد ہے جس نے مجھے اس تحریر پر قلم اٹھانے پر مجبور کیا—کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سوال بڑھتے جائیں اور جواب خاموش ہو جائیں۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    خواتین ریزرویشن بل پر حکومت اور اپوزیشن میں شدید ٹکراؤ

    خواتین ریزرویشن بل پر حکومت اور اپوزیشن میں شدید ٹکراؤ

    اپریل 17, 2026
    بھارت اور آسٹریا نے مفاہمت نامہ پر دستخط کیے

    بھارت اور آسٹریا نے مفاہمت نامہ پر دستخط کیے

    اپریل 17, 2026
    بینک دھوکہ دہی معاملہ میں انل امبانی کو سپریم کورٹ سے راحت  دینے سے انکار ،ای ڈی کی گرفتاریوں پر کمپنی کا بیان جاری

    بینک دھوکہ دہی معاملہ میں انل امبانی کو سپریم کورٹ سے راحت دینے سے انکار ،ای ڈی کی گرفتاریوں پر کمپنی کا بیان جاری

    اپریل 17, 2026
    ٹرمپ انتظامیہ کا نیا عالمی منصوبہ

    ٹرمپ انتظامیہ کا نیا عالمی منصوبہ

    اپریل 17, 2026
    خواتین ریزرویشن بل پر حکومت اور اپوزیشن میں شدید ٹکراؤ

    خواتین ریزرویشن بل پر حکومت اور اپوزیشن میں شدید ٹکراؤ

    اپریل 17, 2026
    بھارت اور آسٹریا نے مفاہمت نامہ پر دستخط کیے

    بھارت اور آسٹریا نے مفاہمت نامہ پر دستخط کیے

    اپریل 17, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist