مرادآباد / لکھنؤ،سماج نیوز سروس :جمعیۃ علماء اترپردیش کی مجلسِ عاملہ کا ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن اجلاس آج ’عثمان ہال‘، ہوٹل ایچ بی کلائڈ، مرادآباد میں صوبائی صدر مفتی سید محمد عفان منصورپوری کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک و صوبہ کی موجودہ صورتِ حال، تنظیمی استحکام، ایس آئی آر، سدبھاؤنا پروگرام، لیگل سیل کے قیام، دینی تعلیمی بورڈ اور مدارسِ اسلامیہ کو درپیش مسائل سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور کئی کلیدی و دور رس فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ مجلسِ عاملہ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مفتی سید محمد عفان منصورپوری نے کہا کہ موجودہ وقت میں ملتِ اسلامیہ کو مختلف محاذوں پر سنجیدہ چیلنجز درپیش ہیں۔ ایک جانب دینی و اسلامی شناخت اور تہذیبی بقا کا مسئلہ ہے، تو دوسری جانب صوبائی اور قومی سطح پر مسلمانوں کے گرد دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمعیۃ علماء کی تاریخی خدمات اور روشن روایات کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے تنظیم کو نچلی سطح تک مضبوط اور فعال بنانا ناگزیر ہے، اور اراکین و ذمہ داران محض اجلاسوں تک محدود نہ رہیں بلکہ طے شدہ عزائم کو عملی شکل دیں۔ اجلاس میں ووٹر لسٹوں (SIR/Deletion) کے سنگین مسئلے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر تکنیکی ماہرین اویس سلطان اور ساجد قریشی نے پروجیکٹر کے ذریعے جامع رپورٹ پیش کی، جس میں واضح کیا گیا کہ صوبہ بھر میں بڑے پیمانے پر ووٹرز کے نام حذف کیے گئے ہیں، جن میں مسلمانوں کی قابلِ ذکر تعداد شامل ہے۔ مجلس نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ آئندہ 40 دنوں کے اندر ہنگامی بنیادوں پر مہم چلا کر ہر ضلع اور اسمبلی حلقے میں کوآرڈینیٹرز مقرر کیے جائیں گے، تاکہ حذف شدہ ناموں کا دوبارہ اندراج اور نئے ووٹرز کی رجسٹریشن یقینی بنائی جا سکے۔ اجلاس میں امید پورٹل پر اندراج کے دوران پیش آنے والی عملی دشواریوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور وقف متولیان سے فوری اندراج کی اپیل بھی کی گئی۔ اسی طرح بہرائچ فساد کے ملزمین میں سے ایک ایک نوجوان کی موت کو لےکر نچلی عدالت کی جانب سے جس گھر پہ بھیڑ حملہ آور ہوئی تھی اسی گھرانے کو موردِ الزام ٹھہرا کر ایک نوجوان کو سزائے موت سنائے جانے پر مجلسِ عاملہ نے گہری تشویش ظاہر کی اور اسے غیر منصفانہ رویہ قرار دیا۔ اترپردیش میں مدارس کے سروے اور طلبہ و اساتذہ کی تفصیلات طلب کیے جانے کے سلسلے میں مقامی افسران کے من مانی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور ریاستی حکومت سے اس بابت مؤثر مداخلت کی درخواست کی گئی۔ مذہبی منافرت کے خاتمے اور باہمی رواداری کے فروغ کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر ضلع میں سدبھاؤنا منچ قائم کیا جائے اور مختلف مذاہب کے افراد کے مابین وقتاً فوقتاً مشترکہ اجلاس منعقد کیے جائیں۔
مجلس نے جمعیۃ علماء اترپردیش کی تاریخ مرتب کرنے کے لیے ایک باضابطہ کمیٹی کے قیام، شعبۂ اصلاحِ معاشرہ کے تحت علاقہ وار اصلاحی مہمات، اور تحفظِ مدارس کمیٹی کے امور پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا۔ جمعیۃ علماء مغربی اترپردیش کے انتخابی تنازعے کے سلسلے میں قائم تحقیقاتی کمیشن کی مصالحتی رپورٹ پیش کی گئی، جسے مجلسِ عاملہ نے اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا۔ مدارسِ اسلامیہ کے تصدیق ناموں کے اجرا کے حوالے سے اہم اور ٹھوس فیصلے کیے گئے۔ طے پایا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے واضح معیار قائم کیا جائے گا، اور آئندہ کسی بھی مدرسے کی تصدیق محض کاغذی کارروائی کی بنیاد پر نہیں ہوگی بلکہ مقامی یونٹ اور زونل ذمہ داران کی فزیکل ویریفکیشن اور تحریری رپورٹ کے بعد ہی صوبائی دفتر سے تصدیق نامہ جاری کیا جائے گا۔ اجلاس کی کارروائی صوبائی ناظمِ اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے چلائی۔ اجلاس کا آغاز مفتی ابوبکر صدیق منصوپوری کی تلاوتِ کلامِ پاک اور قاری احمد عبداللہ رسول پوری کی نعتِ رسول ﷺ سے ہوا۔ ناظمِ اعلیٰ نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنائی جس کی مجلس نے توثیق کی، بعد ازاں گزشتہ تین ماہ کی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی جسے اراکین نے سراہا۔ خازن سید حسین احمد ہاشمی نے مالیاتی رپورٹ پیش کی۔ ناظم تنظیم مفتی ظفر احمد قاسمی نے ضلع و شہر میرٹھ کے انتخاب کی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ عیدالفطر کے بعد جمعیۃ علماء اترپردیش کی مجلسِ منتظمہ کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔ ساتھ ہی صوبائی دفتر کے قیام اور قانونی امداد کے لیے ہائی کورٹ کی سطح پر وکلاء کے پینل کی تشکیل پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر جمعیۃ علماء شہر مرادآباد کے صدر مولانا محمد طاہر نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس میں جمعیۃ علماء ہند کے خازن مولانا قاری شوکت علی ویٹ، ریاستی نائب صدر مفتی بنیامین قاسمی مظفرنگر، مولانا محمد عاقل شاملی، مولانا اسلام الحق اسجد قاسمی لکھیم پور، مولانا عبدالحئی مئو، مولانا عبدالباری فاروقی لکھنؤ، حاجی حنیف قریشی میرٹھ، محمد معین لاری کانپور، مولانا اسجد ندوی مرادآباد، مفتی ظفر احمد قاسمی فرخ آباد، قاری محمد یامین امروہہ، مفتی جمیل الرحمٰن قاسمی پرتاپگڑھ، مولانا حسین احمد مدنی دیوبند، مفتی قاسم رضی فیروزآباد، مولانا احمد حاطب لکھنؤ، مفتی حمزہ امروہہ، مفتی شمس الدین بجنور، حافظ اسعداللہ گورکھپور، مولانا عثمان قاسمی سلطانپور، مولانا موسیٰ قاسمی مظفرنگر، مولانا علاؤالدین قاسمی ہاپوڑ، مفتی حبیب الرحمن قاسمی الہ آباد، قاری محمد زبیر بہرائچ ، حافظ فرقان اسعدی مظفر نگر،مولانا افتخار ہاپوڑ، حافظ سعید اختر نوری بہرائچ، قاری عبدالمعید چودھری کانپور، مفتی صہیب اختر بہرائچ، مولانا عبد المنان شراوستی، مولانا نجیب الحسن صدیقی لکھنؤ،مولانا عبد الجبار امروہہ، قاری نجیب الرحمن مراد آباد،مولانا افتخار احمد مئو،مولانا محمد اسعد پڑتاپگڑھ،مولانا عبد الخالق مراد آباد، مولانا مطیع الحق انظرلکھنؤ،مولانا عنایت اللہ بہرائچ،مولانا عمران شاہجہانپور،مولانا عظیم الدین شاہجہانپور، مولانا فیروز احمد شراوستی سمیت جملہ اراکینِ مجلس موجود رہے۔












