صادق شروانی
نئی دہلی،سماج نیوز سروس: سیلم پور میں گذشتہ دنوں مقامی ایس ایچ او کے ذریعے دیر رات ہوٹل کے نام پر چلائی جانے والی پرانٹھوں کی دکان پر لاٹھی چارج سے ہنگامہ مچ گیا۔ جہاں ایک طرف سیلم پور ایس ایچ او نریش کمار سنگھ یادو کی اس کاروائی کو قانون کا بیجا استعمال بتایا گیا تو وہیں سیلم پور تھانہ پولیس کے ذریعہ کئے گئے لاٹھی چارج سے سیلم پور والوں میں خوشی دیکھی گئی اور لوگ سیلم پور ایس ایچ او کی طرف ٹکٹکی لگائے ہوئے ہیں کہ کیا آئندہ بھی سیلم پور ایس ایچ او کا یہی چہرہ یہی کردار ہمیشہ دیکھنے کو ملے گا یا وہ کاروباریوں، سیاستدانوں اور دیگر کریمنل کے آگے جھک جائیں گے اور اس مہم کو بند کر دیں گے۔’ہمارا سماج ‘کے نمائندے نے زمینی سطح پر لوگوں سے بات کرتے ہوئے جاننا چاہا کہ سیلم پور تھانے کا بطور ایس ایچ او حالیہ دنوں چارج لینے ولے یادو جی کے ذریعہ کی گئی کاروائی سے لوگ کہاں تک مطمئن ہیں اس کے ساتھ ہی کتنے لوگ پولیس کی اس کاروائی سے غیر مطمئن ہیں اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ جب لوگوں سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی والدین یا سرپرست ایسا نہیں ہوسکتا جو رات کو بارہ بجے اپنے بچوں بریانی کھانے یا کھلانے کے لیے پیسے دے کر گھر سے روانہ کر دے۔ انہوں نے کہا کہ میرے سمیت تمام والدین یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے رات میں اپنی پڑھائی لکھائی پر گھر میں وقت لگائیں اور اگر ان کی تعلیم مکمل ہوچکی ہے اور وہ کسی کاروبار سے وابستہ ہیں تو وہ مکمل طور پر اپنے کاروبار پر فوکس کریں۔ نام نہ شائع کرنے کی شرط پر سیلم پور رہائش پذیر نے بتایا کہ کم سے کم میں تو ایسا نہیں کر سکتا کہ گھر کے نیچے یا گلی میں واقع دکان پر بیس سے پچاس روپے کی جو کولڈرنک مل سکتی ہے گھر کے باہر دور وہ بھی دیر رات میں سو سے پانچ روپے کی قیمت میں خرید کر پی جائے۔ یہ ایک طرح سے فضول خرچی اور وقت کی بربادی ہے۔ایک صاحب نے نمائندے سے ہی سوال کرتے ہوئے بتایا کیا گھر والے رات کو دیر رات اپنے بچوں کو حقہ بار بھیجنا چاہیں گے۔ جہاں پر حقّے کے بہانے منشیات کا استعمال کیا جاتا ہو۔ جس میں چرس اور گانجے کا لوگوں کو شکار بنایا جاتا ہو اس کی اجازت کوئی بھی سماجی اور شعور رکھنے والاوالدنہیں دے سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آدھی آدھی رات کو بریانی کھانے کا کیا مطلب ہے۔ کیا اب اس طرح کے بچوں کے ساتھ والدین کے مزاج میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ جو آج کے معاشرے میں اپنے بچوں سے یہ سوال نہیں کر سکتے کہ آپ آدھی رات کو بریانی کھانے گھر سے باہر کیوں جا رہے ہیں۔ سماجی اور دینی طور پر بیدار لوگوں نے بتایا کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس سماج میں اور کسی بھی مذہب میں خاص طور پر اسلام میں راتوں کو بغیر ضرورت جاگنا غَلط بتایا ہے۔ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور ہمارے پیغمبر محمدؐ نے دن کو کام کے لیے مختص کیا ہے اور رات آرام کے لیے بنائی گئی ہے۔ ایک دوسرے صاحب کا کہنا ہے کہ سیلم پور پھل مارکیٹ میںجس طریقے سے دکانوں کے سامنے پیلی پٹی کھینچ کر نہ صرف دکانداروں بلکہ ٹھیلی اور ریڑٹھی لگانے والوں کے خلاف پولیس نے سختی دکھائی ہے۔ وہ بھی ایک تعریف والاکام کیا گیا ہے۔ پھل مارکٹ سے جس طرح ناجائز قبضوں کو ہٹاا گیا ہے ہم اس کی بھی ہمایت کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ اب ہماری بہن بیٹیوں سے اس مارکیٹ میں چھیڑجھاڑ نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالانکہ ہم اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس بازار میں آنے والی سیدھی شریف پردہ نشین خواتین کثرت سے خریداری کے لیے آتی ہیں اور ان کے ساتھ ہونے چھیڑ خانی کےمعاملات گذشتہ دنوں زیرو پائے گئے ہیں۔ کیا ہم لوگوں کو اس طرح کے کاموں کی تعریف نہیں کرنی چاہئے۔ حالانکہ سیلم پور ایس ایچ او کے ذریعے کئے گئے لاٹھی چارج پر ایک طبقہ ایسا بھی جو ناراضگی کا اظہار کر رہا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ پولیس کے ذریعہ کی گئی مارپیٹ کو کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔اس سے ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے شہری حقوق ہم سے چھینے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ سچائی ہے کہ پولیس کی اس کاروائی کو بڑی تعداد میں بہتر قرار دیا جا رہا ہے اور امن پسند لوگ اس کی بھرپور تعریف کر رہے ہیں اور اس الزام اعائد کر ہیں کہ جو لوگ پولیس کی اس کاروائی پر سوال کھڑے کر رہے ہیں ان کا کوئی نہ کوئی ذاتی مفاد ضرور جڑا ہوا ہے ورنہ کون نہیں چاہتا کہ سیلم پور میں امن و امان قائم رہے۔لوگوں نے مزید بتایا کہ دیر رات ہوٹلوں میں یا حقہ بار میں جانے کو کسی بھی لحاظ جائز قرار نہیں جاسکتا ہے۔ اور ہم امید کرتے ہیں کہ کم سے کم سیلم پور پولیس اس مہم کو آگے بھی جاری رکھے گی اور یہاں رہائش پذیر لوگوں کو راحت ملے گی۔












