• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, جولائی 28, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home ریاستی خبریں

پولیس کاروائی پر بھلے ہی کچھ لوگ سوال اٹھا رہے ہوں لیکن سیلم پور والے خوش

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 28, 2026
0 0
A A
پولیس کاروائی پر بھلے ہی کچھ لوگ سوال اٹھا رہے ہوں لیکن سیلم پور والے خوش
Share on FacebookShare on Twitter

صادق شروانی
نئی دہلی،سماج نیوز سروس: سیلم پور میں گذشتہ دنوں مقامی ایس ایچ او کے ذریعے دیر رات ہوٹل کے نام پر چلائی جانے والی پرانٹھوں کی دکان پر لاٹھی چارج سے ہنگامہ مچ گیا۔ جہاں ایک طرف سیلم پور ایس ایچ او نریش کمار سنگھ یادو کی اس کاروائی کو قانون کا بیجا استعمال بتایا گیا تو وہیں سیلم پور تھانہ پولیس کے ذریعہ کئے گئے لاٹھی چارج سے سیلم پور والوں میں خوشی دیکھی گئی اور لوگ سیلم پور ایس ایچ او کی طرف ٹکٹکی لگائے ہوئے ہیں کہ کیا آئندہ بھی سیلم پور ایس ایچ او کا یہی چہرہ یہی کردار ہمیشہ دیکھنے کو ملے گا یا وہ کاروباریوں، سیاستدانوں اور دیگر کریمنل کے آگے جھک جائیں گے اور اس مہم کو بند کر دیں گے۔’ہمارا سماج ‘کے نمائندے نے زمینی سطح پر لوگوں سے بات کرتے ہوئے جاننا چاہا کہ سیلم پور تھانے کا بطور ایس ایچ او حالیہ دنوں چارج لینے ولے یادو جی کے ذریعہ کی گئی کاروائی سے لوگ کہاں تک مطمئن ہیں اس کے ساتھ ہی کتنے لوگ پولیس کی اس کاروائی سے غیر مطمئن ہیں اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ جب لوگوں سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی والدین یا سرپرست ایسا نہیں ہوسکتا جو رات کو بارہ بجے اپنے بچوں بریانی کھانے یا کھلانے کے لیے پیسے دے کر گھر سے روانہ کر دے۔ انہوں نے کہا کہ میرے سمیت تمام والدین یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے رات میں اپنی پڑھائی لکھائی پر گھر میں وقت لگائیں اور اگر ان کی تعلیم مکمل ہوچکی ہے اور وہ کسی کاروبار سے وابستہ ہیں تو وہ مکمل طور پر اپنے کاروبار پر فوکس کریں۔ نام نہ شائع کرنے کی شرط پر سیلم پور رہائش پذیر نے بتایا کہ کم سے کم میں تو ایسا نہیں کر سکتا کہ گھر کے نیچے یا گلی میں واقع دکان پر بیس سے پچاس روپے کی جو کولڈرنک مل سکتی ہے گھر کے باہر دور وہ بھی دیر رات میں سو سے پانچ روپے کی قیمت میں خرید کر پی جائے۔ یہ ایک طرح سے فضول خرچی اور وقت کی بربادی ہے۔ایک صاحب نے نمائندے سے ہی سوال کرتے ہوئے بتایا کیا گھر والے رات کو دیر رات اپنے بچوں کو حقہ بار بھیجنا چاہیں گے۔ جہاں پر حقّے کے بہانے منشیات کا استعمال کیا جاتا ہو۔ جس میں چرس اور گانجے کا لوگوں کو شکار بنایا جاتا ہو اس کی اجازت کوئی بھی سماجی اور شعور رکھنے والاوالدنہیں دے سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آدھی آدھی رات کو بریانی کھانے کا کیا مطلب ہے۔ کیا اب اس طرح کے بچوں کے ساتھ والدین کے مزاج میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ جو آج کے معاشرے میں اپنے بچوں سے یہ سوال نہیں کر سکتے کہ آپ آدھی رات کو بریانی کھانے گھر سے باہر کیوں جا رہے ہیں۔ سماجی اور دینی طور پر بیدار لوگوں نے بتایا کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس سماج میں اور کسی بھی مذہب میں خاص طور پر اسلام میں راتوں کو بغیر ضرورت جاگنا غَلط بتایا ہے۔ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور ہمارے پیغمبر محمدؐ نے دن کو کام کے لیے مختص کیا ہے اور رات آرام کے لیے بنائی گئی ہے۔ ایک دوسرے صاحب کا کہنا ہے کہ سیلم پور پھل مارکیٹ میںجس طریقے سے دکانوں کے سامنے پیلی پٹی کھینچ کر نہ صرف دکانداروں بلکہ ٹھیلی اور ریڑٹھی لگانے والوں کے خلاف پولیس نے سختی دکھائی ہے۔ وہ بھی ایک تعریف والاکام کیا گیا ہے۔ پھل مارکٹ سے جس طرح ناجائز قبضوں کو ہٹاا گیا ہے ہم اس کی بھی ہمایت کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ اب ہماری بہن بیٹیوں سے اس مارکیٹ میں چھیڑجھاڑ نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالانکہ ہم اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس بازار میں آنے والی سیدھی شریف پردہ نشین خواتین کثرت سے خریداری کے لیے آتی ہیں اور ان کے ساتھ ہونے چھیڑ خانی کےمعاملات گذشتہ دنوں زیرو پائے گئے ہیں۔ کیا ہم لوگوں کو اس طرح کے کاموں کی تعریف نہیں کرنی چاہئے۔ حالانکہ سیلم پور ایس ایچ او کے ذریعے کئے گئے لاٹھی چارج پر ایک طبقہ ایسا بھی جو ناراضگی کا اظہار کر رہا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ پولیس کے ذریعہ کی گئی مارپیٹ کو کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔اس سے ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے شہری حقوق ہم سے چھینے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ سچائی ہے کہ پولیس کی اس کاروائی کو بڑی تعداد میں بہتر قرار دیا جا رہا ہے اور امن پسند لوگ اس کی بھرپور تعریف کر رہے ہیں اور اس الزام اعائد کر ہیں کہ جو لوگ پولیس کی اس کاروائی پر سوال کھڑے کر رہے ہیں ان کا کوئی نہ کوئی ذاتی مفاد ضرور جڑا ہوا ہے ورنہ کون نہیں چاہتا کہ سیلم پور میں امن و امان قائم رہے۔لوگوں نے مزید بتایا کہ دیر رات ہوٹلوں میں یا حقہ بار میں جانے کو کسی بھی لحاظ جائز قرار نہیں جاسکتا ہے۔ اور ہم امید کرتے ہیں کہ کم سے کم سیلم پور پولیس اس مہم کو آگے بھی جاری رکھے گی اور یہاں رہائش پذیر لوگوں کو راحت ملے گی۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    مئی 20, 2026
    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    مئی 20, 2026
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist