سرینگر، سرینگر کے درگا ہ حضرت بل علاقے میں دن دھاڑے آگ کی ایک ہولناک واردات میں سات رہائشی مکانات اور ایک شاپنگ کمپلیکس جل کر خاکستر ہو گیا ۔ آگ کی اس واردات میں لاکھوں روپے مالیت کا سامان راکھ کی ڈھیر میں تبدیل ہو گیا جبکہ کئی کنبے بے گھر ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطابق سرینگر کے درگارہ حضرت بل علاقے میں کشمیر یونیورسٹی کے بالکل باہر آگ کی ایک بھیانک واردات رونما ہوئی ۔ عین شاہدین کے مطابق کشمیر یونیورسٹی کے سرسید گیٹ کے بالکل سامنے شاپنگ کمپلیکس میں صبح تقریباً 11بجکر 45منٹ پر آگ اچانک نمودار ہوئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ہولناک رخ اختیا ر کر لی ۔ معلوم ہو اہے کہ آگ اس قدر بھیانک تھی کہ کمپلیکس کے دیگر حصوں میں پھیل گئی، جس میں ہیٹرک اور امیگوس سمیت کئی کھانے پینے کی دکانیں ہیں۔اسی دوران معلوم ہو اہے کہ مقامی لوگوں نے محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کو مطلع کیا جنہوں نے فوری طو رپر جائے واردات پر پہنچ کر آگ بجھانے کیلئے کارروائی شروع کر دی تاہم آگ بجھانے کیلئے کافی محنت و مشقت کرنی پڑی ۔ معلوم ہو اہے کہ آگ بھڑک اٹھی اور بہت سی دوسری دکانوں اور رہائشی مکانات تک پھیل گئی یہاں تک کہ کئی قریبی اسٹیشنوں سے فائر ٹینڈروں کو بروقت آگ پر قابو پانے کیلئے مدد کی گئی۔کئی گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا تاہم جب تک آگ پر قابو پا لیا گیا تب تک کم از کم سات رہائشی مکانات اور کئی دکانوں کو نقصان پہنچایا، جس میں ہیٹرک اور امیگوس فوڈ آؤٹ لیٹس بھی شامل ہیں، جو کہ ایک شاپنگ کمپلیکس کا حصہ ہے۔ محکمہ فائر اینڈ ایمرجننی کے ایک سنیئر اہلکار نے ا سکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آگ پر قابو پانے میں کئی گھنٹے لگے۔ اہلکار نے ساتھ ہی موٹرسائیکل سوار وں کے رویہ پر بھی افسوس کا اظہار کیا، جنہوں نے ان کے مطابق، فائر ٹینڈرز کی جانب سے سائرن بجانے کے باوجود سڑک کو بلاک کر دیا۔انہوں نے کہا کہ حکام کو اس پر غور کرنے اور ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فائر ٹینڈرز کی کسی بھی ہنگامی نقل و حرکت میں کسی بھی طرح سے رکاوٹ نہ آئے۔ ساتھ ہی پولس اہلکاروں کے ساتھ فائر ٹینڈرز کی تعیناتی اور اسکورٹ کرنا ایک قابل عمل چیز ہوسکتی ہے۔ اس دوران اہلکار نے بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی ہے تاہم کھانے پینے کی دکانوں میں گیس سلنڈر کے دھماکوں سے آگ اس حد تک بھڑک اٹھی۔
معلوم ہوا ہے کہ اس واقعہ میں جو کئی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ہے وہ جموں و کشمیر وقف بورڈ کی ملکیت ہے۔












