ناظم منصوری
مرادآباد ،سماج نیوز سروس: انڈین یونین مسلم لیگ کے قومی نائب صدر کوثر حیات خاں نے صحافیوں کو دئیے گئے بیان میں کہا کہ بنگلہ دیش میں دو ہندوؤں کے قتل پر ان دنوں ملک میں بڑا ہنگامہ برپا ہے اور بھارتی حکومت نے بنگلہ دیش سے سرکاری طور پر احتجاج بھی کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں دو ہندوؤں کا قتل یقیناً قابل مذمت ہے، اور احتجاج جائز ہے۔ تاہم دوسری طرف جب ہمارے اپنے ملک میں صرف ایک دو نہیں بلکہ بڑی تعداد میں مسلمانوں کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے ماب لنچنگ کے ذریعے شہید کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے روزانہ مارا پیٹا جاتا ہے اوردہشت گردوں کا ہجوم ایک مسلمان کو گھیر کر اس پر وحشیانہ حملہ کرتا ہے اور اس سے ہندو نعرے لگوائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ خواتین، بزرگوں اور بچوں کو بھی نہیں بخشا جاتا ہے، اس پر کوئی احتجاج نہیں کیا جاتا۔ نہ صرف حکومت مکمل طور پر خاموش رہتی ہے بلکہ سیکولر جماعتیں اکثر ایسے واقعات کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔حال ہی میں مایاوتی نے بھی بنگلہ دیش کے واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ مسلم ووٹوں سے حکومت بنانے والی مایاوتی کو اپنے ہی ملک میں مسلمانوں پر ہونے والا ظلم نظر نہیں آتا۔ مجلس علمائے ہند کے قومی صدر مفتی عبد المنان کلیمی نے بنگلہ دیش میں برپا سیاسی بحران اور وہاں ہندووں کے ساتھ کئے جا رہے بہیمانہ اور ظالمانہ سلوک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مانگ کی کہ وہ مداخلت کرے۔ اور بنگلہ دیشی ہندووں کو تحفظ فراہم کرانے کا اپنا فرض ادا کرے۔ مفتی عبد المنان کلیمی نے کہا کہ موجود ہ ترقیاتی سائنٹفک دور میں جہاں انسانی حقوق کو اولیت حاصل ہو چکی ہے مذہبی شدت پسندی اور غیر انسانی انتقامی کارروائیاں ناقابل برداشت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کا علمبردار ہے ،اور وہ جس قدر مذمت غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی کی کرتا ہے اتنا ہی افسوس اسے بنگلہ دیش کے مظلوم ہندووں کے ساتھ کئے جارہے جارحانہ انتقامی شدت پسندی پر بھی ہے۔ اور ان کے درد کو پوری شدت سے محسوس کرتا ہے۔ مجلس علمائے ہند کے قومی ترجمان مرزا مرتضیٰ اقبال نے کہا کہ ظلم اور بربریت کے لئے مہذ ب سماج میں کوئی جگہ نہیںہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر انتخابی جذبات کو سیراب کیا جانا انتہائی غلط عمل ہے۔ وہ خواہ غزا میں ہندوستان میں ہو ،پاکستان یا بنگلہ دیش میں ہو ، نا قابل برداشت ہے۔جس کی ہم شدت سے مذمت کرتے ہیں اورتمام سیاستدانوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بے قصورانسانوں کی لاشوںپر اپنی سیاسی روٹیاں سیکنا بند کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا بنگلہ دیشی ہندووں کے ساتھ کئے جارہے جارحانہ اور ظالمانہ برتاؤ پر افسوس کا اظہار کرنے سے زیادہ ہندوستان کے ہندووں کے ذہنوںمیں مسلمانوں کی نفرت پروان چڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جو غیر انسانی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔ مرزامرتضیٰ اقبال نے کہا کہ ساجد رشیدی جیسے لوگ مسلم مخالف عناصر اور مسلم مخالف الیکٹرانک میڈیا کے آلہ کار ہیں اور ان سے مسلم مخالف جو چاہتے ہیں کہلواتے ہیں ۔لہذا ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ساجد رشیدی کی رائے ہندوستانی مسلمانوں کی رائے نہیں ۔جبکہ ہم ہندوستانی مسلمان بنگلہ دیشی ہندووں کے بردست حامی اور ہمدرد ہیں، شدت پسند مسلمانوں کی مذمت کرتے ہیں۔












