دیوبند،سماج نیوزسروس: ہجری سال کے ساتویں مہینہ ماہ رجب المرجب کے شروع ہوتے ہی ملک بھر میں سلسلئہ چشتیہ کی خانقاہوں میں سلطان الہند شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی سنجری المعروف غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ تذکرہ وایصال ثواب ومحافل منقبت کا وسیع سلسلہ شروع ہوجاتاہے۔ اسی ضمن میں مظفرنگر کے معروف دینی ادارے شاہ ولی اللہ اسلامک اکیڈمی واقع جامع مسجد حوضوالی لوہیابازار میں بھی سالانہ خواجہ غریب نواز کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا ہے۔کانفرنس کا آغاز متعدد قراء وحفاظ کی تلاوت قرآن کریم وایصال ثواب وختم خواجگان سے ہو۔ا کانفرنس کی صدارت سابق ممبر اقلیتی کمیشن اترپردیش مفتی ذوالفقار علی قاسمی نے کی ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی روحانیت کے سرخیل اور انسانیت نواز روحانی پیشوا تھے، انکی ذات والا صفات سے لاکھوں انسانوں کو فیض پہچاہے اور آج بھی انکی بارگاہ ملک میں سب سے بڑی قومی یکجہتی و پیارومحبت اور امن آشتی کی علامت ہے ،سلطان الہند کی غریب نوازی وانسانیت سازی وامن آشتی کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے ۔کانفرنس کے کنوینر اور اکیڈمی کے بانی قاری محمد خالد بشیر قاسمی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا خواجہ غریب نواز کی سیرت وتعلیمات اور طرز تبلیغ سے نسل نو کو واقف کرانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ،خواجہ صاحب علیہ الرحمہ نے ہندوستان کو اپنا وطن و مسکن بنایا یہاں کی اقوام کو سینہ سے لگایا غریب نوازی و انسانیت سازی کو اپنا شغلہ بنایا بلاتفریق مذہب ملت ہر انسان سے پیارومحبت کا معاملہ کیا، امن وآشتی کی راہ اختیار کی تقریباً پیتالیس سال ملک کے صوبہ راجستھان کے اجمیر مقام پر عبادت وریاضت اور اسلام کی تبلیغ واشاعت میں مصروف عمل رہے۔ آپ سے برصغیر میں صوفیا کے معروف سلسلہ تصوف چشتیہ کا آغاز ہوا، جس کے ذریعہ بے شمار مخلوق خدا فیض یاب ہوئی ۔انہوں نے کہاکہ چونکہ سلسلہ تصوف کے ذریعہ قلوب و نفوس کے اتحاد امن ویکجہتی کے فروغ کو عام کیا جاتا ہے اسی وجہ سے اکیڈمی کی جانب سے غریب نواز کانفرنس کا انعقاد عمل میں آتاہے اور اسی مقصد کے تحت غریب نواز قومی یکجہتی ایوارڈ کا آغاز شروع کیا جارہاہے ۔جو آئندہ ہرسال ایسے اشخاص کو دیاجائے گا جو تصوف اور قومی یکجہتی کیلئے قابل ذکر خدمات انجام دیرہے ہوں گے ۔کانفرنس میں معروف نامور شعراء خاص طور پر عبد الحق سحر، ڈاکٹر تنویر گوہر ، ابوالکلام کلیم چرتھاولی ، ندیم اختر ، دانش قریشی نے شاندار نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔اس موقع پر شاہ ولی اللہ اسلامک اکیڈمی کی جانب سے سن 2026 کا دیدہ زیب کلینڈر کا اجراء بھی عمل میں آیا ۔اس دوران مولانا سیدفصیح حیدر، مولانا محمد جمشید، قاری نذر محمد، قاری شوکت علی، مفتی عبد الستار ماسٹر اختر خان، محبوب عالم ایڈوکیٹ، سہیل احمد خان، نواب دلشاد الہی اور عبد اللہ قریشی شامل رہے۔












