نئی دہلی، (یو این آئی) سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کے اُمید پورٹل میں تکنیکی خرابیوں کے الزامات پر مبنی ایک عرضی کی سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ ایک متولی کی جانب سے دائر اس عرضی میں وقف املاک کی معلومات اپ لوڈ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے مرکزی حکومت کے اُمید پورٹل میں تکنیکی نقائص کا الزام لگایا گیا تھا۔چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جمعہ کو عرضی مسترد کرتے ہوئے عرضی گزار کو شکایات کے ازالے کے لیے متعلقہ افسران سے رجوع کرنے کی آزادی دی۔بنچ نے کہا کہ ہمیں اس رِٹ عرضی پر سماعت کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی۔ عرضی گزار کو مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ وضاحت یا شکایات کے حل کے لیے مقررہ افسران سے رابطہ کریں۔ بنچ نے ابتدا میں یہ بھی سوال کیا کہ عرضی گزار نے ہائی کورٹ کے بجائے براہِ راست سپریم کورٹ سے کیوں رجوع کیا۔ اس پر عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئیں سینئر وکیل ڈاکٹر مینکا گروسوامی نے کہا کہ ہائی کورٹس ایسے معاملات کی سماعت سے ہچکچا رہی ہیں، کیونکہ وقف قانون میں 2025 کی ترامیم کو چیلنج کرنے والے معاملات پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس عرضی میں قانونی ضابطوں کو کسی بڑے چیلنج کے بجائے دراصل انتظامی مشکلات کے مسائل اٹھائے گئے ہیں، جنہیں ہائی کورٹ یا متعلقہ افسر دیکھ سکتے ہیں۔جسٹس باگچی نے کہا کہ وزارت نے واضح کیا تھا کہ وقف بائی سروے کو وقف بائی یوزر کے زمرے میں شامل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو محض ایک تکنیکی خرابی قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ درجہ بندی کی قانونی حیثیت سے جڑا ہوا ہے، جس پر عدالت میں پہلے ہی دیگر زیرِ التوا عرضیوں میں غور کیا جا رہا تھا۔بنچ نے کہا کہ عرضی گزار نے دراصل وقف بائی یوزر کے زمرے کے تحت معلومات اپ لوڈ کی تھیں اور ایک رجسٹرڈ وقف ہونے کے ناطے، اس طرح کی درجہ بندی سے حقوق میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔جسٹس باگچی نے یہ بھی واضح کیا کہ وقف کا رجسٹریشن پہلے سے موجودہ ضرورت تھی اور 2025 کی ترمیم میں صرف پورٹل پر ڈیٹا اپ لوڈ کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا۔عدالت نے کہا کہ رجسٹریشن اور اپ لوڈنگ دو الگ چیزیں ہیں۔ اپ لوڈنگ محض ڈیٹا انٹری ہے۔ مدھیہ پردیش کے ایک متولی نے آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت یہ رِٹ عرضی دائر کی تھی۔












